کویتی اور بحرینی لڑاکا طیاروں کے ایران پر براہِ راست حملے

امارات نے فضائی دفاعی معاونت بھی فراہم کی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خطے کے عرب ممالک ایران کے خلاف دفاعی تعاون بڑھا رہے ہیں
اپ ڈیٹ 25 جولائ 2026 01:50pm

بحرین اور کویت نے رواں ماہ پہلی بار ایران کے اندر براہِ راست فضائی کارروائیاں کیں، جن میں ایرانی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے ایک باخبر ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ دونوں خلیجی ممالک نے خاموشی سے اپنے جنگی طیارے ایران میں حملوں کے لیے بھیجے۔

رپورٹ کے مطابق بحرین اور کویت کے لڑاکا طیاروں نے ایران میں ڈرونز اور میزائل ذخیرہ کرنے والی تنصیبات کے علاوہ دیگر فوجی مقامات کو نشانہ بنایا۔ یہ دونوں ممالک کی جانب سے تہران کے خلاف پہلی معلوم براہِ راست فوجی کارروائی قرار دی جا رہی ہے۔

وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق متحدہ عرب امارات نے بھی ان کارروائیوں میں کردار ادا کیا اور ممکنہ اہداف سے متعلق معلومات فراہم کیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ امارات نے فضائی دفاعی معاونت بھی فراہم کی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خطے کے عرب ممالک ایران کے خلاف دفاعی تعاون بڑھا رہے ہیں۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب گزشتہ کئی ہفتوں سے ایران نے بحرین اور کویت کو اپنے جوابی حملوں کا مرکز بنایا ہوا تھا۔

دونوں ممالک میں امریکی فوجی اڈے بھی موجود ہیں، جس کے باعث وہ خطے میں جاری کشیدگی کا اہم حصہ بن گئے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق اگرچہ بحرین اور کویت کی فضائی طاقت محدود ہے اور ان کے پاس زیادہ تر امریکی اور یورپی ساختہ جنگی طیارے موجود ہیں، تاہم دونوں ممالک ایران کے مسلسل حملوں کا جواب دیے بغیر رہنے پر تیار نہیں تھے۔

خطے میں کشیدگی اس وقت مزید بڑھ گئی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 8 جولائی کو اعلان کیا کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت ہونے والی جنگ بندی اب مؤثر نہیں رہی۔

اس کے بعد امریکا اور ایران کے درمیان ایک دوسرے کے خلاف حملوں کا سلسلہ شروع ہوا۔ واشنگٹن نے ایران کے اندر مختلف اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا، جبکہ تہران کا کہنا ہے کہ اس نے خطے کے کئی ممالک میں موجود امریکی فوجی تنصیبات اور ساز و سامان کو نشانہ بنایا۔

دوسری جانب بحرین، کویت، متحدہ عرب امارات اور دیگر خلیجی ممالک کی بڑھتی ہوئی شمولیت نے مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے، جبکہ عالمی سطح پر خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں کہ یہ کشیدگی مزید پھیل سکتی ہے۔