جزیرہ نکوبار: بھارت کا چین کے خلاف ’آبنائے ہرمز‘ طرز کا اسٹریٹجک منصوبہ

بھارت کے بعض حلقوں کا خیال ہے کہ اس منصوبے کے ذریعے بھارت جب چاہے چین کی معاشی لائف لائن کو کاٹ سکتا ہے
اپ ڈیٹ 04 جون 2026 06:45pm

ایران امریکا جنگ کے نتیجے میں خلیجِ فارس میں واقع بحری چوک پوائنٹ ’آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد بھارت کے جنوب میں واقع جزائر میں سے ایک ’گریٹ نکوبار‘ بھی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ بھارتی حکومت اس جزیرے کو اہم بحری، تجارتی اور اسٹریٹجک مرکز میں تبدیل کرنے کے لیے تقریباً 11 ارب ڈالر مالیت کے منصوبے پر کام کر رہی ہے، جسے چین مخالف حکمت عملی کا حصہ قرار دیا جارہا ہے۔

گریٹ نکوبار جزیرہ گھنے بارانی جنگلات، خوبصورت ساحل اور جنگلی حیات سے مالامال ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ جزیرہ جغرافیائی طور پر بھارتی سرزمین کے مقابلے میں انڈونیشیا سے زیادہ قریب ہے۔

اس جزیرے اور بھارت کی قریب ترین ریاست تامل ناڈو کے درمیان تقریباً 1600 کلومیٹر کا فاصلہ ہے۔ اس کے مقابلے میں انڈونیشیا کے جزیرے سماترا سے یہ محض 150 سے 180 کلومیٹر کی دوری پر ہے۔

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت نے یہاں ایک میگا پروجیکٹ کی منظوری دی ہے جس کے تحت نکوبار جزیرے پر ٹرانس شپمنٹ بندرگاہ، جدید انٹرنیشنل ایئرپورٹ، بجلی گھر، سیاحتی مقامات اور ساڑھے تین لاکھ افراد کے لیے نئی بستی قائم کی جائے گی۔

ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی جغرافیائی اہمیت کو سفارتی اثرورسوخ کے لیے استعمال کیے جانے کے بعد بعض بھارتی دفاعی ماہرین نے یہ خیال بھی پیش کیا کہ اس منصوبے کے ذریعے مستقبل میں چین اور بھارت کے درمیان کشیدگی کی صورت میں بھارت جب چاہے چین کی لائف لائن کاٹ سکتا ہے۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ ’گریٹ نکوبار‘ جزیرہ آبنائے ملاکا کے قریب واقع ہے جو مشرق وسطیٰ، یورپ اور مشرقی ایشیا کے درمیان تجارتی رابطے کے لیے اہم ترین بحری راستہ ہے۔ چین اپنی خام تیل کی تقریباً 80 فیصد درآمدات اور دو تہائی تجارت کے لیے اسی راستے پر انحصار کرتا ہے۔

166 مربع کلومیٹر پر محیط اس منصوبے کو تین دہائیوں میں مکمل کیا جائے گا جبکہ اس کا پہلا مرحلہ 2028 تک مکمل ہونے کی توقع ہے۔

ابتدائی طور پر حکومت نے اس منصوبے کو سمندری تجارت اور معاشی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے ضروری قرار دیا تھا، تاہم عالمی ماحولیاتی اداروں اور بھارتی اپوزیشن کی بڑھتی ہوئی تنقید کے بعد حکومت نے اس کے اسٹریٹجک اور دفاعی پہلوؤں کو زیادہ نمایاں کرنا شروع کر دیا ہے۔

بھارتی میڈیا میں ’نکوبار منصوبے‘ کو بھارتی فوج کے لیے چین کے ’انڈو پیسیفک‘ خطے میں بڑھتے ہوئے اثرورسوخ کی نگرانی کے لیے بھی اہم قرار دیا جارہا ہے۔

چین تجارتی مقاصد کے لیے بھارت کے پڑوسی ممالک کی بندرگاہوں کا بھی استعمال کرتا ہے۔ جن میں پاکستان کی گوادر، سری لنکا کی ہیمبنٹوٹا اور میانمار بندرگاہ شامل ہے، جنہیں نقشے پر دیکھا جائے تو بھارت کے اطراف گھیراؤ سے معلوم ہوتا ہے، یہی وجہ ہے کہ انہیں ’اسٹرنگ آف پرلز‘ (موتیوں کی مالا) کہا جاتا ہے۔

بھارتی بحریہ کے سابق نائب سربراہ شیکھر سنہا نے بعض دفاعی ماہرین کی جانب سے اس علاقے کو آبنائے ہرمز کی طرز پر چین پر دباؤ کے لیے استعمال کرنے کے امکانات کو مسترد کیا ہے۔

