امریکی فوج کے مسلسل 13ویں روز ایران پر حملے، عسکری صلاحیتوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ
امریکا نے ایران کے خلاف مسلسل تیرھویں رات بھی فضائی کارروائیاں جاری رکھیں، جبکہ ایرانی میڈیا نے ملک کے مختلف علاقوں میں دھماکوں کی اطلاعات دی ہیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ حملوں میں ایرانی فوجی کمانڈ سینٹرز، ڈرون ذخیرہ گاہوں، مواصلاتی نیٹ ورکس، ساحلی نگرانی کے مراکز اور بحری عسکری صلاحیتوں کو نشانہ بنایا گیا۔
سینٹ کام نے کہا کہ ان کارروائیوں کا مقصد ایران کی ان صلاحیتوں کو مزید کمزور کرنا ہے جنہیں امریکا آبنائے ہرمز سے گزرنے والے عام شہریوں اور تجارتی بحری جہازوں کے لیے خطرہ قرار دیتا ہے۔
امریکی فوج کے مطابق حالیہ حملوں کے باوجود آبنائے ہرمز بین الاقوامی بحری آمدورفت کے لیے کھلی ہوئی ہے اور تجارتی جہاز معمول کے مطابق اس راستے سے گزر رہے ہیں۔
سینٹ کام نے دعویٰ کیا کہ ایران کی پاسداران انقلاب کی حالیہ کارروائیوں کے باوجود تجارتی جہاز امریکی فوج کی معاونت کے ساتھ آبنائے ہرمز سے آزادانہ طور پر گزر رہے ہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ اس وقت مشرق وسطیٰ کے مختلف علاقوں میں 50 ہزار سے زائد امریکی فوجی تعینات ہیں، جو خطے میں امریکی فوجی کارروائیوں اور سیکیورٹی ذمہ داریوں میں حصہ لے رہے ہیں۔
سینٹ کام کے بیان کے مطابق نئے حملوں کا آغاز امریکی وقت کے مطابق شام 6 بج کر 45 منٹ پر کیا گیا۔
دوسری جانب ایرانی حکام کی جانب سے امریکی دعوؤں پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ حملوں سے ہونے والے ممکنہ نقصانات یا ہلاکتوں کے بارے میں بھی سرکاری سطح پر کوئی تفصیلات جاری نہیں کی گئی ہیں۔ صورتحال کے باعث خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔














