قیدیوں پر جنسی تشدد: اقوام متحدہ کی بلیک لسٹ میں اسرائیل کا نام شامل
اقوام متحدہ نے جنسی تشدد کے تنازعات والے علاقوں میں مرتکب افراد کی بلیک لسٹ میں اسرائیل کو شامل کر دیا ہے۔
عرب نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق اس بات کا انکشاف اسرائیل کے اقوام متحدہ میں سفیر ڈینی ڈینن نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنی ایک پوسٹ میں کیا، جس میں انہوں نے کہا کہ عالمی ادارے نے اسرائیل کو اس فہرست میں شامل کرنے کا سیاسی فیصلہ کیا ہے۔
اقوام متحدہ کی جانب سے یہ فیصلہ سامنے آنے کے بعد ڈینی ڈینن نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ یہ ایک سیاسی فیصلہ ہے! حقائق اور زمینی حقیقت سے مکمل طور پر کٹا ہوا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل نے اقوام متحدہ کی رپورٹس کی تردید کے لیے شواہد بھی جمع کرائے ہیں۔
اسرائیل کے میڈیا رپورٹس کے مطابق اس فہرست میں دیگر اسرائیلی حکام کے ساتھ ساتھ اسرائیلی جیل سروس کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
بعد ازاں اسرائیلی سیاستدانوں کی جانب سے اس فیصلے پر سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ سابق فوجی جنرل اور سیاستدان بینی گینٹز نے اقوام متحدہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس ادارے نے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ یہ ایک یہود مخالف اور منافقانہ ادارہ ہے جو شدید اخلاقی اندھے پن کا شکار ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اقوام متحدہ کے جھوٹے خون کے الزامات اور اسرائیلی فوج و ریاست کے خلاف بہتان ہماری راہ کو نہیں بدل سکتے۔
اسی طرح سابق اسرائیلی سفیر برائے اقوام متحدہ گلعاد اردان نے کہا کہ اقوام متحدہ ایک کرپٹ اور بگڑا ہوا ادارہ ہے، اس سے کسی بہتری کی توقع نہیں کی جا سکتی۔
اس سے قبل الجزیرہ نے بھی اپنی رپورٹس میں بتایا تھا کہ فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی فورسز کی جانب سے جنسی تشدد اور بدسلوکی کے واقعات سامنے آئے ہیں، جن میں غزہ پر جاری جنگ کے بعد اضافہ دیکھا گیا ہے۔
الجزیرہ کی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ یہ الزامات اسرائیلی فوجی کارروائیوں سے منسلک ہیں، جن میں حالیہ عرصے کے دوران اضافے کی نشاندہی کی گئی ہے۔













