آبنائے ہرمز اور باب المندب میں کشیدگی، خام تیل 100 ڈالر فی بیرل عبور کر گیا

بحیرۂ احمر اور آبنائے ہرمز میں کشیدگی، حوثیوں کے حملوں اور امریکی دھمکیوں نے عالمی منڈی کو ہلا دیا۔
شائع 23 جولائ 2026 08:08pm

مشرقِ وسطیٰ میں ایران، امریکا اور حوثیوں کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت دوبارہ 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق سعودی تیل کی ترسیل، بحیرۂ احمر اور آبنائے ہرمز میں بڑھتے خطرات نے توانائی کی عالمی منڈی کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔

برطانوی اخبار ’دی گارجین‘ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت دو ماہ بعد ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گئی ہے، جس کی بنیادی وجہ مشرقِ وسطیٰ میں تیزی سے بگڑتی ہوئی سیکیورٹی صورت حال، ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی کشیدگی اور بحیرۂ احمر میں حوثیوں کی کارروائیاں قرار دی جا رہی ہیں۔

رواں سال مارچ میں امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر فضائی حملوں کے بعد بھی برینٹ خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر چلی گئی تھی، جب کہ اپریل میں یہ بڑھ کر تقریباً 126 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی تھی۔

بعد ازاں جنگ بندی کی امیدوں کے باعث قیمتیں مئی کے آخر میں 100 ڈالر سے نیچے آگئیں اور جولائی کے آغاز میں تقریباً 71 ڈالر فی بیرل تک گر گئی تھیں، تاہم امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت ناکام ہونے اور نئی فوجی کشیدگی کے بعد تیل کی قیمتوں میں دوبارہ تیزی دیکھی جا رہی ہے۔

’دی گارجین‘ کے مطابق برینٹ خام تیل کی قیمت میں نمایاں اضافہ اس وقت دیکھنے میں آیا جب یمن کے ایران نواز حوثیوں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے بحیرۂ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں اینسیلیا اور لیلہ کو میزائلوں اور ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں ایک ٹینکر میں آگ لگ گئی۔

حوثیوں نے الزام لگایا کہ دونوں جہاز ان کی جانب سے عائد بحری ناکا بندی کی خلاف ورزی کر رہے تھے، جب کہ اس حملے کے بعد عالمی سطح پر تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات مزید بڑھ گئے۔

ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز کے بعد اگر بحیرۂ احمر بھی غیر محفوظ ہو گیا تو سعودی عرب کے لیے تیل برآمد کرنے کے متبادل راستے بھی شدید خطرات سے دوچار ہو جائیں گے، جس کے اثرات پوری دنیا کی توانائی منڈی پر مرتب ہوں گے۔

گزشتہ روز برینٹ خام تیل تقریباً پانچ فی صد اضافے کے بعد 95 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا تھا، جب کہ امریکی خام تیل بھی 89 ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچ گیا تھا۔

صرف جولائی کے دوران خام تیل کی قیمتوں میں تقریباً 25 فی صد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جب کہ سال کے آغاز سے اب تک یہ اضافہ 50 فی صد سے زیادہ ہو چکا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر تہران نے آبنائے ہرمز میں کسی بھی جہاز پر حملہ کیا تو امریکا ایران کے اہم انفراسٹرکچر، بشمول پلوں اور بجلی گھروں، کو نشانہ بنائے گا۔

دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کا کہنا تھا کہ امریکا اب بھی ایران کے ساتھ سفارتی رابطوں کے لیے تیار ہے، تاہم تہران اس وقت سنجیدہ دکھائی نہیں دیتا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا عالمی تجارتی جہازوں کے تحفظ کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا اور کسی بھی صورت بین الاقوامی بحری راستوں پر حملے برداشت نہیں کیے جائیں گے۔

ادھر ایران کی وزارت داخلہ کے ترجمان نے کہا تھا کہ اگرچہ اس وقت کوئی باضابطہ مذاکرات نہیں ہو رہے، تاہم دونوں ممالک کے درمیان پیغامات کا تبادلہ جاری رہ سکتا ہے۔

توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر خطے میں کشیدگی مزید بڑھی یا بحیرۂ احمر اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی متاثر ہوئی تو خام تیل کی قیمتیں مزید بلند ہو سکتی ہیں، جس کے نتیجے میں دنیا بھر میں ایندھن، ٹرانسپورٹ اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