وزیرِ تعلیم کو نہ ہٹایا تو استعفے کی تحریک مودی تک جائے گی، ابھیجیت دیپکے

کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی صدر کا کہنا ہے کہ کروڑوں طلبہ سے زیادہ کوئی وزیر اہم نہیں، عوام انتخابات میں جواب دیں گے۔
اپ ڈیٹ 23 جولائ 2026 09:32pm

بھارت میں طلبہ تحریک کی قیادت کرنے والی کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) نے وزیراعظم نریندر مودی کو خبردار کیا ہے کہ اگر وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کو برطرف نہ کیا گیا تو احتجاج کا رخ براہِ راست وزیراعظم کے استعفے کی جانب ہو جائے گا۔

نئی دہلی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی صدر ابھیجیت دیپکے نے کہا کہ وہ ایک مرتبہ پھر وزیراعظم نریندر مودی سے مطالبہ کرتے ہیں کہ دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ قبول کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ اگر حکومت نے ایسا نہ کیا تو معاملہ صرف وزیرِ تعلیم کے استعفے تک محدود نہیں رہے گا بل کہ وزیراعظم کے استعفے کا مطالبہ بھی زور پکڑے گا۔

ابھیجیت دیپکے نے کہا کہ ایک ناکام اور نااہل وزیر اس ملک کے کروڑوں طلبہ سے زیادہ اہم نہیں ہو سکتا۔ اگر حکومت ایک ناکام وزیر کو طلبہ کے مستقبل پر ترجیح دیتی ہے تو عوام انتخابات میں اس کا جواب دیں گے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ بھارت کے کروڑوں نوجوان موجودہ تعلیمی پالیسیوں اور امتحانی نظام سے شدید مایوس ہیں اور حکومت کو ان کے تحفظات کا فوری ازالہ کرنا چاہیے۔

سی جے پی کی قیادت نے واضح کیا کہ طلبہ تحریک اس وقت تک جاری رہے گی جب تک حکومت ذمہ داروں کے خلاف کارروائی اور وزیرِ تعلیم کی برطرفی سمیت مطالبات تسلیم نہیں کرتی۔

واضح رہے کہ نئی دہلی میں طلبہ کا احتجاج پیر کے روز پولیس کے سخت کریک ڈاؤن کے باوجود جاری رہا۔ ہزاروں نوجوان پارلیمنٹ کی جانب مارچ کر رہے تھے، تاہم پولیس نے انہیں روکنے کے لیے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا استعمال کیا۔ جھڑپوں کے دوران 100 سے زائد طلبہ زخمی جب کہ درجنوں مظاہرین کو حراست میں لے لیا گیا۔

مظاہرے میں شریک طلبہ کا کہنا ہے کہ پولیس تشدد اور گرفتاریوں کے باوجود ان کے حوصلے پست نہیں ہوئے۔ کئی زخمی طلبہ علاج کے بعد دوبارہ احتجاج میں شامل ہو رہے ہیں اور مطالبات کی منظوری تک تحریک جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کر رہے ہیں۔

یہ احتجاج کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے پلیٹ فارم سے کیا جا رہا ہے، جس کا آغاز مئی میں سوشل میڈیا پر طنزیہ مہم کے طور پر ہوا تھا۔ اب یہ تحریک نوجوان طلبا کی بڑی تحریک بنتی جا رہی ہے، جو امتحانی پرچوں کے بار بار لیک ہونے کے معاملے پر وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے اور تعلیمی نظام میں اصلاحات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

گزشتہ روز اپوزیشن جماعت کانگریس نے بھی وزیراعظم نریندر مودی کی رہائش گاہ کے باہر احتجاج کیا تھا۔ اس موقع پر پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے کانگریس رہنما راہول گاندھی اور پریانکا گاندھی سمیت متعدد کارکنوں کو حراست میں لینے کے بعد رہا کر دیا تھا۔

نئی دہلی میں جاری طلبہ تحریک کو اب صرف نوجوانوں ہی نہیں بل کہ مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد، سماجی کارکنوں اور فنکاروں کی بھی حمایت حاصل ہو رہی ہے، جس سے احتجاج کا دائرہ مزید وسیع ہوتا جا رہا ہے۔

دارالحکومت کے احتجاجی مقام جنتر منتر پر ملک بھر اور بیرونِ ملک سے مسلسل امداد بھی پہنچ رہی ہے۔ فوڈ ڈیلیوری سروسز اور موٹر سائیکل سوار رضاکار دن بھر کھانا، پھل، بسکٹ، پانی اور دیگر ضروری سامان مظاہرین تک پہنچا رہے ہیں۔

تعلیمی نظام میں اصلاحات اور وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کے مطالبے سے شروع ہونے والی یہ تحریک اب مودی حکومت کے لیے ایک بڑا سیاسی چیلنج بنتی جا رہی ہے۔ اگرچہ احتجاج گزشتہ ماہ سے جاری ہے، تاہم معروف سماجی کارکن سونم وانگ چک کی بھوک ہڑتال اور حالیہ پولیس کریک ڈاؤن کے بعد اس تحریک میں نمایاں شدت آ گئی ہے۔