ابھیجیت دیپکے بھارت کے پہلے حکومت مخالف 'جین زی' احتجاج کا چہرہ کیسے بنے؟
بھارت میں نوجوانوں کے روزگار، امتحانی پرچوں کے مبینہ لیک ہونے اور حکومتی جوابدہی کے مطالبات کے درمیان جاری احتجاجی تحریک میں 30 سالہ ابھیجیت دیپکے ایک نمایاں شخصیت کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ ان کی ایک مختصر سوشل میڈیا پوسٹ نے دیکھتے ہی دیکھتے ایک ایسی مہم کی شکل اختیار کر لی، جسے بعض مبصرین وزیر اعظم نریندر مودی کے 2014 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد نوجوانوں کی سب سے بڑی احتجاجی تحریک قرار دے رہے ہیں۔
برطانوی خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق، 16 مئی کو ابھیجیت دیپکے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر صرف چند الفاظ پر مشتمل ایک پوسٹ کی، جس میں انہوں نے لکھا، ”اگر تمام کاکروچ اکٹھے ہوجائیں تو کیا ہوگا؟“ یہ پوسٹ دراصل سپریم کورٹ کے جج سوریہ کانت کے ایک بیان پر طنزیہ ردعمل تھی۔ جج نے ایک تقریر کے دوران بے روزگار نوجوانوں کا موازنہ ”کاکروچ“ سے کیا تھا، تاہم بعد میں انہوں نے وضاحت کی کہ ان کے الفاظ کو غلط انداز میں پیش کیا گیا۔
اس دوران دیپکے کی پوسٹ تیزی سے وائرل ہوگئی اور ”کاکروچ جنتا پارٹی“ کے نام سے ایک طنزیہ آن لائن پلیٹ فارم وجود میں آیا۔ یہ پلیٹ فارم ان لاکھوں نوجوانوں کے لیے ایک علامتی مرکز بن گیا جو بے روزگاری، امتحانی پرچوں کے مبینہ لیک ہونے اور حکومتی احتساب کے مطالبات پر اپنی آواز بلند کر رہے ہیں۔
گزشتہ چند دنوں کے دوران نئی دہلی میں ہزاروں طلبہ اور نوجوانوں نے احتجاج کیا۔ مظاہرین نے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ مئی میں ہونے والے میڈیکل داخلہ امتحان کے مبینہ پرچہ لیک ہونے سے تقریباً 20 لاکھ طلبہ متاثر ہوئے۔ مختلف رپورٹس میں اس معاملے کو کئی طلبہ کی خودکشیوں سے بھی جوڑا گیا ہے۔ نئی دہلی کے علاوہ ممبئی سمیت ملک کے دیگر شہروں میں بھی وقفے وقفے سے احتجاجی مظاہرے دیکھنے میں آئے۔
اگرچہ اس تحریک میں متعدد منتظمین شامل ہیں، لیکن ابھیجیت دیپکےاس کے سب سے نمایاں چہرے کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ وہ جون کے آغاز تک امریکی شہر بوسٹن میں مقیم تھے، تاہم احتجاج شروع ہونے کے بعد بھارت واپس آئے اور دہلی کے جنتر منتر کے قریب احتجاجی سرگرمیوں میں شامل ہوگئے۔
حالیہ دنوں میں پولیس کی کارروائی کے بعد عوامی توجہ مزید اس تحریک کی جانب مبذول ہوئی، جس کے بعد دیپکے مسلسل احتجاجی مقام پر نظر آ رہے ہیں۔ وہ اجتماعات سے خطاب کرتے ہوئے مظاہرین پر زور دیتے ہیں کہ احتجاج پرامن رکھا جائے اور اپنے مطالبات پر قائم رہیں۔
دیپکے کو اس تحریک کے دوران حمایت کے ساتھ ساتھ تنقید کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ گزشتہ ہفتے ایک خاتون نے ان پر نیلی سیاہی پھینک دی، جس سے ان کا چہرہ رنگ گیا۔ بعد میں خاتون نے الزام لگایا کہ کاکروچ جنتا پارٹی نے ہندو مذہبی شخصیت بھگوان رام کی توہین کی ہے۔ اس واقعے کے بعد ڈپکے نے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو شیئر کی اور اس کے ساتھ لکھا، ”نیلا میرا رنگ ہے۔“ مبصرین کے مطابق یہ رنگ ڈاکٹر بی آر امبیڈکر سے وابستہ تحریک کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
ابھیجیت دیپکے بھارتی ریاست مہاراشٹر کے شہر اورنگ آباد میں ایک دلت خاندان میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے رائٹرز کو بتایا کہ ان کے والد انتہائی غریب پس منظر سے تعلق رکھتے تھے جبکہ ان کے دادا ایک کسان تھے۔ انہوں نے کہا کہ انکا تعلق بھارت کی تاریخی طور پر محروم دلت برادری سے ہے اور شاید اسی شناخت نے ان کی سیاسی سوچ پر گہرا اثر ڈالا ہے۔
جب وہ 6 جون کو دہلی پہنچے تو ان کے ہاتھ میں ڈاکٹر بی آر امبیڈکر کی خودنوشت ”مائی آٹو بایوگرافی“ موجود تھی۔ ڈاکٹر امبیڈکر کو دلت حقوق کے علمبردار اور بھارت کے آئین کے معماروں میں شمار کیا جاتا ہے۔
دیپکے نے 2020 میں عام آدمی پارٹی کی سوشل میڈیا ٹیم میں شمولیت اختیار کی تھی، جہاں ان کے بقول انہوں نے میمز، مزاح اور طنز پر مبنی سیاسی پیغام رسانی کا انداز سیکھا۔ وہ اب اس جماعت سے وابستہ نہیں ہیں، تاہم عام آدمی پارٹی سمیت کئی اپوزیشن جماعتوں نے اس احتجاجی تحریک کی حمایت کا اظہار کیا ہے۔
2023 میں وہ اعلیٰ تعلیم کے لیے امریکہ منتقل ہوگئے، جہاں انہوں نے بوسٹن میں تعلقات عامہ کے شعبے میں ماسٹرز کی تعلیم شروع کی، لیکن بھارتی سیاست پر ان کی نظر برقرار رہی۔
دیپکے کے مطابق وہ خود بھی اس بات پر حیران ہیں کہ ان کی ایک مختصر سوشل میڈیا پوسٹ اتنی بڑی تحریک میں تبدیل ہوگئی۔
اس تحریک کو ابتدائی طور پر دہلی کے یوٹیوبر میگھناد ایس نے بھی فروغ دیا۔ انہوں نے ایک دوست کے ساتھ مصنوعی ذہانت کی مدد سے ”کاکروچ جنتا پارٹی“ کی طنزیہ ویب سائٹ تیار کی۔ بعد میں اس سے منسلک انسٹاگرام اکاؤنٹ نے چند ہی دنوں میں کروڑوں فالوورز حاصل کر لیے، جسے اس تحریک کی تیزی سے مقبولیت کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
دیپکے کا کہنا ہے کہ اس تحریک کا مقصد بھارت میں سیاسی گفتگو کا رخ تبدیل کرنا ہے کیونکہ ان کے مطابق نوجوانوں کے مسائل مرکزی سیاسی بحث سے بڑی حد تک غائب ہو چکے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ دھمکیوں کے باوجود وہ بھارت واپس آئے اور اس وقت تک احتجاج جاری رکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں جب تک طلبہ کو انصاف نہیں مل جاتا۔
بدھ کے روز احتجاجی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ابھیجیت دیپکے نے کہا کہ یہ تحریک اپنی کامیابی تک جاری رہے گی اور وہ اپنے مطالبات سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔














