فیلڈ مارشل عاصم منیر تہران روانہ، ایرانی حکام سے امن معاہدے پر بات چیت متوقع
فیلڈ مارشل عاصم منیر تہران کے دورے پر روانہ ہوگئے ہیں جہاں ان کی ایرانی اعلیٰ حکام سے اہم ملاقاتیں متوقع ہیں۔ دورے میں خطے میں امن معاہدہ، سیکیورٹی تعاون اور باہمی دلچسپی کے امور پر مشاورت کی جائے گی۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر اپنے دورۂ ایران کے دوران ایرانی قیادت سے اہم ملاقاتیں کریں گے۔ ان ملاقاتوں میں خطے کی مجموعی سیکیورٹی صورتِ حال، امن کے امکانات اور دو طرفہ سیکیورٹی تعاون پر تفصیلی تبادلہ خیال متوقع ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ دورہ موجودہ علاقائی کشیدگی اور سیکیورٹی چیلنجز کے تناظر میں غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ مذاکرات میں پاکستان اور ایران کے درمیان سیکیورٹی تعاون، سرحدی امور اور خطے میں استحکام سے متعلق پہلوؤں پر بھی بات چیت کی جائے گی۔
دوسری جانب وزیر داخلہ محسن نقوی بھی اس وقت ایران میں موجود ہیں۔ انہوں نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات کی، جس میں خطے میں کشیدگی میں کمی اور امریکا کے ساتھ جاری صورتِ حال کے تناظر میں جنگ بندی اور سفارتی کوششوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ایرانی خبر ایجنسی کے مطابق ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے خطے میں پائیدار امن کے لیے مختلف سفارتی آپشنز اور ممکنہ طریقۂ کار پر غور کیا۔
اس سے قبل ایک ایرانی عہدیدار نے ’الجزیرہ‘ سے گفتگو میں کہا تھا کہ مذاکرات کار کسی ممکنہ معاہدے کے ’انتہائی قریب‘ پہنچ چکے ہیں اور ڈرافٹ معاہدے پر کام حتمی مراحل میں ہے۔
دو روز قبل العربیہ کی رپورٹ میں بھی دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ معاہدے کے مسودے کو حتمی شکل دینے کے لیے تیز رفتار پیش رفت جاری ہے اور ابتدائی ڈرافٹ پاکستانی ثالثی کے تحت تیار کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ معاہدے کے اعلان کا امکان آئندہ چند گھنٹوں میں ظاہر کیا جا سکتا ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کا اگلا دور حج سیزن کے بعد اسلام آباد میں ہونے کا امکان ہے، جہاں حتمی نکات پر مزید پیش رفت متوقع ہے۔
خیال رہے کہ جمعرات کے روز امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے مذاکرات کے حوالے سے محتاط امید کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ کچھ مثبت اشارے سامنے آئے ہیں، تاہم وہ زیادہ پرامید ہونے سے گریز کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق اگر ایران آبنائے ہرمز میں کسی قسم کا سخت کنٹرول یا ٹول سسٹم نافذ کرتا ہے تو کسی معاہدے تک پہنچنا مزید مشکل ہو سکتا ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان اور ایران کے درمیان سیکیورٹی اور علاقائی امور پر روابط معمول کے مطابق جاری رہتے ہیں، تاہم حالیہ علاقائی کشیدگی، خصوصاً امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے بعد کی صورتِ حال کے تناظر میں اعلیٰ سطحی سفارتی رابطے مزید اہمیت اختیار کر گئے ہیں۔













