تاجین، کیتوپت: دنیا میں عیدالاضحیٰ پر بننے والے خاص پکوان

عید الاضحیٰ کا اصل پیغام سنتِ ابراہیمی کے تحت اللہ کے نام پر جانوروں کی قربانی کرنا۔
شائع 26 مئ 2026 09:46am

عیدالاضحیٰ کے موقع پر پاکستان سمیت تمام مسلم ممالک میں مسلمان سنتِ ابراہیمی کی پیروی کرتے ہوئے جانور قربان کرتے ہیں اور اس کا گوشت غرباء، رشتہ داروں اور دوستوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ اس دن کا آغاز عید کی نماز سے ہوتا ہے جو کھلے میدانوں اور مساجد میں بڑے اجتماعات کی صورت میں ادا کی جاتی ہے۔ عیدالاضحیٰ کو بقرعید اور عیدِ قربان بھی کہا جاتا ہے۔

عیدالاضحیٰ صرف قربانی کا تہوار نہیں بلکہ دنیا بھر کے مسلمانوں کی رنگا رنگ ثقافتوں، ذائقوں اور روایات کا خوبصورت امتزاج بھی ہے۔ ہر ملک نے اس عید کو اپنے مخصوص انداز سے منفرد بنا دیا ہے۔ کہیں مصالحوں کی خوشبو سے صبح ہوتی ہے، کہیں اجتماعی دعوتیں سجتی ہیں، اور کہیں خاندان مل کر روایتی کھانے تیار کرتے ہیں۔ ایک ہی جذبہ اور پیغام ہونے کے باوجود دنیا بھر کی عیدیں اپنی ثقافتی جھلک میں ایک دوسرے سے بالکل مختلف محسوس ہوتی ہیں۔

پاکستان اور ہندوستان میں عید الاضحیٰ کا انداز ہم سب کے لیے جانا پہچانا ہے۔ گلیوں میں جانوروں کی رونق، گھروں میں کلیجی کا فوری ناشتہ، کچن میں پکتی بریانی اور رشتہ داروں کے ہاں گوشت بھیجنے کی روایت اس تہوار کو خاص بنا دیتی ہے۔ مگر دنیا کے دوسرے خطوں میں عید کے رنگ اپنے کھانوں اور روایات کے باعث اور بھی دلچسپ دکھائی دیتے ہیں۔ دنیا کے مختلف ممالک میں رہنے والے مسلمان اپنی اپنی ثقافت کے مطابق اس تہوار کو منفرد پکوانوں اور روایات کے ساتھ مناتے ہیں۔ چلیں اس ذائقہ بھرے سفر کا آغاز کرتے ہیں۔

ترکیہ

ترکیہ میں عید الاضحیٰ صرف قربانی تک محدود نہیں رہتی بلکہ یہاں ”کاورمہ“ بنانے کی روایت بہت مشہور ہے۔ قربانی کے تازہ گوشت کو اس کی اپنی چربی میں آہستہ آہستہ بھونا جاتا ہے تاکہ وہ کئی دن تک محفوظ رہ سکے۔
ترک خاندان عید کے پہلے دن ناشتے میں بھی گوشت کھانے کو معیوب نہیں سمجھتے، بلکہ لذیذ کاورمہ گرم روٹی کے ساتھ کھانا ایک خاص روایت مانی جاتی ہے۔

اسی طرح آذربائیجان اور کچھ وسطی ایشیائی ممالک میں بھی ملتی جلتی روایات موجود ہیں، اگرچہ وہاں مصالحوں اور پکانے کے انداز میں تھوڑا فرق پایا جاتا ہے۔

مراکش

مراکش میں عید الاضحیٰ کا سب سے خوبصورت پہلو ”تاجین“ ہے۔ یہ مٹی کا مخروطی ڈھکن والا برتن صدیوں سے مراکشی کھانوں کی جان سمجھا جاتا ہے۔

قربانی کے گوشت کو خشک خوبانی، آلو بخارے، بادام اور ہلکے مصالحوں کے ساتھ دھیمی آنچ پر پکایا جاتا ہے، جس سے میٹھا اور نمکین ذائقہ ایک ساتھ ابھرتا ہے۔

یہاں عید کے دن خاندان ایک ہی بڑے دسترخوان پر جمع ہو کر کھانا کھاتے ہیں، اور ہاتھ سے کھانا اب بھی روایت کا حصہ ہے۔
الجزائر اور تیونس میں بھی تاجین جیسی ڈشز مقبول ہیں، مگر مراکش کے کھانوں میں میٹھے خشک پھلوں کا استعمال انہیں الگ پہچان دیتا ہے۔

