بھارت میں جین زی کا احتجاج رنگ لے آیا، وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان مستعفی
بھارت میں جین زی اور کاکروچ جنتا پارٹی کا احتجاج رنگ لے آیا ہے اور بھارت کے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان نے ہفتے کے روز اپنے عہدے سے استعفا دینے کا اعلان کر دیا ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق، بھارت کے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان نے اپنا استعفا وزیراعظم نریندر مودی کو بھجوا دیا ہے۔
انہوں نے اس اہم فیصلے کا اعلان اپنے ’ایکس‘ اکاؤنٹ پر کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) اور مرکزی حکومت کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے تیسرے دور سے کچھ ہی گھنٹے قبل کیا۔
نئی دہلی کے تاریخی مقام جنتر منتر پر ایک ماہ سے زائد عرصے سے دھرنا دینے والے مظاہرین کی پیپر لیک تنازع کے بعد سب سے بڑی اور بنیادی مانگ یہی تھی کہ دھرمیندر پردھان استعفا دیں۔
دھرمیندر پردھان نے اپنے استعفے کا اعلان کرتے ہوئے لکھا کہ ”میں اس ملک کے نوجوانوں کی خواہشات، جذبات اور ان کی حق بجانب توقعات کا دل سے احترام کرتا ہوں۔ بھارت کی نئی نسل کے خوابوں کو پورا کرنا ہماری سیاسی اور سماجی زندگی کا اخلاقی عزم رہا ہے۔ میں اپنے معزز وزیراعظم کا شکریہ ادا کرتا ہوں جن کی بصیرت افروز قیادت میں مجھے قوم کی خدمت کا موقع ملا“۔
حکومت اور کاکروچ جنتا پارٹی کے درمیان جاری بات چیت دھرمیندر پردھان کے استعفے کے معاملے پر تعطل کا شکار تھی۔
ہفتے کی صبح سی جے پی نے اپنے موقف کا اعادہ کرتے ہوئے واضح کیا تھا کہ اگر حکومت دھرمیندر پردھان کو عہدے سے نہیں ہٹاتی تو مزید گفتگو کا کوئی جواز نہیں بنتا۔
وزیر تعلیم کے استعفے کے ساتھ ہی حکومت نے مظاہرین کی جانب سے پیش کیے گئے تمام اہم مطالبات تسلیم کر لیے ہیں۔
ان مطالبات میں دھرمیندر پردھان کا استعفا، احتجاج کرنے والے طلبا کے خلاف کسی قسم کی قانونی کارروائی نہ کرنا اور نیٹ پیپر لیک کے بعد خودکشی کرنے والے طلبا کے اہلِ خانہ کے لیے معاوضے کی فراہمی شامل تھی۔
حکومت نے جمعے کے روز باقی دو مطالبات پر سی جے پی کو یقین دہانی کرا دی تھی، تاہم استعفے کے معاملے پر پہلے خاموشی اختیار کی گئی تھی۔
وزیر تعلیم کے مستعفی ہونے کی خبر جیسے ہی جنتر منتر پر پہنچی تو وہاں موجود طلبا اور مظاہرین میں خوشی کی لہر دوڑ گئی اور پورے میدان میں جشن کا ماحول بن گیا۔
اس پیشرفت پر ردِعمل دیتے ہوئے کاکروچ جنتا پارٹی نے اپنے پیغام میں لکھا کہ ”کاکروچوں اور جمہوریت کی جیت ہوئی“۔














