لاہور گھریلو ملازمہ اسقاط حمل کیس: والد کے بیان نے معاملہ مشکوک بنا دیا

مالکان کے اجتماعی زیادتی میں ملوث نہ ہونے کا بیان دباؤ میں دیا تھا: والد
شائع 04 جون 2026 03:38pm

لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں ایک 18 سالہ گھریلو ملازمہ عائشہ کی مبینہ زیادتی اور اسقاط حمل کے بعد پیدا ہونے والی طبی پیچیدگیوں کے باعث ہلاکت کے کیس میں نئی اور اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔

پنجاب حکومت کے پراسیکیوٹر جنرل نے اس کیس کو انتہائی اہم اور ہائی پروفائل قرار دیتے ہوئے تفتیشی افسر کو مکمل ریکارڈ کے ساتھ اپنے پاس طلب کر لیا ہے۔

پراسیکیوٹر جنرل پنجاب کا کہنا ہے کہ پراسیکیوشن تفتیشی افسر کو لائن آف انکوائری فراہم کرے گی، جبکہ مقدمے میں شامل دفعات اور دیگر شواہد کا بھی تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔

واضح رہے کہ لاہور میں اسقاط حمل کے بعد گھریلو ملازمہ اسپتال میں دم توڑ گئی تھی جس کا مقدمہ تھانہ ماڈل ٹاؤن پولیس نے پہلے ہی درج کر رکھا ہے۔

اس کیس میں اس وقت نیا موڑ آیا جب لڑکی کے والد نے اپنی بیٹی کے اُس دوسرے بیان سے دستبرداری کا اعلان کیا جس میں مالکان کو بری الذمہ قرار دیا گیا تھا۔

لڑکی کے والد نے اب نیا موقف اختیار کیا ہے کہ مالکان کے اجتماعی زیادتی میں ملوث نہ ہونے کا بیان دباؤ میں دیا گیا تھا اور معاملے کی ازسرنو تفتیش کرکے انصاف فراہم کیا جائے۔

دوسری جانب لڑکی کے جاں بحق ہونے سے قبل ریکارڈ کی گئی ایک ویڈیو بھی سامنے آئی ہے جس میں عائشہ نے کہا تھا کہ اس کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ ڈرائیور حسن نے کیا، جبکہ مالکان اس واقعے میں ملوث نہیں اور انہیں بلاوجہ کیس میں شامل کیا جا رہا ہے۔

اس ویڈیو بیان کے مطابق ڈرائیور حسن اسے نیند کی گولیاں کھلا کر زیادتی کرتا رہا اور اسی نے مالکان کا نام اجتماعی زیادتی کے الزام میں شامل کرنے پر مجبور کیا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ لڑکی اپنی موت سے قبل عدالت میں بھی تحریری طور پر یہی بیان دے چکی تھی جس کے بعد عدالت نے مالک مکان کے بیٹے کی ضمانت منظور کی تھی۔

تاہم پولیس کا یہ بھی کہنا ہے کہ لڑکی کے والد کا بار بار موقف تبدیل کرنا معاملے کو مشکوک بنا رہا ہے، لیکن اب عدالت سے اجازت ملنے کے بعد مقدمے میں قتل کی دفعات شامل کرکے تفتیش کو جینڈر سیل سے لاہور انویسٹیگیشن ونگ کے سپرد کر دیا گیا ہے۔

یہ واقعہ 28 اپریل کو پیش آیا تھا جب عائشہ کی درخواست پر ماڈل ٹاؤن پولیس نے مبینہ اجتماعی ریپ کی ایف آئی آر درج کی تھی۔

عائشہ نے اپنی ابتدائی درخواست میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ وہ گذشتہ ایک سال سے ماڈل ٹاؤن کے ایک گھر میں ملازمہ تھی، جہاں نومبر 2025 میں مالک مکان کا بیٹا اپنی اہلیہ سے ناراضی کے بعد رہنے آیا تھا۔

عائشہ کا الزام تھا کہ مالک مکان کا بیٹا اور گھر کا ڈرائیور مختلف اوقات میں اس کا ریپ کرتے رہے جس سے وہ حاملہ ہو گئی۔

جب اس نے مالکن کو بتایا تو اسے اسقاط حمل کی دوائیاں دی گئیں اور حالت خراب ہونے پر بیس دن کی چھٹی دے کر فیصل آباد گھر بھیج دیا گیا۔

فیصل آباد میں طبیعت زیادہ بگڑنے پر جب والدین اسے کلینک لے گئے تو انہیں حمل کا پتہ چلا۔ ایف آئی آر کے مطابق مالکان کے مشورے پر لڑکی کو دوبارہ لاہور لایا گیا جہاں مالکن اور ان کی بہن نے ڈرا دھمکا کر اس کا آپریشن کروایا تو معلوم ہوا کہ پانچ ماہ کا بچہ پیٹ میں مر چکا ہے۔

بعد میں حالت مزید خراب ہونے پر اسے سول ہسپتال داخل کرایا گیا۔ پولیس کے مطابق عائشہ 26 مئی کو سروسز ہسپتال میں علاج کے دوران دم توڑ گئی۔

اس افسوسناک واقعے پر عائشہ کے والد جاوید نے بات کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے اپنی بیٹی کو گھریلو کام کاج کے لیے لاہور بھجوایا تھا لیکن وہ اس بات سے لاعلم تھے کہ ان کی بیٹی کے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ہمارا اپنی بیٹی کے ساتھ فون پر رابطہ تھا اور اس نے ابتدا میں کبھی کوئی ایسی بات نہ بتائی تھی جس سے ہمیں لگا ہو کہ اس کے ساتھ ریپ کیا جاتا ہے۔

والد کے مطابق جب وہ فیصل آباد آئی اور ڈاکٹر نے حمل کی تصدیق کی تو یہ بات سن کر تو میری ٹانگیں کانپ گئیں، یوں لگا جیسے ابھی آسمان میرے سر پر آ گرے گا۔

جاوید کا مزید کہنا تھا کہ ہم کمزور لوگ ہیں، مقابلہ نہیں کر سکتے، بس حکومت سے اپیل ہے وہ ہمارے ساتھ انصاف کروائیں۔

دوسری طرف ملزمان کی قانونی ٹیم کا کہنا ہے کہ وہ بےقصور ہیں اور فی الحال معاملے کا جائزہ لے رہے ہیں، جب انہیں تفتیش کے لیے بلایا جائے گا تو وہ شامل تفتیش ہو جائیں گے۔

پولیس اب عائشہ کے عدالتی بیان کا دوبارہ قانونی جائزہ لے رہی ہے اور پوسٹ مارٹم کی تفصیلی رپورٹ آنے کے بعد موت کی اصل وجہ واضح ہوگی۔