عیدالاضحیٰ: اناڑی قصائیوں کی وہ غلطیاں جو گوشت کو بدبودار اور خراب بنا دیتی ہیں

ماہرین نے گوشت کاٹتے وقت اسے خراب ہونے سے بچانے کے آسان طریقے بتا دیے!
شائع 27 مئ 2026 11:32am

مئی کے آخری ہفتے میں آنے والی اس عید الاضحیٰ پر ملک بھر میں شدید گرمی اور حبس کا راج ہے۔ کہیں سورج آگ برسا رہا ہے تو کہیں ہوا میں نمی کی وجہ سے درجہ حرارت چالیس ڈگری سے اوپر محسوس ہو رہا ہے۔ ایسے سخت موسم میں قربانی کے تازہ گوشت کو محفوظ کرنا اور اس کی لذت کو برقرار رکھنا کسی بڑے چیلنج سے کم نہیں ہے۔ اس موقع پر مارکیٹ میں سرگرم اناڑی اور موسمی قصائیوں کی چھوٹی سی غفلت جہاں گوشت کو بدبودار اور سخت کر سکتی ہے، وہیں یہ صحت کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔

مہنگائی کے اس دور میں عید پر بہت سے ناتجربہ کار لوگ قصائی بن جاتے ہیں جس کا سب سے بڑا نقصان گھریلو خواتین کو اٹھانا پڑتا ہے۔اگر قصائی پیشہ ور ہو تو عید اچھی گزرتی ہے، ورنہ موسمی قصائی تو گوشت کا کباڑا کر کے چلا جاتا ہے اور آپ کے مسائل وہیں سے شروع ہو جاتے ہیں۔

اناڑی قصائی بوٹیاں بہت بڑی کاٹتے ہیں، چربی الگ نہیں کرتے اور جانور کا خون اچھی طرح نہ نکلنے کی وجہ سے گوشت کو دھونا اور صاف کرنا عذاب بن جاتا ہے۔

قربانی کے بعد سب سے بہتر تو یہ ہوتا ہے کہ گوشت کو پھیلا کر ہوا لگا کر ٹھنڈا کیا جائے، پھر اس کے پیکٹس بنائے جائیں۔ اس سے پہلے جب جانور ذبح کیا جائے تو کاٹنے کے بعد اسے الٹا کر کے لٹکایا جائے تاکہ خون گوشت سے نکل جائے۔ جتنا گوشت میں سے خون نکال دیں گے اتنا ہی وہ جلدی گلے گا اور بساند بھی نہیں ہو گی۔ ناتجربہ کار قصائی اسی اہم نکتے کو چھوڑ دیتے ہیں۔

جیسے ہی گوشت کے ٹکڑے بنیں، انہیں کسی پلاسٹک کی شیٹ یا اسٹیل کے بڑے تھال میں پھیلا کر اوپر پنکھا چلا دیں تاکہ اس کا درجہ حرارت کم ہو جائے۔ بہت سے لوگ گرم گوشت کو فوری طور پر شاپروں میں بند کر کے فریج میں ٹھونس دیتے ہیں، جس سے اندر تک ٹھنڈک نہیں پہنچ پاتی اور گوشت اندر ہی اندر گل کر بو چھوڑ جاتا ہے۔

گوشت کو لپیٹنے کے لیے اخبار یا عام کاغذ کا استعمال انتہائی مضرِ صحت ہے۔ اخبار کی سیاہی گوشت پر لگ جاتی ہے اور براؤن پیپر باہر کی آلودگی اور نمی کو اپنے اندر جذب کر لیتا ہے، اس لیے گوشت فریز کرنے کے لیے ہمیشہ ایئر ٹائٹ اور چھوٹے پیکٹس کا استعمال کریں تاکہ وہ جلدی جم جائے اور جراثیم سے محفوظ رہے۔

گوشت لپیٹنے کے لیے بٹر پیپر کا استعمال بہت بہتر ہے کیونکہ تھیلی ہوا کو بالکل بند کر دیتی ہے جبکہ بٹر پیپر میں گوشت کو سانس لینے کی جگہ ملتی ہے۔

تازہ گوشت پر سے خون اور بال صاف کرنا بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ گوشت کو ایک کھلے برتن میں ڈال کر پانی بھر دیں، جس سے بال تیر کر اوپر آ جاتے ہیں، یہ عمل دو تین بار دہرانے سے گوشت صاف ہو جاتا ہے۔

گوشت اور کلیجی میں سرکہ اور کٹا ہوا لہسن لگا کر پندرہ منٹ کے لیے رکھ دیں اور پھر دھوئیں، اس سے خون بھی صاف ہو جائے گا اور بساند بالکل ختم ہو جائے گی۔

اسی طرح کلیجی کو پکانے سے پہلے پانی میں تقریباً آدھا گھنٹہ چھوڑ دیں اور پھر اس کو چھلنی میں ڈال کر خون کو اچھی طرح نکلنے دیں تو وہ صاف ہو جاتی ہے۔

اس کے علاوہ، قصائیوں کی جلد بازی کی وجہ سے گوشت میں شامل ہونے والا ہڈیوں کا باریک چورا دانتوں اور مسوڑھوں کو شدید زخمی کر سکتا ہے۔ اگر ہڈیاں چورا ہو گئی ہیں تو دھوتے وقت انہیں نکال دیں، یا پھر پلاؤ کی صورت میں یخنی کو لازمی چھان لیں اور قورمے کی صورت میں گوشت کو پہلے ابال کر پانی چھان لیں تاکہ ہڈیوں کا چورا نیچے بیٹھ جائے۔

ایک اہم بحث یہ بھی ہے کہ گوشت کو دھو کر فریز کیا جائے یا بغیر دھوئے؟ تو گوشت کو دھو کر رکھنے سے وہ جلدی خراب ہوتا ہے اور فریزر میں پانی رسنے سے گندگی پھیلتی ہے، اس لیے گوشت کو پنکھے کے نیچے سکھا کر ہی فریز کریں اور پکانے سے پہلے دھوئیں۔

اتنی بڑی مقدار میں گوشت دھونا بھی ممکن نہیں ہوتا، خاص کر ان علاقوں میں جہاں پانی کی کمی ہے۔ البتہ فریز کرنے سے پہلے گوشت پر سے اضافی چربی اور غدود (گلینڈز) لازمی نکال دینے چاہئیں۔

گرم موسم میں ذبح ہونے کے دو گھنٹے کے اندر گوشت کو بانٹ دیں یا فریز کر دیں، ورنہ بیکٹیریا کی افزائش شروع ہو جائے گی۔

گوشت کو کبھی تیز پانی کی دھار کے نیچے نہ دھوئیں کیونکہ اس سے اڑنے والی چھینٹیں پورے سنک اور باورچی خانے میں ای کولی اور سالمونیلا جیسے خطرناک بیکٹیریا پھیلا دیتی ہیں، جو پیٹ کی بیماریوں کا سبب بنتے ہیں۔

گوشت کے سخت ہونے اور اس میں سے مخصوص بو آنے کی ایک بڑی وجہ جانور کا ذہنی دباؤ یا سٹریس بھی ہے۔ جس کی وجہ جانور کو گھسیٹا جانا یا ایک کے سامنے دوسرے کو ذبح کیا جانا ہے۔

جب ناتجربہ کار قصائی جانور کو بھگاتے ہیں یا گھسیٹتے ہیں تو خوف کی وجہ سے گائے یا بکرے کے اندر لیکٹک ایسڈ جمع ہونا شروع ہو جاتا ہے، جس سے اس کے مسلز کھنچ جاتے ہیں اور گوشت سخت اور بدبودار ہو جاتا ہے۔

اس لیے قربانی کے جانور کو پہلے ریلیکس کریں، اس کو پانی پلائیں، پیار کریں تاکہ وہ سٹریس سے نکلے اور مہارت سے ذبح کروائیں تاکہ گوشت نرم اور لذیذ بنے۔

جب بھی کچے گوشت کو ہاتھ لگائیں، تو عالمی ادارہ صحت کی ہدایات کے مطابق ہاتھوں کو بیس سیکنڈ تک صابن سے لازمی دھوئیں اور گوشت کاٹنے والی چھری سے فوری طور پر پھل یا سبزی کاٹنے سے گریز کریں۔

عید کے دنوں میں کچن اور گھر کو صاف رکھنے کے لیے قربانی کے بعد خون کو سکریپر سے اکھٹا کر کے کچی مٹی میں دبا دیں اور کچن کے کاؤنٹرز کو سرکے، سوڈے اور ڈش واشنگ مائع کے اسپرے سے بار بار صاف کرتے رہیں۔