ای سی سی اجلاس: اسلام آباد مذاکرات کے سیکیورٹی انتظامات کیلئے 69 کروڑ روپے منظور

اقتصادی رابطہ کمیٹی نے مختلف وزارتوں کے لیے اربوں روپے کی تکنیکی سپلیمنٹری گرانٹس کی منظوری دے دی
شائع 05 جون 2026 09:06pm

اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے مختلف وزارتوں کے لیے اربوں روپے کی تکنیکی سپلیمنٹری گرانٹس کی منظوری دے دی، اجلاس میں اسلام آباد میں امن مذاکرات کے سیکیورٹی انتظامات کے لیے 69 کروڑ 29 لاکھ روپے کی منظوری بھی دی گئی ہے۔

وفاقی بجٹ سے چند روز قبل وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس  ہوا، جس میں اربوں روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹس، ترقیاتی فنڈز اور اہم پالیسی اقدامات کی منظوری دی گئی جب کہ اجلاس میں دفاع، سیکیورٹی، انفراسٹرکچر، توانائی اور ترقیاتی منصوبوں کے لیے بڑے مالی فیصلے کیے گئے۔

ای سی سی  اجلاس میں پائیدار ترقی کے اہداف  کے پروگرام کے لیے 7 ارب 26 لاکھ روپے سے زائد جب کہ پاکستان نیوی کے ہنگور منصوبے کے لیے 10 ارب 15 کروڑ روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ منظور کی گئی۔

اجلاس میں پی ایس او کے لیے 100 ارب روپے کی سنڈیکیٹڈ رننگ فنانس سہولیات جاری رکھنے اور  گلگت بلتستان کے ضلع شگر میں موبائل ٹاورز کی تنصیب کے لیے 18 کروڑ 35 لاکھ روپے منظورکیے گئے۔

گلگت بلتستان حکومت کے لیے 4 ارب 37 کروڑ روپے سے زائد کی رقم سمیت کراچی اور حیدرآباد اربن انفراسٹرکچر پیکیج کے لیے 8 ارب 75 کروڑ روپے سے زائد فنڈز منظور کیے گئے۔

خیبر پختونخوا کے لیے سیپ کے تحت 2 ارب 84 کروڑ روپے کے ترقیاتی فنڈز جاری کرنے، پاکستان منٹ فیز ٹو اے کی اپ گریڈیشن کے لیے 1 ارب 30 کروڑ روپے کے فنڈز کی منظوری بھی دی گئی۔

ای سی سی نے وزارتِ داخلہ کی پیش کردہ 7 سمریوں کی منظوری دیتے ہوئے اسلام آباد خودکش دھماکے کے شہدا اور متاثرین کے لیے 24 کروڑ 10 لاکھ روپے معاوضہ منظور کیا۔

اسلام آباد سیف سٹی پراجیکٹ کی توسیع کے لیے 1 ارب 88 کروڑ، ریکوڈک پراجیکٹ کی سیکیورٹی چارجز کے لیے 41 کروڑ 39 لاکھ، پاکستان کوسٹ گارڈز کے لیے کے لیے 80 کروڑ جب کہ نیکٹا کے لیے 15 کروڑ روپے کی تکنیکی سپلیمنٹری گرانٹ منظور کی گئی۔

ای سی سی اجلاس میں  آئی پی او پاکستان کے مالی سال 26-2025 کے لیے 91 کروڑ 47 لاکھ روپے کے بجٹ تخمینے منظور کیے گئے۔

پارلیمانی سیکرٹریز کی تنخواہوں اور الائونسز کے لیے 11 کروڑ 99 لاکھ روپے کی گرانٹ اور پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد کی جامع مسجد کی توسیع اور اپ گریڈیشن کے لیے بھی  3 کروڑ روپے منظور کیے گئے۔

اجلاس میں بجٹ سازی کے عمل میں کردار ادا کرنے والی بعض سرکاری اداروں کو بجٹ اعزازیہ پالیسی میں شامل کرنے کی بھی منظوری دی گئی۔