بھارت میں جین زی تحریک ’مودی میڈیا گٹھ جوڑ‘ کو کیسے بے نقاب کر رہی ہے؟
بھارت میں ’پیپر لیک اسکینڈل‘ کے خلاف جاری جین زی احتجاج کے دوران بھارتی مین اسٹریم میڈیا کو بائیکاٹ اور سخت مزاحمت کا سامنا ہے۔ بھارت میں کئی بڑے ٹی وی چینلز کو حکومت کی حمایت میں بیانیے کی ترویج پر ’گودی میڈیا‘ کے نام سے پکارا جارہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جین زی نے اپنے احتجاج میں روایتی میڈیا کے بجائے سوشل میڈیا کو ہتھیار بنا رکھا ہے۔
گزشتہ کئی برسوں سے بھارت میں مقامی میڈیا اور سوشل میڈیا وزیراعظم نریندر مودی اور ان کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کا بیانیہ عوام تک پہنچانے کا مؤثر ذریعہ سمجھے جاتے تھے۔ تاہم اب تعلیمی اصلاحات کے لیے اٹھنے والی جین زی کی تحریک ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ نے اس گٹھ جوڑ کو چیلنج کرنا شروع کردیا ہے۔
دنیا بھر میں برپا ہونے والی احتجاجی تحریکوں میں کوریج کے لیے روایتی میڈیا کو خصوصی اہمیت دی جاتی ہے لیکن بھارت میں جین زی کے احتجاج میں صورت حال اس کے برعکس ہے۔
’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے مظاہرین نے تمام بڑے ٹی وی چینلز کا بائیکاٹ کررکھا ہے۔ بھارت کے معروف اینکرز سمیت روایتی میڈیا کا کوئی بھی نمائندہ مظاہرین کے قریب آتا ہے تو انہیں سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
طلبہ کا مؤقف ہے کہ ملک کے کئی بڑے ٹی وی چینلز حکومت کے بیانیے کو فروغ دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نئی دہلی کے معروف مقام ’جنتر منتر‘ پر جاری احتجاج میں موجود نوجوان روایتی سیاسی نعروں کے بجائے سوشل میڈیا پر میمز، مختصر ویڈیوز، طنزیہ پوسٹس اور لائیو اسٹریمز کے ذریعے اپنا مؤقف مؤثر انداز میں پیش کرتے ںظر آرہے ہیں۔
پیر کے روز دہلی پولیس کی جانب سے جنتر منتر پر موجود مظاہرین پر تشدد اور گرفتاری کی ویڈیوز سوشل میڈیا کے ذریعے ہی وائرل ہوئی تھیں، جس کے بعد بھارتی میڈیا کے بائیکاٹ کا شکار جین زی تحریک دنیا بھر کے میڈیا کی زینت بن چکی ہے۔
تاہم روایتی میڈیا پر اب بھی جین زی احتجاج کو مسلسل منفی رنگ دیا جارہا ہے، جس میں مظاہرین پر ملک دشمنی، غیر ملکی فنڈنگ اور شرپسندی جیسے الزامات بھی عائد کیے جارہے ہیں۔
مظاہرین پر تشدد اور ہتک آمیز انداز میں گرفتاریوں کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے باوجود بھارتی میڈیا کی جانب داری پر نوجوانوں میں سخت غم و غصہ پایا جاتا ہے۔
بھارتی ٹی وی چینل ’آج تک‘ کی مشہور اینکر انجنا اوم احتجاج کی کوریج کے لیے پہنچیں تو طلبہ نے انہیں دیکھتے ہی ’گودی میڈیا مردہ باد‘ کے نعرے لگانا شروع کردیے۔
بھارت کے مشہور چینل ’این ڈی ٹی وی‘ کا ایک رپورٹر احتجاج میں پہنچا تو اسے بھی ایسی ہی صورت حال کا سامنا کرنا پڑا۔
‘این ڈی ٹی وی‘ ماضی میں عوامی مسائل پر رپورٹنگ کے حوالے سے نمایاں مقام رکھتا تھا تاہم گوتم اڈانی گروپ کی زیرِ ملکیت آنے کے بعد ناقدین کی جانب سے اس کی ادارتی سمت پر بھی سوالات اٹھائے جاتے رہے ہیں۔
بھارت کے مخصوص میڈیا چینلز کے لیے ’گودی میڈیا‘ کی اصطلاح بھی پہلی مرتبہ 2018 میں ’این ڈی ٹی وی‘ سے وابستہ صحافی رویش کمار نے اپنے پروگرام میں استعمال کی تھی۔ بعد ازاں یہ لفظ حکومت نواز سمجھے جانے والے ٹی وی چینلز کے لیے مقبول سیاسی اصطلاح بن گیا۔
’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کی احتجاجی تحریک میں اب ’گودی میڈیا‘ کی اصطلاح سوشل میڈیا سے نکل کر احتجاجی نعروں کا حصہ بن چکی ہے۔
نیویارک ٹائمز اور الجزیرہ سمیت کئی بین الاقوامی اداروں نے بھی اپنی رپورٹس میں بھارتی میڈیا کی جانب داری کو واضح کرنے کے لیے باقاعدہ ’گودی میڈیا‘ کی اصطلاح کا استعمال کیا ہے۔
سوشل میڈیا پر ایک وائرل ویڈیو میں ’این ڈی ٹی وی‘ اور ’زی نیوز‘ کے رپورٹرز کو احتجاج کے دوران گرفتاریوں سے متعلق رپورٹنگ کرتے ہوئے مظاہرین کی جانب سے سخت سوالات اور مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔
ایک نوجوان نے پولیس کی جانب سے مظاہرین کو پُرامن طریقے سے گرفتار کرنے کا من گھڑت بیانیہ بنانے پر خاتون صحافی کی سخت سرزنش کی اور ’این ڈی ٹی وی‘ کی صحافی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’انسٹاگرام پر پولیس کے تشدد کی بے شمار ویڈیوز موجود ہیں لیکن اس کے باوجود ٹی وی چینلز اسے پُرامن کارروائی ثابت کرنے کی کوشش کیوں کر رہے ہیں۔‘
بھارتی میڈیا اور مظاہرین کے درمیان کشیدگی میں ’میمز‘ کا عنصر بھی نمایاں ہے۔ سوشل میڈیا پر زی نیوز کے ایک رپورٹر کی ویڈیو بھی وائرل ہے جسے مختلف تبصروں اور میوزک کے ساتھ شیئر کیا جارہا ہے۔
ویڈیو میں مسلسل نعرے بازی کی وجہ سے احتجاج کی رپورٹنگ پر مامور رپورٹر کے انداز اور چہرے کے بدلتے تاثرات کو ریکارڈ کیا گیا ہے۔
طلبہ کی جانب سے شروع کی گئی یہ احتجاجی تحریک اب مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کی حمایت حاصل کر رہی ہے جس میں ڈاکٹرز، سیاست دان، شوبز شخصیات اور طلبہ کے اہلِ خانہ بھی شریک ہو رہے ہیں، یہی وجہ ہے کہ احتجاج کا دائرہ مسلسل وسیع ہو رہا ہے۔
احتجاج کے دوران چند ایک مقامات پر حکومت کے حامی سمجھے جانے والے صحافیوں پر تشدد کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے ہیں۔
جب ترنمول کانگریس کے رہنما کلیان بینرجی سے اس بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے بھارتی میڈیا پر ہی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’میڈیا نوجوانوں کی تحریک کو منفی انداز میں پیش کر رہا ہے‘۔
تشدد سے متعلق سوال پر ان کا کہنا تھا کہ ’نوجوان جانتے ہیں کہ آپ کا تعلق گودی میڈیا سے ہے، آپ لوگوں کو تو وہاں جانا ہی نہیں چاہیے۔‘
بھارت کی جین زی تحریک اب صرف امتحانی نظام میں اصلاحات کی مہم نہیں رہی بلکہ اس نے روایتی میڈیا اور حکومتی گٹھ جوڑ کو بھی بے نقاب کر دیا ہے۔
حکومت اور بعض ٹی وی چینلز کی جانب سے احتجاج میں غیر ملکی فنڈنگ کے الزامات سامنے آئے تو نوجوانوں نے اس کا جواب بھی روایتی انداز کے بجائے میمز کے ذریعے دیا۔
ایک وائرل ویڈیو میں کھانے پینے کی اشیا فروخت کرنے والا نوجوان طنزیہ انداز میں ’پاکستانی فنڈنگ لے لو‘ کے نعرے لگاتے نظر آرہا ہے۔
نوجوان نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے ان پر بیرونی فنڈنگ کا الزام عائد کیا ہے۔ اس لحاظ سے ان کے پاس موجود اشیاء بھی چین اور پاکستان کی جانب سے فراہم کی گئی ہیں۔‘
اے بے پی نیوز کی ایک اینکر کو ابھیجیت دیپکے کے انٹرویو کی اجازت دی گئی تو وہ اپنے ہی سوالات میں الجھ کر رہ گئیں۔
ابھیجیت دیپکے نے اینکر کو توجہ دلائی کہ وہ اب بھی پیپر لیک اسکینڈل جیسے اہم ترین مسئلے کے بجائے احتجاج میں اپوزیشن رہنماؤں کی عدم شرکت جیسے غیر ضروری سوالات کر رہی ہیں۔
