ایران کا ٹرمپ پر غداری کا الزام، آبنائے ہرمز میں روس اور چین کے لیے خصوصی رعایت کا اعلان
ایران کی پارلیمان کی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے ایک اہم اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران نے آبنائے ہرمز میں اپنے قریبی شراکت دار ممالک چین اور روس کو خصوصی تجارتی و بحری سہولتیں دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
ابراہیم عزیزی نے تہران میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ خطے کی موجودہ صورتحال کے پیشِ نظر آبنائے ہرمز سے گزرنے والے روسی اور چینی جہازوں کے ساتھ خصوصی تعاون کیا جائے گا۔
ابراہیم عزیزی کا کہنا تھا کہ تہران اپنے تمام شراکت دار ممالک کے ساتھ ترجیحی بنیادوں پر تعاون جاری رکھے گا تاکہ باہمی اقتصادی اور تجارتی مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
ابراہیم عزیزی نے پاکستان اور ایران کے سفارتی تعلقات کا تذکرہ کرتے ہوئے بتایا کہ ایران اور پاکستان کے درمیان ہونے والے حالیہ مشاورتی اجلاس انتہائی اہم اور تعمیری رہے ہیں۔
اس کے ساتھ ہی، انہوں نے جاری بین الاقوامی مذاکرات کے حوالے سے ایک بڑے نکتے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ان تمام مذاکرات میں افزودہ یورینیئم کی کسی دوسرے ملک منتقلی کا معاملہ بالکل بھی زیرِ بحث نہیں آیا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ یورینیئم کی منتقلی کا یہ معاملہ امریکا کے ساتھ ہونے والے کسی بھی قسم کے رابطوں یا پیغامات میں بھی شامل نہیں ہے، اور ایران اپنے جوہری حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
دوسری طرف، ایران کے سپریم لیڈر کے سینئر مشیر محسن رضائی نے موجودہ صورتحال پر سخت موقف اپناتے ہوئے امریکی حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
محسن رضائی نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ تاریخ میں تیسری بار سفارت کاری کے ساتھ غداری کر رہے ہیں۔
انہوں نے موجودہ زمینی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکا کی جانب سے آبنائے ہرمز میں بحری ناکہ بندی اب بھی بدستور جاری ہے، جو ان کے امن کے دعوؤں کے برعکس ہے۔
محسن رضائی نے امریکا کے ساتھ جاری پسِ پردہ مذاکرات کی حقیقت بتاتے ہوئے کہا کہ امریکا نے ان مذاکرات میں ایران کے سامنے بہت زیادہ سخت اور ناقابلِ قبول مطالبات رکھے ہیں۔
انہوں نے امریکی نیت پر شک کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا کہ امریکہ دراصل کسی پرامن ڈیل یا معاہدے میں سنجیدہ نہیں ہے، بلکہ وہ ان مذاکرات کی آڑ میں خطے میں کوئی اور سیاسی اور عسکری مقاصد حاصل کرنا چاہتا ہے۔











