ٹرمپ انتظامیہ کا پاکستان سمیت 60 ممالک پر نیا ٹیرف عائد

کئی ممالک نے ان فیصلوں پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے انہیں غیر منصفانہ قرار دے دیا
شائع 24 جولائ 2026 12:39pm

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے دنیا کے 60 تجارتی شراکت دار ممالک سے آنے والی اشیا پر نئی درآمدی ڈیوٹیاں عائد کر دی ہیں۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق امریکا نے یہ اقدام جبری مشقت کے خلاف قوانین پر عمل درآمد میں مبینہ کمزوریوں کا الزام لگاتے ہوئے کیا ہے۔ نئی پالیسی کے تحت زیادہ تر ممالک کی مصنوعات پر 10 فیصد جبکہ بعض ممالک پر 12.5 فیصد اضافی ٹیرف نافذ کیا گیا ہے۔

امریکی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات عالمی سپلائی چین میں جبری مشقت کے خاتمے اور امریکی کارکنوں کے تحفظ کے لیے کیے گئے ہیں، تاہم کئی ممالک نے ان فیصلوں پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے انہیں غیر منصفانہ قرار دیا ہے۔

نئے ٹیرف ایسے وقت میں نافذ کیے گئے ہیں جب ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے عائد کیا گیا عارضی 10 فیصد عالمی ٹیرف ختم ہو گیا تھا۔ امریکی حکام کے مطابق نئی ڈیوٹیاں جمعہ کو رات 12 بج کر ایک منٹ پر نافذ ہوئیں، جبکہ راستے میں موجود سامان کو 28 جولائی تک رعایت دی گئی ہے۔

امریکا کے تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے ایک بیان میں کہا کہ امریکا تقریباً ایک صدی سے جبری مشقت سے تیار ہونے والی مصنوعات کی درآمد پر پابندی کا قانون رکھتا ہے اور اس پر سختی سے عمل کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ہمارے تجارتی شراکت دار بھی اسی طرح کے اقدامات کریں۔ آج کا اقدام انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور غیر منصفانہ تجارتی طریقوں کو درست کرنے کی طرف ایک قدم ہے تاکہ دنیا بھر کے کارکنوں کی بہتری ممکن ہو سکے۔

نئی ٹیرف پالیسی کے تحت ارجنٹائن، بنگلہ دیش، برطانیہ، کینیڈا، بھارت، انڈونیشیا، ملائیشیا، میکسیکو، پاکستان، سری لنکا اور دیگر کئی ممالک کی مصنوعات پر 10 فیصد ڈیوٹی عائد کی گئی ہے۔

یورپی یونین، جاپان، جنوبی کوریا، تائیوان اور سوئٹزرلینڈ کے لیے ٹیرف کی شرح اس طرح مقرر کی گئی ہے کہ ان کے پہلے سے موجود درآمدی ٹیکس شامل کرنے کے بعد مجموعی شرح تقریباً 10 یا 12.5 فیصد بنتی ہے۔

دیگر 38 ممالک، جن میں ویتنام اور چین بھی شامل ہیں، کی مصنوعات پر 12.5 فیصد ٹیرف نافذ کیا گیا ہے۔ امریکا نے چین پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ سنکیانگ کے ایغور مسلمانوں سے متعلق جبری مشقت کے معاملات میں ملوث ہے، تاہم بیجنگ ان الزامات کی تردید کرتا ہے۔

چین کے حوالے سے امریکی حکام کا کہنا ہے کہ واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان نومبر 2025 میں ہونے والی تجارتی مفاہمت کے تحت چین پر عائد ٹیرف دوبارہ 20 فیصد تک بڑھانے کا ارادہ ہے، تاہم اس سے زیادہ نہیں کیا جائے گا۔