بھارت کی جین زی تحریک کی دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کی بنیاد کسی سیاسی جماعت نے نہیں رکھی بلکہ ایک طنزیہ سوشل میڈیا مہم نے اسے جنم دیا ہے۔
بھارت کے چیف جسٹس سوریا کانت کی جانب سے ایک کیس کی سماعت کے دوران نوجوانوں کے لیے ’کاکروچ‘ کا لفظ استعمال کیا تھا۔ جس کے بعد امریکا میں مقیم بھارتی نوجوان ابھیجیت دیپکے نے انسٹاگرام پر ایک طنزیہ مہم شروع کی اور ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے نام سے ایک ہینڈل بنایا۔ ابھیشیک دیپکے کے مطابق انہوں نے یہ انسٹاگرام پیج محض تفریح کی غرض سے بنایا تھا لیکن اس پر چند ہی روز میں فالوورز کی تعداد 25 ملین سے تجاوز کر گئی تھی۔
بھارتی میڈیا نے ابتدائی طور پر جین زی تحریک کو محض ایک ’سوشل میڈیا ٹرینڈ‘ سمجھ کر خوب کوریج دی تھی اور تمام چینلز نے امریکا میں مقیم ابھیجیت دیپکے کے خصوصی انٹرویوز بھی کیے تھے۔ تاہم ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کی تحریک کے سوشل میڈیا سے سڑکوں پر آتے ہی بھارتی میڈیا کی پالیسی میں بھی اچانک تبدیلی دیکھی گئی ہے۔
بھارتی ٹی وی چینلز کی جانب سے مودی حکومت کی حمایت کی ایک بڑی وجہ بعض چینل مالکان کے بی جے پی اور نریندر مودی سے تعلقات ہیں۔
زی نیوز سبھاش چندرا کے ایسل گروپ کا حصہ ہے جو بی جے پی کی براہِ راست حمایت سے راجیہ سبھا (بھارتی سینیٹ) کے رکن رہ چکے ہیں۔
این ڈی ٹی وی بھی دسمبر 2022 سے گوتم اڈانی کی ملکیت ہے جو نریندر مودی کے مالی معاونین میں شمار ہوتے ہیں۔ اڈانی کے کنٹرول سنبھالنے کے بعد این ڈی ٹی وی سے وابستہ تمام غیر جانبدار صحافیوں نے استعفیٰ دے دیا تھا۔
مئی 2017 میں ری پبلک ٹی وی لانچ ہوا تو اس کے مالک معروف سرمایہ کار اور بی جے پی رہنما راجیو چندر شیکھر تھے جو رکنِ پارلیمنٹ ہونے کے علاوہ مودی کابینہ میں مرکزی وزیر رہ چکے ہیں۔
معروف اینکر ارناب گوسوامی ری پبلک ٹی وی کے چیف ایڈیٹر اور شریک بانی تھے، تاہم مئی 2019 میں راجیو چندر شیکھر کے علیحدہ ہوجانے کے بعد اب اکثریتی شیئرز ارناب گوسوامی کے پاس ہیں جو کھلم کھلا مودی حکومت کی ہندوتوا پالیسی کی وکالت کرتے نظر آتے ہیں۔ جین زی احتجاج میں بھی وہ حکومت کی بھرپور وکالت کرتے نظر آرہے ہیں۔
انڈیا ٹوڈے اور آج تک کے مالک ارون پوری ہیں جو مختلف فورمز پر واضح طور پر نریندر مودی اور ان کی حکومت کی تعریفیں کرتے رہے ہیں۔ کئی اپوزیشن جماعتوں نے جانبداری کے الزامات پر اس چینل کے مشہور اینکرز سدھیر چوہدری اور چترا ترپاٹھی کا بائیکاٹ کر رکھا ہے۔
معروف ارب پتی اور ریلائنس انڈسٹریز کے سربراہ مکیش امبانی بھی بھارت میں ایک چینل ’نیوز 18‘ کے مالک ہیں۔ مکیش امبانی کا شمار بھی مودی حکومت کے بڑے حامیوں اور معاونین میں ہوتا ہے۔ ان کے چینلز پر بھی حکومتی پیروپیگنڈے کی ترویج سمیت اپوزیشن کو مستقل نشانہ بنایا جاتا ہے۔
کاکروچ جنتا پارٹی نے تمام بڑے میڈیا نیٹ ورکس کے بائیکاٹ کے باوجود کامیاب سوشل میڈیا مہم نے وزیرِاعظم نریندر مودی کو اس معاملے پر ویڈیو بیان جاری کرنے پر مجبور کر دیا۔
اس کامیاب سوشل میڈیا مہم کے نتیجے میں ہی مودی حکومت نے نہ صرف امتحانی پیپرز لیک کرنے والے مافیا کے خلاف سخت ترین کارروائی کے لیے فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان کیا ہے بلکہ وزیرِ تعلیم پردھان کے استعفے کے معاملے پر بھی 24 گھنٹے کا وقت مانگ لیا ہے۔















