ابراہم معاہدہ کیا ہے، اب تک کتنے ملک اس میں شامل ہو چکے ہیں؟

پاکستان نے اس معاہدہ کا حصہ بننے اور اسرائیل کو تسلیم کرنے سے صاف انکار کردیا ہے۔
شائع 26 مئ 2026 11:05am

امریکا اور ایران کے درمیان طویل عرصے سے جاری تنازع کو ختم کرنے کے لیے ان دنوں سفارتی کوششیں تیز ہو چکی ہیں اور دونوں فریقین کسی امن معاہدے کے انتہائی قریب دکھائی دے رہے ہیں۔ اسی دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک نیا مطالبہ سامنے رکھ کر دنیا کو حیران کر دیا ہے۔ انہوں نے مسلم ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کرنے کے لیے ابراہم معاہدے یعنی ابراہم اکارڈز کو قبول کریں اور اس پر دستخط کر دیں۔ امریکی صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک بیان جاری کرتے ہوئے تمام اسلامی ممالک سے اس معاہدے کا حصہ بننے کا مطالبہ کیا ہے۔

امریکی صدر نے اپنے پیغام میں چند اہم ترین مسلم ممالک کا نام لیتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب، قطر، پاکستان، ترکیے اور دیگر ممالک ابراہم معاہدے پر دستخط کریں، جبکہ اس کا آغاز سعودی عرب اور قطر سے ہونا چاہیے۔ صدر ٹرمپ کا ماننا ہے کہ شاید ایک یا دو ممالک کے پاس اس معاہدے میں شامل نہ ہونے کی کوئی ٹھوس وجہ ہو سکتی ہے اور اسے قبول بھی کیا جائے گا، لیکن مجموعی طور پر سب کو اس کا حصہ بننا چاہیے۔

انہوں نے اس معاہدے کے فوائد گنواتے ہوئے مزید کہا کہ جن ممالک نے اس معاہدے پر دستخط کیے، یہ ان کے لیے مالی، معاشی اور سماجی ترقی کا ایک انقلاب ثابت ہوگا، اور یہ ایک ایسی دستاویز ہوگی جس کا احترام دنیا میں اب تک دستخط ہونے والی کسی بھی دستاویز سے زیادہ کیا جائے گا۔

تاہم، پاکستان نے اس معاہدہ کا حصہ بننے اور اسرائیل کو تسلیم کرنے سے صاف انکار کردیا ہے۔

اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ ابراہم اکارڈ آخر ہے کیا اور اب تک کتنے مسلم ممالک اس کا حصہ بن چکے ہیں؟

دراصل امریکا کی طرف سے مسلمانوں، یہودیوں اور عیسائیوں کے درمیان ایک بڑی صلح کرانے کا یہ تصور سب سے پہلے سنہ 2020 میں سامنے آیا تھا۔

اس کا بنیادی مقصد ان تینوں بڑے مذاہب، بالخصوص مسلم دنیا اور اسرائیل کے درمیان دیرینہ دشمنی کو ختم کر کے صلح کرانا تھا، جسے ابراہم معاہدے کا نام دیا گیا۔

یہ معاہدہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ اقتدار میں طے پایا تھا، جو اسرائیل اور عرب ممالک کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے مختلف معاہدوں کا ایک مجموعہ ہے۔

اس کا اصل مقصد مشرقِ وسطیٰ میں اسرائیل اور مسلمان ممالک کے درمیان ایک دوسرے کے ہاں سفارت خانے کھولنا اور معاشی، تجارتی اور سیکیورٹی کے شعبوں میں تعلقات قائم کرنا ہے۔

اس تاریخی اکارڈ کا آغاز متحدہ عرب امارات اور بحرین کی طرف سے اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کرنے سے ہوا تھا۔

ان دونوں ممالک کے بعد مراکش اور سوڈان نے بھی اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات کو بحال کرنے کے لیے اس معاہدے پر دستخط کیے۔

اس کے بعد گزشتہ سال امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ اعلان بھی کیا تھا کہ قازقستان نے بھی باضابطہ طور پر معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت اختیار کرلی ہے۔

اسرائیل نے ان معاہدوں کو عرب اور مسلم دنیا میں اپنی سفارتی قبولیت کے ایک بہت بڑے مرحلے کے طور پر دیکھا ہے، لیکن دوسری طرف فلسطینی قیادت اور کئی بڑے مسلم ممالک کے نزدیک بنیادی سوال ہمیشہ یہی رہا ہے کہ اس سب کے بعد فلسطین کے دیرینہ مسئلے اور ان کے حقوق کا کیا ہوگا؟

جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے، تو پاکستان کا سرکاری، عوامی اور آئینی مؤقف ہمیشہ سے انتہائی واضح اور مستقل رہا ہے۔

پاکستان کا ماننا ہے کہ اسرائیل کو اس وقت تک کسی صورت تسلیم نہیں کیا جا سکتا جب تک فلسطینیوں کو سنہ 1967 سے پہلے کی سرحدوں کے مطابق ایک مکمل آزاد اور خودمختار ریاست نہیں مل جاتی، جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔

پاکستان کی یہ پوزیشن صرف ایک عارضی سفارتی پالیسی نہیں بلکہ تاریخی اور آئینی نوعیت کی ہے۔

بانیِ پاکستان قائدِ اعظم محمد علی جناح کے دور سے لے کر آج تک پاکستان کی تمام حکومتیں اور ریاستی ادارے فلسطینیوں کے حقِ خودارادیت کی حمایت پر مضبوطی سے قائم ہیں، یہی وجہ ہے کہ پاکستان نے امریکی صدر کے اس حالیہ مطالبے کو بھی یکسر مسترد کر دیا ہے۔