شیکھر سنہا کے مطابق ’گریٹ نکوبار‘ آبنائے ملاکا میں ہر قسم کی بحری سرگرمیوں کی نگرانی کے لیے انتہائی موزوں مقام ہے۔ ان کے مطابق آبنائے ہرمز ایران اور عمان کے زیرِ اختیار ہے جب کہ آبنائے ملاکا بنیادی طور پر انڈونیشیا کے دائرۂ اختیار میں آتی ہے۔ لہٰذا اس منصوبے کو آبنائے ہرمز کی طرز پر دباؤ کے لیے استعمال میں لانے کا خیال درست نہیں ہے۔

نکوبار کے اردگرد بھارت کے زیرِ انتظام 21 مزید جزائر ہیں، جنہیں ’انڈامان اور نکوبار جزائر‘ کہا جاتا ہے۔ ان جزائر میں سے صرف 12 آباد ہیں۔ ’گریٹ نکوبار‘ ان جزائز میں سب سے بڑا جزیرہ ہے جہاں ’شومپین‘ اور ’نکوباری‘ قبیلے آباد ہیں جو نسلی طور پر منگول ہیں لیکن ان کا رہن سہن اور ثقافت ایک دوسرے سے مختلف ہے۔

گریٹ نکوبار پر شومپین قبیلے کے لگ بھگ 200 سے 300 افراد بستے ہیں۔ یہ لوگ آج بھی دنیا سے الگ تھلگ رہ کر زندگی گزارنا پسند کرتے ہیں اور ان کے متعلق مشہور ہے کہ یہ لوگ انتہائی شرمیلے ہیں اور باہر سے آئے لوگوں یا خطرے کو دیکھتے ہی جنگل میں چھپ جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس جزیرے پر عام سیاحوں کے علاوہ بھارتی شہریوں کا داخلہ بھی ممنوع ہے۔

شومپین قبیلے کے لوگ مستقل گاؤں بنا کر نہیں رہتے، بلکہ گھنے بارانی جنگلات کے اندر چھوٹے چھوٹے گروہوں میں گھومتے ہیں۔ جنگلی جانوروں، پرندوں اور مچھلیوں کا شکار، ناریل اور مختلف جڑی بوٹیاں ان کی بنیادی غذا ہے۔

شومپین کے برعکس نکوباری قبیلہ جدید دنیا سے کافی حد تک جڑ چکا ہے اور یہ نکوبار کے تمام جزائر پر پھیلا ہوا ہے۔ گریٹ نکوبار جزیرے پر بھی ان کے کئی مستقل دیہات آباد ہیں۔ ان لوگوں کی خوراک باغبانی، ناریل کے باغات، جنگلی سور اور مچھلی پر منحصر ہے۔ بیرونی دنیا اور مشنریوں سے رابطے کی وجہ سے اس قبیلے کی اکثریت نے عیسائیت یا دیگر مذاہب کو اپنا لیا ہے۔

بھارت کے جنوب میں آباد نکوبار جزیرہ اسٹریٹیجک اہمیت کے علاوہ تاریخی لحاظ سے بھی اہمیت کا حامل ہے۔ گیارہویں صدی کی چولا سلطنت کی تاریخ میں اس علاقے کے لیے ’نکاورم‘ کا نام استعمال کیا گیا، جس کا مطلب ’ننگے لوگوں کی سرزمین‘ ہے۔ مشہور سیاح مارکو پولو نے بھی اپنے سفر ناموں میں اس کا ذکر کیا ہے۔

ڈنمارک نے 1754 میں یہاں قبضہ کرکے اسے ’فریڈرک جزائر‘ کا نام دیا اور بستیاں آباد کرنے کی کوشش کی، لیکن ملیریا کی وبا اور خراب موسم کے باعث وہ زیادہ عرصہ یہاں نہ ٹھہر سکے۔

سنہ 1869 میں برطانیہ نے ڈنمارک سے یہ تمام جزائر خریدے اور انہیں برصغیر کا حصہ قرار دے دیا۔ انگریزوں نے نکوبار سمیت ان تمام جزائر کو اسٹریٹیجک اڈے اور سیاسی قیدیوں کو سزا دینے کے لیے بھی استعمال کیا، جسے ’کالا پانی‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہاں قیدیوں کے لیے بدنام زمانہ ’سیلولر جیل‘ بھی بنائی گئی تھی۔

تقسیمِ ہند کے بعد یہ جزائر مستقل طور پر بھارت کا حصہ بنے اور 1956 میں اسے ’یونین ٹیریٹری‘ کا درجہ دیا گیا۔

نکوبار جزیرے پر بسنے والے قبائل سے متعلق معلومات انتہائی دلچسپ اور حیرت انگیز ہیں۔

دسمبر 2004 میں بحر ہند میں آنے والے تباہ کُن زلزلے اور سونامی کا مرکز گریٹ نکوبار کے بہت قریب تھا، جس کی وجہ سے جزیرے کا جنوبی حصہ ڈوب گیا تھا اور ساحلی دیہات مکمل تباہ ہو گئے تھے۔

جہاں جدید ٹیکنالوجی کے باوجود دنیا اس تباہی سے بے خبر رہی، وہیں جنگل میں رہنے والے شومپین قبائل کا ایک بھی شخص ہلاک نہیں ہوا تھا۔

