غزہ کی تعمیر نو کے لیے قائم ٹرمپ فنڈ خالی ہونے کا انکشاف

اربوں ڈالر کے وعدوں کے باوجود عالمی بینک کے زیر انتظام فنڈ خالی، فنانشل ٹائمز کا انکشاف
شائع 28 مئ 2026 12:00am

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے زیر قیادت غزہ کی تعمیر نو کے لیے قائم ’بورڈ آف پیس‘ کے سرکاری فنڈ میں اب تک کوئی رقم جمع نہیں ہوسکی، حالانکہ مختلف ممالک کی جانب سے اربوں ڈالر کے وعدے کیے گئے تھے۔

خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق بورڈ آف پیس سے واقف ایک ذریعے نے بتایا ہے کہ غزہ کی تعمیر نو کے لیے قائم سرکاری فنڈ، جو عالمی بینک کے زیر انتظام اور اقوام متحدہ کی حمایت یافتہ ہے، اب تک عطیہ دہندگان کی جانب سے کسی رقم وصول نہیں کر سکا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس بورڈ کا تصور غزہ میں جنگ بندی کے بعد تعمیر نو کے مقصد سے پیش کیا تھا۔ اسرائیل اور حماس کے درمیان امریکی حمایت یافتہ جنگ بندی اکتوبر میں طے پائی تھی تاکہ دو سال سے جاری تباہ کن جنگ کا خاتمہ ممکن بنایا جا سکے۔

رپورٹ کے مطابق فنڈ میں رقم اس لیے جمع نہیں کرائی گئی کیونکہ یہ فنڈ تعمیر نو اور ترقی کے مرحلے کے لیے مخصوص ہے، جب کہ غزہ میں ابھی وہ مرحلہ شروع نہیں ہو سکا۔ اسرائیلی فوجی کارروائیاں جنگ بندی کے باوجود جاری ہیں اور غزہ کی وزارت صحت کے مطابق جنگ بندی کے بعد بھی کم از کم 910 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل اب بھی غزہ کے تقریباً 60 فی صد علاقے اور تمام داخلی و خارجی راستوں پر کنٹرول رکھتا ہے، جب کہ بڑی آبادی ساحلی علاقوں تک محدود ہو چکی ہے۔

دوسری جانب فنانشل ٹائمز نے رپورٹ کیا کہ بورڈ آف پیس نے جے پی مورگن کے ایک اکاؤنٹ میں براہِ راست عطیات وصول کیے ہیں۔ تاہم رپورٹ کے مطابق اس اکاؤنٹ کے لیے کوئی آزاد شفافیت یا نگرانی کا نظام موجود نہیں۔

بورڈ آف پیس نے سوشل میڈیا بیان میں کہا کہ عالمی بینک کے زیر انتظام فنڈ کئی ممکنہ مالیاتی ذرائع میں سے صرف ایک ہے، جسے اب تک عطیہ دہندگان نے استعمال نہیں کیا، جبکہ بورڈ کی فنڈنگ دیگر ذرائع سے جاری ہے۔

رپورٹ کے مطابق فرانس اور برطانیہ سمیت کئی بڑی یورپی طاقتوں نے بورڈ میں شامل ہونے سے انکار کیا، جبکہ اس میں زیادہ تر امریکا کے مشرقِ وسطیٰ میں قریبی اتحادی، ٹرمپ کے نظریاتی حامی اور چھوٹے ممالک شامل ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ اس بورڈ میں مرکزی حیثیت رکھتے ہیں اور بورڈ کے چارٹر کے مطابق حتمی اختیار انہی کے پاس ہوگا۔ ٹرمپ پہلے اعلان کر چکے ہیں کہ امریکا 10 ارب ڈالر فراہم کرے گا، جبکہ قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے کم از کم ایک ایک ارب ڈالر دینے کا وعدہ کیا تھا۔

یورپی یونین اور اقوام متحدہ کی اپریل میں جاری مشترکہ رپورٹ کے مطابق جنگ سے تباہ حال غزہ کی تعمیر نو کے لیے آئندہ 10 برسوں میں 71 ارب ڈالر سے زائد رقم درکار ہوگی، جبکہ اقوام متحدہ نے غزہ کی انسانی صورتحال کو ’’انتہائی تشویشناک‘‘ قرار دیا ہے۔