باپ بچے کے نان نفقے کی ذمہ داری سے دستبردار نہیں ہو سکتا: لاہور ہائیکورٹ

نان نفقہ نابالغ بچے کا مستقل حق ہے، اسے کسی سمجھوتے یا راضی نامے کے ذریعے ختم نہیں کیا جا سکتا: عدالت
شائع 02 جون 2026 02:00pm

لاہور ہائیکورٹ نے نان و نفقہ سے متعلق ایک کیس میں قرار دیا ہے کہ مالی تنگی یا کوئی نجی معاہدہ بھی باپ کی اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری کو ختم نہیں کر سکتا ہے۔

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے نان و نفقہ سے متعلق کیس میں اختر حسین اعوان نامی شہری کی درخواست مسترد کرتے ہوئے تاریخی تحریری فیصلہ جاری کیا ہے، جس میں قرار دیا گیا ہے کہ مالی تنگی یا کوئی نجی معاہدہ بھی باپ کی اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری کو ختم نہیں کر سکتا۔

یہ اپیل بچے کے والد اختر حسین اعوان کی جانب سے دائر کی گئی تھی، جس میں فیملی کورٹ اور اپیلٹ کورٹ کے فیصلوں کو چیلنج کیا گیا تھا جن میں نابالغ نصیر اختر اعوان کی جانب سے اپنی والدہ کے ذریعے دائر کردہ نان نفقے کے دعوے کو منظور کیا گیا تھا۔

درخواست گزار کا مؤقف تھا کہ 2007 میں فریقین کے درمیان ایک راضی نامہ طے پایا تھا، جس کے تحت 60 ہزار روپے کی ادائیگی کے بعد طے ہوا تھا کہ مستقبل میں مزید کسی خرچے کا تقاضہ نہیں کیا جائے گا۔ اس لیے اب دوبارہ خرچے کا دعویٰ قانوناً جائز نہیں ہے۔

درخواست گزار نے عدالت کو بتایا کہ 2019 میں دائر کیا جانے والا نیا مقدمہ قانونی مدت ختم ہونے کے بعد قابل سماعت نہیں تھا، کیونکہ ایک ہی معاملے پر دوبارہ فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔

درخواست گزار نے عدالت سے راضی نامے کی خلاف ورزی پر بچے کی والدہ پرایک کروڑ روپے جرمانہ عائد کرنے کی استدعا کی تھی۔

تاہم جسٹس محسن اختر کیانی نے یہ مؤقف مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ ایسے معاہدے جو نابالغ بچے کو مستقبل میں نان نفقے کے حق کے استعمال سے روکیں، قانوناً مؤثر نہیں ہیں۔

عدالت نے قرار دیا کہ اگرچہ ماضی کے واجبات کے بارے میں سمجھوتہ کیا جا سکتا ہے لیکن زیرِ کفالت نابالغ بچے کے مستقبل کے نان نفقے کے حق سے دستبرداری ممکن نہیں ہے۔

فیصلے میں کہا گیا کہ نابالغ بچے کا نان نفقہ ایک مسلسل اور جاری رہنے والا حق ہے اس لیے اس پر ’ریس جوڈی کیٹا‘ کا اصول لاگو نہیں ہوتا۔

عدالت کے مطابق خوراک، لباس، رہائش، تعلیم، علاج اور دیگر بنیادی ضروریات کی فراہمی باپ کی مستقل ذمہ داری ہے۔

جسٹس کیانی نے فیصلے میں لکھا کہ ’ہر باپ اپنی بیوی اور نابالغ بچوں کی کفالت کا قانونی اور اخلاقی طور پر پابند ہے۔ یہ ذمہ داری اختیاری نہیں بلکہ قانون اور اسلامی تعلیمات کے تحت اس پر عائد کی گئی ہے‘۔

عدالت نے قرآنِ مجید اور احادیثِ نبوی ﷺ کے حوالہ جات دیتے ہوئے قرار دیا کہ باپ کسی ایسے نجی معاہدے کے ذریعے اس الٰہی فریضے سے دستبردار نہیں ہو سکتا جو نابالغ بچے کی فلاح و بہبود کے خلاف ہو۔

عدالت نے مزید قرار دیا کہ قانونِ تحدیدِ دعویٰ کی دفعہ 120 نابالغ بچے یا دورانِ ازدواج بیوی کے ماضی کے نان نفقے کے دعوؤں پر لاگو نہیں ہوتی۔

لاہور ہائیکورٹ نے درخواست خارج کرتے ہوئے ہدایت کی کہ فیصلے کی نقل لاء اینڈ جسٹس کمیشن آف پاکستان اور وزارتِ قانون و انصاف کو ارسال کی جائے تاکہ نان نفقے کے مقدمات میں مدتِ دعویٰ سے متعلق قوانین کا اسلامی اصولوں کی روشنی میں جائزہ لیا جا سکے اور ضروری اصلاحات پر غور کیا جائے۔