ایرانی تیل کی ترسیل: امریکا نے 8 بحری جہازوں اور 15 عالمی کمپنیوں کو بلیک لسٹ کر دیا
امریکا نے ایران کے خلاف نئی اقتصادی پابندیوں کا اعلان کرتے ہوئے تہران کی مبینہ ’خفیہ آئل اکانومی‘ کو نشانہ بنایا ہے۔ امریکا کا الزام ہے کہ ایران تیل کی غیر قانونی تجارت کے ذریعے پاسدارانِ انقلاب، فوجی سرگرمیوں اورخطے میں سرگرم اتحادی گروہوں کی مالی معاونت کر رہا ہے۔
امریکا نے ایرانی تیل کی تجارت کے خلاف نئی پابندیوں کا اعلان کرتے ہوئے متعدد بحری جہازوں، کمپنیوں اور اداروں کو بلیک لسٹ کر دیا ہے۔
یہ اقدام ایسے وقت سامنے آیا ہے جب واشنگٹن اور تہران کے درمیان جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی پر عائد پابندیاں نرم کرنے سے متعلق عارضی اتفاق رائے پیدا ہونے کی خبریں زیرِ گردش ہیں، تاہم صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تاحال اس معاہدے کی حتمی منظوری نہیں دی ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹومی پیگوٹ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری بیان میں کہا کہ امریکا ایران کے خفیہ بحری بیڑے اور غیر قانونی تیل کے نیٹ ورک کو نشانہ بنا رہا ہے، اس مہم کو انہوں نے ’اکنامک فیوری‘ کا نام دیا۔
انہوں نے کہا کہ ان نئی پابندیوں کا مقصد اربوں ڈالر کی اس آمدن کو روکنا ہے جو مبینہ طور پر پاسدارانِ انقلان، ایران کے اتحادی گروہوں اور امریکا کے شراکت داروں پر حملوں کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق ان نئی پابندیوں میں وہ ادارے، افراد اور بحری جہاز شامل ہیں جن پر ایرانی تیل اور پیٹروکیمیکل مصنوعات کی ترسیل میں ملوث ہونے کا الزام ہے۔
بیان کے مطابق آٹھ اداروں پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں جب کہ آٹھ بحری جہازوں کو ایرانی پیٹرولیم یا پیٹروکیمیکل مصنوعات کی ترسیل پر ’بلاکڈ پراپرٹی‘ قرار دیا گیا ہے۔ ان جہازوں میں مارشل آئی لینڈ کا پرچم بردار آئل ٹینکر ’فلورا‘، کوموروس کا ’ہوانکایو‘ اور پاناما کا ’اِل گیپ‘ بھی شامل ہیں۔
امریکہ نے مزید 15 سے زائد اداروں اور کمپنیوں پر بھی پابندیاں عائد کی ہیں، جن میں ہانگ کانگ میں قائم ’ورتھ سین انرجی لمیٹڈ‘، دبئی کی ’’سمفنی شپنگ اینڈ میری ٹائم مینجمنٹ‘ اور ہانگ کانگ ہی کی ’مہدی یوف ٹریڈنگ کمپنی‘ شامل ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ ’ورتھ سین‘ نامی کمپنی ایران کی ’سہ پہر انرجی جہاں‘ کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی خرید و فروخت میں ملوث ہے، جو ایرانی مسلح افواج کے جنرل اسٹاف کا تیل فروخت کرنے والا ادارہ ہے۔
واشنگٹن نے عالمی کمپنیوں اور تاجروں کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کی غیر قانونی تیل تجارت یا ایرانی توانائی مصنوعات سے تعاون کرنے والے کسی بھی ادارے کو امریکی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ امریکا دنیا میں کہیں بھی ایسے عناصر کے خلاف کارروائی سے گریز نہیں کرے گا جو ایران کو اپنے ہمسایہ ممالک یا اپنے شہریوں کے خلاف کارروائیوں کے لیے مالی وسائل فراہم کرتے ہیں۔
امریکی محکمہ خارجہ نے ’ریوارڈز فار جسٹس‘ پروگرام کا بھی حوالہ دیا، جس کے تحت ’پاسدارانِ انقلاب‘ اور اس کی ذیلی تنظیم ’قدس فورس‘ کی مالی سرگرمیوں سے متعلق معلومات فراہم کرنے پر ڈیڑھ کروڑ ڈالر تک انعام دینے کی پیشکش کی گئی ہے۔
امریکی حکام نے پاسداران انقلاب پر عالمی سطح پر متعدد حملوں اور سرگرمیوں کی مالی معاونت جب کہ قدس فورس پر بیرون ملک ایران کی کارروائیوں کی نگرانی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ عسکری گروہ خطے کی دیگر ایران نواز ملیشیاؤں سے بھی روابط رکھتا ہے۔
دوسری جانب امریکا اور ایران کے درمیان جوہری پروگرام اور افزودہ یورینیم کے ذخیرے سے متعلق اہم نکات پر مذاکرات جاری ہیں جب کہ ممکنہ مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر مکمل اتفاق کا حتمی اعلان تاحال سامنے نہیں آیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق دونوں ملکوں کے درمیان معاملات پر بڑی حد تک اتفاق ہوچکا ہے تاہم صدر ٹرمپ کی حتمی منظوری کا انتظار کیا جارہا ہے، جس کے بعد جنگ بندی میں توسیع اور ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات شروع کیے جائیں گے جب کہ ٹرمپ نے ثالثوں کو بتایا ہے کہ انہیں معاہدے پر غور کرنے اور دستخط کرنے کے لیے چند دن درکار ہیں۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے مذاکرات سے متعلق یہی ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اب تک جو پیش رفت ہوئی ہے وہ حوصلہ افزا ہے، اب ایران کی نیک نیتی نظر آرہی ہے تاہم صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس معاہدے کی توثیق کریں گے یا نہیں، اس بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہے۔















