کاکروچ جنتا پارٹی کا حکومت سے کامیاب مذاکرات کے بعد ملک گیر احتجاج ختم کرنے کا اعلان
بھارت میں امتحانی بے ضابطگیوں کے خلاف سرگرم کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) نے حکومت کی جانب سے اپنے تمام مطالبات تسلیم کیے جانے کے بعد ملک گیر احتجاج فوری طور پر ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔
بھارت میں امتحانی نظام میں اصلاحات اور نیٹ امتحان کے پرچہ لیک ہونے کے معاملے پر احتجاج کرنے والی کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) نے حکومت سے کامیاب مذاکرات کے بعد اپنی ملک گیر احتجاجی تحریک فوری طور پر ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔
پارٹی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ حکومت نے اس کے تمام بنیادی مطالبات تسلیم کر لیے ہیں، جس کے بعد احتجاج ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
سی جے پی کے مطابق حکومت نے نیٹ امتحان کے پرچہ لیک اسکینڈل سے متعلق خودکشی کرنے والے طلبہ کے خاندانوں کو زیادہ سے زیادہ ممکنہ معاوضہ دینے پر اتفاق کیا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ مرکزی حکومت اور این ڈی اے کے زیرِ انتظام ریاستوں میں احتجاج سے متعلق درج تمام مقدمات واپس لیے جائیں گے اور آئندہ ان احتجاجی سرگرمیوں میں شریک افراد کے خلاف بھی کوئی کارروائی نہیں کی جائے گی۔
پارٹی کے مطابق حکومت نے امتحانی نظام میں اصلاحات سے متعلق اس کے پانچ نکاتی چارٹر پر بھی غور کرنے اور اس حوالے سے مزید مذاکرات کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔
اس سے قبل بھارت کے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان نے اپنے عہدے سے استعفا دینے کا اعلان کیا تھا۔ انہوں نے اپنا استعفا وزیراعظم نریندر مودی کو مذاکرات کے تیسرے دور سے چند گھنٹے قبل ارسال کیا، ان کا کہنا تھا کہ وہ ملک کے نوجوانوں کے جذبات اور تعلیمی نظام میں اعتماد کی بحالی کو مقدم رکھتے ہیں۔
ہفتے کی صبح سی جے پی نے اپنے موقف کا اعادہ کرتے ہوئے واضح کیا تھا کہ اگر حکومت دھرمیندر پردھان کو عہدے سے نہیں ہٹاتی تو مزید گفتگو کا کوئی جواز نہیں بنتا۔
وزیر تعلیم کے مستعفی ہونے کی خبر جیسے ہی جنتر منتر پر پہنچی تو وہاں موجود طلبا اور مظاہرین میں خوشی کی لہر دوڑ گئی اور پورے میدان میں جشن کا ماحول بن گیا۔

یاد رہے کہ کاکروچ جنتا پارٹی نے امتحانی پرچوں کے بار بار لیک ہونے، تعلیمی نظام میں شفافیت اور وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کے مطالبے پر پانچ جون سے ملک گیر احتجاج شروع کیا تھا۔
احتجاج میں اس وقت شدت آئی جب گزشتہ ہفتے ہزاروں طلبہ نے پارلیمنٹ کی جانب مارچ کی کوشش کی، جسے روکنے کے لیے پولیس نے لاٹھی چارج، آنسو گیس اور رکاوٹوں کا استعمال کیا۔
جھڑپوں کے نتیجے میں ایک سو سے زائد طلبہ زخمی ہوئے، متعدد پولیس اہلکار بھی زخمی ہوئے جب کہ درجنوں مظاہرین کو حراست میں لیا گیا۔

بعد ازاں اس تحریک میں سماجی کارکن سونم وانگچک کی بھوک ہڑتال نے نئی جان ڈال دی، جب کہ کانگریس رہنما راہول گاندھی اور پریانکا گاندھی بھی احتجاج میں شریک ہوئے اور انہیں بھی پولیس نے حراست میں لیا۔
حالیہ دنوں میں اداکاروں، فنکاروں، کھلاڑیوں، سماجی کارکنوں اور مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد کی حمایت کے بعد یہ تحریک مودی حکومت کے لیے ایک بڑے سیاسی چیلنج کی صورت اختیار کر گئی تھی۔













