زمین سے چاند تک کا سستا اور ایندھن بچانے والا انوکھا راستہ دریافت

ایک ایسا "پوشیدہ راستہ" ، جو پہلے سامنے نہیں آیا تھا۔
شائع 24 مئ 2026 12:40pm

سائنسدانوں نے زمین سے چاند تک سفر کے لیے ایک ایسا نیا راستہ دریافت کیا ہے جس سے خلائی مشنز میں ایندھن کی بڑی بچت ممکن ہوسکے گی۔ ماہرین کے مطابق یہ راستہ کششِ ثقل کو زیادہ مؤثر انداز میں استعمال کرتا ہے، جس سے مستقبل میں چاند تک کم خرچ اور زیادہ آسان سفر کی امید پیدا ہوگئی ہے۔

خلائی سفر سے متعلق خبروں کی ویب سائٹ اسپیس ڈاٹ کام کے مطابق سائنسدان ہمیشہ ایسے راستوں کی تلاش میں رہتے ہیں جن میں ایندھن کا استعمال کم ہو، کیونکہ ایندھن کی تھوڑی سی بھی بچت سے کروڑوں ڈالر بچائے جا سکتے ہیں۔

حال ہی میں بین الاقوامی محققین کی ایک ٹیم نے جدید کمپیوٹر ٹیکنالوجی کی مدد سے زمین اور چاند کے درمیان لاکھوں ممکنہ راستوں کا جائزہ لیا۔

ایسٹرو ڈائنامکس نامی سائنسی جریدے میں شائع ہونے والی اس تحقیق کے دوران تقریباً 3 کروڑ مختلف راستوں کی کمپیوٹر اسمولیشنز تیار کی گئیں، جن میں سے ہزاروں نتائج کا تفصیلی مطالعہ کیا گیا۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ خلا میں سفر کے دوران خلائی جہاز ہر وقت ایندھن استعمال نہیں کرتے بلکہ کئی مراحل پر زمین اور چاند کی کششِ ثقل سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اسی طریقہ کار کو استعمال کرتے ہوئے ماہرین نے ایک ایسا ”پوشیدہ راستہ“ دریافت کیا جو پہلے سامنے نہیں آیا تھا۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ ماضی میں چاند تک پہنچنے کے لیے زمین کے قریب والے راستے کو زیادہ موزوں سمجھا جاتا تھا، لیکن نئی تحقیق سے معلوم ہوا کہ مخالف سمت سے داخل ہونے والا راستہ زیادہ فائدہ مند اور کم خرچ ثابت ہوسکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق اس نئے راستے سے خلائی جہازوں کے ایندھن میں نمایاں کمی آئے گی۔ تحقیق میں بتایا گیا کہ اس طریقے سے پہلے کے مقابلے میں مزید ایندھن بچایا جاسکتا ہے، جس سے مستقبل کے خلائی مشنز پر آنے والے اخراجات کم ہوسکتے ہیں۔

سائنسدانوں نے یہ بھی کہا کہ یہ نیا راستہ زمین اور خلائی جہاز کے درمیان رابطہ برقرار رکھنے میں مددگار ہوسکتا ہے۔ بعض اوقات خلائی جہاز چاند کے پیچھے جانے کی وجہ سے زمین سے عارضی طور پر رابطہ کھو دیتے ہیں، تاہم نئی تجویز کردہ سمت اس مسئلے کو کم کرسکتی ہے۔

تحقیق کرنے والی ٹیم کا کہنا ہے کہ یہ راستہ ابھی حتمی حل نہیں بلکہ ابتدائی پیش رفت ہے۔ مستقبل میں سورج کی کششِ ثقل کو بھی تحقیق میں شامل کرکے مزید بہتر اور کم خرچ راستے تلاش کیے جاسکتے ہیں۔