بھارت میں طلبا کا احتجاج: پیپر لیک تنازع میں سلمان خان کا نام بھی آگیا
بولی ووڈ سپر اسٹار سلمان خان نے سوشل میڈیا پر ایک تفصیلی پیغام جاری کرتے ہوئے نیٹ یعنی ڈاکٹری کے امتحان کا پرچہ لیک ہونے کے معاملے پر احتجاج کرنے والے طالب علموں کی کھلم کھلا حمایت کی ہے، جس کے بعد ان کی ایک پرانی ویڈیو سوشل میڈیا پر دوبارہ وائرل ہو گئی ہے، جس میں وہ اپنے اسکول کے زمانے سے متعلق ایک دلچسپ واقعے کا ذکر کرتے نظر آتے ہیں۔
سلمان خان نے پرچہ لیک کو ایک انتہائی سنجیدہ اور بڑا مسئلہ قرار دیتے ہوئے مظاہرین پر پولیس کے تشدد اور جھڑپوں پر گہرے دکھ کا اظہار کیا۔ انہوں نے اپنے پیغام میں لکھا، ”یہ ایک بہت ہی پرامن احتجاج تھا اور مجھے یہ دیکھ کر بہت دکھ ہوا کہ اس نے پرتشدد روپ دھار لیا۔ میری تمام تر ہمدردیاں ان زخمی بچوں اور ان کے خاندانوں کے ساتھ ہیں۔“
انہوں نے مزید لکھا کہ،”پرچہ لیک ہونا بہت بڑا مسئلہ ہے اور مجھے خوشی ہے کہ ہمارے ملک کے بچے ایک بہتر تعلیمی نظام کے لیے متحد ہوئے ہیں اور ان کے والدین بھی ان کا ساتھ دے رہے ہیں۔“
انہوں نے یہ بھی اپیل کی کہ اس معاملے کو کسی سیاسی فائدے کے لیے استعمال نہ کیا جائے اور تمام کریڈٹ صرف محنت کرنے والے طالب علموں کو ہی ملنا چاہیے۔
سلمان خان کے اس بیان کے فوراً بعد جہاں کئی لوگوں نے ان کی تعریف کی، وہیں انٹرنیٹ پر ان کی ایک پرانی ویڈیو دوبارہ وائرل ہو گئی جس میں ان کے والد سلیم خان نے شو کے دوران ایک پرانا واقعہ سنایا تھا۔
کپل شرما کے شو کی اس پرانی ویڈیو میں سلیم خان نے ہنستے ہوئے بتایا تھا، ”ہمارے گھر میں گنیش نام کا ایک شخص آتا تھا جسے سب بہت عزت دیتے تھے، چائے اور کرسی پیش کرتے تھے۔ میں سوچتا تھا کہ آخر یہ کون ہے جسے مجھ سے بھی زیادہ عزت مل رہی ہے؟ بعد میں مجھے معلوم ہوا کہ جب امتحان کا پرچہ لیک ہوتا تھا تو وہ ان بچوں کو لا کر دیتا تھا۔“
اسی ویڈیو میں سلمان خان نے مسکراتے ہوئے خود بھی یہ بات مانی تھی کہ وہ پرچہ ان کا ہی تھا اور اسی کی وجہ سے وہ اسکول کے کچھ امتحانات میں پاس ہوئے تھے۔
اس پرانی ویڈیو کے سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر بحث چھڑ گئی ہے اور لوگ اداکار کے اس دہراؤ پر سوال اٹھا رہے ہیں۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ جو شخص خود پرچہ لیک کا فائدہ اٹھا کر پاس ہوا ہو، وہ آج اسی مسئلے پر بول رہا ہے۔
دوسری طرف سلمان خان کے چاہنے والوں اور حامیوں کا کہنا ہے کہ وہ ان کے بچپن اور اسکول کے دنوں کا ایک مذاق تھا، جبکہ آج کا معاملہ لاکھوں بچوں کے مستقبل اور بڑے مقابلے کے امتحانات سے جڑا ہوا ہے، اس لیے دونوں باتوں کا اپس میں کوئی مقابلہ نہیں۔
یہ تنازع ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کاکروچ جنتا پارٹی اور ہزاروں طالب علم نیٹ کا پرچہ لیک ہونے کے خلاف سڑکوں پر احتجاج کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان استعفیٰ دیں اور جن بچوں نے اس بحران سے تنگ آ کر اپنی جانیں گنوائی ہیں ان کے خاندانوں کو مالی مدد دی جائے۔
پچھلے دنوں دہلی میں مظاہرے کے دوران پولیس اور طالب علموں کے درمیان سخت جھڑپیں بھی ہوئی تھیں، جس کے بعد بولی ووڈ شخصیات بھی میدان میں آگئیں۔ نصیر الدین شاہ، شبانہ اعظمی، راج کمار راؤ اور انوراگ کشیپ جیسی متعدد شوبز شخصیات بچوں کے حق میں آواز اٹھا چکی ہیں۔
