اس سے قبل ٹرمپ انتظامیہ نے امریکا کے تجارتی خسارے کو کم کرنے کے لیے تجارتی شراکت داروں پر 10 سے 50 فیصد تک کے ٹیرف عائد کیے تھے لیکن امریکی سپریم کورٹ نے رواں برس فروری میں انہیں غیر مؤثر قرار دے دیا تھا جس کے بعد اس بار ٹرمپ انتظامیہ نے امریکا کے ٹریڈ ایکٹ 1974ء کے سیکشن 301 کے تحت نئے ٹیرف لگا دیے ہیں اور اس اقدام کو قانونی طور پر زیادہ مضبوط تصور کیا جا رہا ہے۔

امریکا کے ٹریڈ ایکٹ 1974ء کے سیکشن 301 کے تحت امریکا ایسے ممالک جن میں جبری مشقت پر پابندی کے کچھ قوانین نافذ کیے ہیں، ان پر 10 فیصد ٹیرف عائد کرے گا اور جن ممالک میں جبری مشقت پر پابندی کے قوانین بالکل نافذ نہیں ہیں، ان پر 12.5 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا۔

کئی ممالک نے امریکی اقدام پر فوری ردعمل ظاہر کیا ہے۔ یورپی یونین کی خارجہ پالیسی چیف کاجا کالاس نے کہا کہ یورپی یونین ان نئے ٹیرف کو حیران کن سمجھتی ہے اور امریکا کی جانب سے دی گئی وجہ قابل قبول نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر آپ ہمارے مزدور قوانین کا امریکا کے قوانین سے موازنہ کریں تو ہمارے پاس ملازمین کے لیے تنخواہ کے ساتھ چھٹیاں اور بہتر کام کے حالات موجود ہیں، اس لیے یہ فیصلہ مضبوط بنیاد پر مبنی نہیں لگتا۔

آسٹریلیا اور برازیل نے بھی امریکی ٹیرف کو بلاجواز قرار دیتے ہوئے انہیں ختم کرنے کا مطالبہ کیا، جبکہ ناروے نے کہا کہ ان اقدامات کی کوئی واضح وجہ موجود نہیں۔

کینیڈا کے وزیر برائے امریکی تجارت ڈومینک لی بلانک نے کہا کہ کینیڈا اس معاملے پر امریکا کے ساتھ تعمیری رابطہ جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہم آنے والے ہفتوں میں امریکا کے ساتھ اس معاملے اور دیگر مسائل پر بات چیت جاری رکھیں گے تاکہ دونوں ممالک کے شہریوں کو فائدہ پہنچ سکے۔

ٹرمپ انتظامیہ کی سابق تجارتی مشیر کیلی این شا نے کہا کہ نئی ٹیرف پالیسی زیادہ تر انہی اقدامات کے مطابق ہے جن کا پہلے سے اندازہ تھا، تاہم کچھ تبدیلیاں بھی کی گئی ہیں، جن میں تقریباً 471 مصنوعات کو ٹیرف سے استثنیٰ دینا شامل ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ میرے خیال میں معاشی اثرات کے لحاظ سے یہ صورتحال زیادہ تبدیل نہیں ہوئی۔ یورپی یونین جیسے شراکت داروں نے ٹیرف کی حد مقرر کرنے کے لیے مذاکرات کیے تھے، جس کی وجہ سے نئی شرحیں پہلے کے مقابلے میں کم رہیں گی۔

امریکی حکام کے مطابق تیل، گیس، کھاد، بعض غذائی اشیا، طیارے اور ان کے پرزے، اہم معدنیات اور کچھ ایسی مصنوعات جن پر پہلے ہی قومی سلامتی کے قوانین کے تحت ٹیرف عائد ہے، نئی ڈیوٹی سے مستثنیٰ ہوں گی۔

اسی طرح امریکا، میکسیکو اور کینیڈا کے درمیان تجارتی معاہدے کے تحت آنے والی کئی مصنوعات کو بھی رعایت دی گئی ہے کیونکہ ان ممالک کی سپلائی چین ایک دوسرے سے گہری طرح جڑی ہوئی ہے۔