برطانیہ میں سفید فام ہینری نوواک کے قتل کے بعد شدید احتجاج، کئی اہلکار زخمی
انگلینڈ میں 18 سالہ سفید فام ہینری نوواک کے قتل کے بعد ملک بھر میں صورتحال کشیدہ ہو گئی، واقعے نے عوامی سطح پر شدید مظاہروں کو جنم دیا۔ مختلف علاقوں میں احتجاجی مظاہرے شروع ہوئے جو بعد ازاں پرتشدد شکل اختیار کر گئے۔
برطانوی پولیس اور مظاہرین کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں جس کے دوران 11 اہلکار زخمی ہوگئے جبکہ درجنوں افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔
کشیدگی کے دوران سیکیورٹی صورتحال کو کنٹرول کرنے کے لیے اضافی نفری طلب کرنا پڑی۔
امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق یہ تنازع اس وقت شدت اختیار کر گیا جب منگل کی شام جنوبی انگلینڈ کے ساحلی شہر ساؤتھمپٹن میں ایک پولیس اسٹیشن کے باہر سینکڑوں افراد جمع ہوئے اور پرتشدد مظاہرے کیے۔ پُرتشدد احتجاج نے پولیس پر پتھر اور دیگر اشیاء پھینکیں، جس کے نتیجے میں 11 پولیس اہلکار زخمی ہو گئے۔ احتجاج کے دوران بعض مظاہرین نے ہینری نوواک کا نام بھی پکارا۔
برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹامر نے واقعے کو انتہائی تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملے کسی صورت قابل قبول نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ نسل پرستی کے الزامات کا بھی جواب تلاش کرنا ہوگا۔
دوسری جانب چیف کانسٹیبل نے ہنری کی گرفتاری کے معاملے پر عوام سے معافی مانگی ہے جس سے صورتحال مزید بحث کا شکار ہو گئی ہے۔
ادھر مقدمے کی سماعت میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں وکرم نے قتل اور جھوٹے بیان کا اعتراف کر لیا ہے۔
عدالت نے جرم ثابت ہونے پر ملزم کو عمر قید کی سزا سنا دی ہے، جبکہ واقعے کے بعد شہر میں کشیدگی اور سیکیورٹی خدشات بدستور برقرار ہیں۔
واضح رہے کہ 18 سالہ ہینری نوواک کو 3 دسمبر 2025 کو اس وقت قتل کیا گیا جب وہ اپنے دوستوں کے ساتھ رات گزارنے کے بعد گھر جا رہا تھا۔
پولیس نے کہنا تھا کہ اسے وکرَم ڈِگوا نامی شخص نے چاقو کے پانچ وار کر کے قتل کیا تھا، جس سے اس کے سینے میں شدید اندرونی خون بہہ گیا۔
ڈگوا نے بعد میں دعویٰ کیا کہ نوواک نے اس کی پگڑی پکڑی اور اس پر نسلی توہین کی، تاہم پولیس کی باڈی کیم فوٹیج میں زخمی حالت میں نوواک یہ کہتے ہوئے سنا گیا کہ مجھے سانس نہیں آ رہا اور مجھے چاقو مارا گیا ہے۔












