پولیس افسر پر ریپ کیس کے ملزم کو سہولیات دینے کا الزام لگانے والی خاتون اہلکار کی آج نیوز سے گفتگو
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں سیریل ریپ کیس کی خاتون تفتیشی افسر سب انسپکٹر روبینا بلوچ نے اپنے ہی محکمے کے افسران پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ ان کے الزامات سامنے آنے کے بعد اعلیٰ پولیس حکام نے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے انکوائری کا حکم دے دیا ہے۔
کراچی میں سیریل ریپ کیس کی تفتیش کرنے والی خاتون پولیس افسر سب انسپکٹر روبینا بلوچ کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی ہے، جس میں انہوں نے اپنے ہی محکمہ پولیس کے افسران پر سنگین نوعیت کے الزامات لگائے ہیں۔
روبینا بلوچ نے دعویٰ کیا کہ سیریل ریپ کیس کی تفتیش کے دوران ڈی ایس پی نیپیئر ظفر اقبال نے مرکزی ملزم کو غیر معمولی سہولیات فراہم کیں اور تھانے کو مبینہ طور پر ’’گیسٹ ہاؤس‘‘ میں تبدیل کر دیا گیا تھا۔
خاتون تفتیشی افسر کے مطابق تھانے میں معمول کے سرکاری امور انجام دینے کے لیے بھی مبینہ طور پر رقم ادا کرنا پڑتی ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ روزنامچہ استعمال کرنے، تفتیش کے لیے کرسی حاصل کرنے یا تھانے سے متعلق دیگر سہولیات کے استعمال کے عوض بھی ادائیگی کرنا ہوتی ہے۔
روبینا بلوچ کا کہنا تھا کہ یہ رقوم مبینہ طور پر ڈی ایس پی ظفر اقبال کو دی جاتی ہیں۔ تاہم ان الزامات پر متعلقہ افسران کا مؤقف سامنے نہیں آیا۔
دوسری جانب سوشل میڈیا پر تھانہ نیپئر سے متعلق وائرل لیڈی پولیس آفیسر کی ویڈیو کا ایڈیشنل آئی جی کراچی آزاد خان نے فوری نوٹس لے لیا۔ ترجمان کراچی پولیس کے مطابق ایڈیشنل آئی جی کراچی نے ڈی آئی جی ساؤتھ سے واقعے کی تفصیلی رپورٹ طلب کرتے ہوئے حقائق پر مبنی انکوائری مکمل کر کے رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
جس کے بعد ڈی آئی جی ساؤتھ نے معاملے کی انکوائری کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔ پولیس حکام کے مطابق الزامات کی مکمل تحقیقات کی جائیں گی اور انکوائری رپورٹ کی روشنی میں مزید کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے تک الزامات کو ابتدائی دعوے تصور کیا جائے گا اور تمام متعلقہ فریقوں کا مؤقف بھی سنا جائے گا۔
سوشل میڈیا پر ویڈیو وائرل ہونے کے بعد صارفین کی جانب سے اس معاملے پر مختلف ردعمل سامنے آ رہے ہیں۔ بعض صارفین نے خاتون افسر کے الزامات کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ حقائق جاننے کے لیے انکوائری رپورٹ کا انتظار کیا جانا چاہیے۔
مبصرین کے مطابق پولیس محکمے کے اندرونی معاملات سے متعلق اس نوعیت کے الزامات نے محکمانہ احتساب، شفافیت اور تفتیشی نظام کی کارکردگی پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انکوائری کے نتائج ہی یہ طے کریں گے کہ الزامات میں کس حد تک حقیقت ہے اور آیا اس معاملے میں مزید کارروائی کی ضرورت ہے یا نہیں۔
