اس علاقے میں صدیوں سے آباد رہنے کی وجہ سے یہاں کے مکین طوفان اور زلزلے کے خطرات کو بھانپ لیتے ہیں۔ 2004 میں بھی ان لوگوں نے خطرے کو پہلے ہی بھانپ لیا تھا۔ یہ لوگ سونامی کی لہریں ساحل سے ٹکرانے سے قبل ہی بھاگ کر گریٹ نکوبار کی سب سے اونچی پہاڑی ’ماؤنٹ تھولیئر‘ پر چڑھ گئے تھے جس سے ان کی جانیں بچ گئیں۔

قبائلی حقوق کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی عالمی تنظیم سروائیول نے بھارتی حکومت کے نکوبار جزیرے پر آبادکاری کے منصوبے کے خلاف اقوامِ متحدہ میں ایک رپورٹ جمع کرائی ہے۔

اس رپورٹ میں خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ نکوبار جزیرے پر صدیوں پرانے قبائل آباد ہیں، دنیا سے لاتعلق رہنے کی وجہ سے ان کے جسم میں عام نزلہ، زکام یا بخار جیسی بیماریوں سے لڑنے کی مدافعت موجود نہیں ہے۔ لہٰذا مزدوروں اور فوجیوں کی آمد و رفت اور ان قبائل سے میل جول کی صورت میں جدید دنیا کے جراثیم ان کی جانوں کے خطرہ بن سکتے ہیں۔

بھارتی حکومت نکوبار جزیرے کو قومی سلامتی کے لیے ناگزیر قرار دیتی ہے۔ اس منصوبے کے لیے تقریباً 9 لاکھ 64 ہزار درخت کاٹے جائیں گے اور آئندہ تین دہائیوں میں تقریباً 3 لاکھ 50 ہزار افراد کو یہاں آباد کیا جائے گا، جس سے موجودہ آبادی میں تقریباً 4000 فیصد اضافہ متوقع ہے۔

بھارتی اپوزیشن جماعت کانگریس کے سربراہ راہول گاندھی نے بھی حال ہی میں جزیرے کا دورہ کیا اور اس منصوبے کو ترقی کے لبادے میں تباہی قرار دیا ہے۔

راہول گاندھی نے الزام عائد کیا ہے کہ بھارتی حکومت ترقی کے نام پر مقامی آبادی کو بے دخل کرکے ان کی زمینیں ہتھیانا چاہتی ہے۔

فروری 2024 میں نسل کشی کے خطرات پر نظر رکھنے والے 39 ماہرین نے بھارتی صدر دروپدی مرمو کو خط لکھ کر خبردار کیا تھا کہ حکومت کا منصوبہ شومپن قبیلے کی نسل کشی کے مترادف ہے، کیوں کہ مجوزہ منصوبے کا بڑا حصہ جزیرے کے آباد حصے پر مشتمل ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق آبنائے ہرمز میں کشیدگی اور ایران امریکا جنگ کے باعث جہاز رانی اور توانائی مصنوعات کی ترسیل متاثر ہونے کے بعد آبنائے ملاکا کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔

بھارتی دفاعی حلقوں میں جہاں اس منصوبے کو چین سے خطرات کی صورت میں دباؤ کے لیے اہم ہتھیار سمجھا جارہا ہے وہیں چین پہلی ہی اس خطرے کو بھانپ کر متبادل حکمت عملی پر عمل پیرا ہے۔

بھارتی فوج کے سابق بریگیڈیئر سنجے ایئر کا کہنا ہے کہ بیجنگ کھلے عام اس بات پر تشویش کا اظہار کرتا رہا ہے کہ اس کی توانائی کی بڑی سپلائی ایک ایسے تنگ بحری راستے سے گزرتی ہے جس پر اس کا کنٹرول نہیں ہے۔

یہی وجہ ہے کہ چین گزشتہ دو دہائیوں سے متبادل راستے تیار کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جن میں پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) اور میانمار کے ذریعے قائم کیے گئے راستے شامل ہیں، جس کا مقصد آبنائے ملاکا پر انحصار کم کرنا ہے۔

چین کے ماہرین نے بھارت کے گریٹ نکوبار جزیرے پر اربوں ڈالر مالیت کے ترقیاتی منصوبے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ یہ منصوبہ مستقبل میں آبنائے ملاکا کے ذریعے ہونے والی بحری نقل و حمل، توانائی کی ترسیل اور خطے میں جہاز رانی کی آزادی کو متاثر کر سکتا ہے۔

بیجنگ میں قائم چائنا انسٹی ٹیوٹ آف انڈین اوشین اسٹڈیز کے ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت اور چین کے درمیان بڑھتی ہوئی کشمکش سے مستقبل میں آبنائے ملاکا میں کشیدہ صورت حال پیدا ہوسکتی ہے، جو خطے کے دیگر ممالک کو بھی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