انڈونیشیا

دنیا کی سب سے بڑی مسلم آبادی والے ملک انڈونیشیا میں عید الاضحیٰ کا رنگ بے حد منفرد ہوتا ہے۔ یہاں ”کیتوپت“ عید کی خاص پہچان ہے۔
چاولوں کو ناریل کے پتوں سے بنی خوبصورت جالی دار ٹوکریوں میں بند کر کے پکایا جاتا ہے، جس کے بعد انہیں گوشت کے سالن یا ناریل والے شوربے کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ کئی علاقوں میں لوگ عید کے دن اجتماعی باورچی خانے بناتے ہیں جہاں پڑوسی اور دوست مل کر کھانا تیار کرتے ہیں۔
ملائیشیا اور برونائی میں بھی کیتوپت بہت مقبول ہے، اگرچہ وہاں اسے نسبتاً ہلکے مصالحوں کے ساتھ کھایا جاتا ہے۔

سعودی عرب

سعودی عرب میں عیدالاضحیٰ کے موقع پر بکرے یا اونٹ کے گوشت سے مختلف روایتی اور مزیدار پکوان تیار کیے جاتے ہیں۔ ان میں سب سے مشہور ڈشز کبسا، مندی، ہریس اور مدفون شامل ہیں، جو اپنی منفرد خوشبو اور ذائقے کی وجہ سے خاص پہچان رکھتی ہیں۔

کبسا سعودی عرب کا سب سے مقبول قومی کھانا ہے جو بکرے یا دنبے کے گوشت اور چاولوں کے ساتھ تیار کیا جاتا ہے۔ اس میں دار چینی، الائچی، لونگ اور زعفران جیسے مصالحے استعمال ہوتے ہیں جو اسے خاص ذائقہ دیتے ہیں۔

اس کے علاوہ ہریس ایک روایتی ڈش ہے جو پسے ہوئے گندم اور گوشت کے شوربے سے تیار کی جاتی ہے۔ یہ نرم، غذائیت سے بھرپور اور ہلکے ذائقے کی وجہ سے بہت پسند کی جاتی ہے۔

قطر، بحرین اور کویت میں بھی تقریباً یہی کھانے پسند کیے جاتے ہیں، البتہ ہر ملک اپنے مخصوص مصالحوں اور خوشبوؤں کے استعمال کے باعث ذائقے میں فرق رکھتا ہے۔

چین

چین کے مسلمان اکثریتی علاقوں، خصوصاً سنکیانگ میں، عید الاضحیٰ نہایت منفرد انداز سے منائی جاتی ہے۔ یہاں ”سانگزا“ نامی تلی ہوئی خستہ ڈش بہت مشہور ہے، جسے باریک آٹے کی لڑیوں سے بنا کر اہرام کی شکل دی جاتی ہے۔

عید کے موقع پر لوگ روایتی لباس پہنتے ہیں، گھروں کو سجاتے ہیں اور بڑی تعداد میں اجتماعی میل ملاقات کرتے ہیں۔
یہاں کھانوں میں مصالحے نسبتاً کم لیکن گوشت اور آٹے کی بنی اشیاء زیادہ استعمال ہوتی ہیں، جو وسطی ایشیائی ثقافت کی جھلک پیش کرتی ہیں۔

اسی طرح قازقستان اور کرغزستان کے کچھ علاقوں میں بھی آٹے اور گوشت سے بنی سادہ مگر بھرپور ڈشز عید کا اہم حصہ سمجھی جاتی ہیں۔

ازبکستان

ازبکستان میں عید الاضحیٰ کا تصور پلاؤ کے بغیر ادھورا سمجھا جاتا ہے۔ بڑے دیگچوں میں چاول، گوشت، گاجر اور مصالحے ملا کر تیار کیا جانے والا یہ پکوان سینکڑوں لوگوں کو ایک ساتھ کھلایا جا سکتا ہے۔

اس کے علاوہ یہاں ”مندی“ یعنی بھاپ میں پکے گوشت بھرے ڈمپلنگز خاص اہمیت رکھتے ہیں۔

قازقستان اور کرغزستان میں بھی پلو اور منتی بے حد مقبول ہیں، اگرچہ ہر خطہ اپنی مقامی جڑی بوٹیوں اور گوشت کے انتخاب سے ذائقہ بدل دیتا ہے۔

عید کا اصل پیغام

دنیا کے کسی بھی کونے میں چلے جائیں، عید الاضحیٰ کا اصل پیغام ایک ہی رہتا ہے اور وہ ہے سنتِ ابراہیمی کے تحت اللہ کے نام پر جانوروں کی قربانی کرنا۔ باہمی محبت اور حسنِ معاشرت اور احساس کے ساتھ فرائض ادا کرنا۔

کلچر میں فرق ایک حسن ہے، کہیں ناریل کے پتوں میں لپٹے چاول ہیں، کہیں مٹی کے برتنوں میں پکتا گوشت، کہیں باربی کیو کی خوشبو ہے ، کہیں لذیذ پلاؤ اوع بریانی اور کہیں بکرے یا دنبے کے گوشت کو چاولوں کے ساتھ تیار کیا جاتا ہے۔ یہی تنوع اس تہوار کو مزید خوبصورت بناتا ہے۔