امریکا نے تہران کے فنڈز سے خلیج میں ہونے والے نقصان کے ازالے کا فیصلہ کرلیا

ایرانی اثاثوں کا خلیجی ممالک کی تعمیرِ نو کے لیے استعمال امریکا اور ایران کے درمیان ایک نیا تنازع کھڑا کرسکتا ہے: ماہرین
شائع 07 جون 2026 09:11am

امریکی حکومت نے ایران کے اثاثوں کو خلیجی ممالک کی تعمیرِ نو اور ایرانی حملوں سے ہونے والے نقصانات کے ازالے کے لیے استعمال کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران نے کویت اور بحرین پر حملوں کے بعد مزید ڈرونز بھی لانچ کیے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے ایک ٹیم کو ہدایت دی ہے کہ وہ ایران کی جانب سے خلیجی اتحادی ممالک کو پہنچنے والے نقصانات کا تخمینہ لگائے۔

امریکی حکام مستقبل میں ہونے والی ممکنہ تباہی کے ازالے کے لیے بھی ایرانی اثاثوں کے استعمال پر غور کر رہے ہیں۔

یہ انکشاف ایک روز بعد سامنے آیا جب ایرانی سپریم لیڈر کے مشیر محسن رضائی نے سی این این کو انٹرویو میں کہا تھا کہ تین ماہ سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے امن معاہدے کی ایک اہم شرط امریکا میں منجمد 24 ارب ڈالر مالیت کے ایرانی اثاثوں کی رہائی ہے۔

ہفتے کے روز ذرائع نے یہ واضح نہیں کیا کہ امریکی محکمہ خزانہ کن نوعیت کے اثاثوں کا جائزہ لے رہا ہے۔ تاہم استعمال کی گئی اصطلاحات سے یہ تاثر نہیں ملا کہ یہ اقدام صرف منجمد اثاثوں تک محدود ہوگا۔

مبصرین کے مطابق ایرانی اثاثوں کو خلیجی ممالک کی تعمیرِ نو کے لیے استعمال کرنے کی امریکی تجویز واشنگٹن اور تہران کے درمیان نازک جنگ بندی کے لیے ایک نئی کشیدگی کا سبب بن سکتی ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب ہفتے کے آخر میں دونوں ممالک کے درمیان دوبارہ حملوں کا تبادلہ ہوا۔

امریکا اور ایران کے درمیان جاری امن مذاکرات بظاہر تعطل کا شکار ہیں۔ تاہم ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی آئی ایس این اے کے مطابق پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی ہفتے کے روز تہران پہنچے اور ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کے لیے ایک خصوصی خط بھی ساتھ لائے۔

ادھر امریکی افواج نے ہفتے کی صبح آبنائے ہرمز میں واقع گورک اور جزیرہ قشم کے ایرانی ساحلی ریڈار مراکز پر حملے کیے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ نے کہا تھا کہ اس کارروائی سے قبل ایران کی جانب سے لانچ کیے گئے ایسے ڈرونز مار گرائے گئے تھے جو سمندری آمدورفت کے لیے خطرہ بن رہے تھے۔

امریکی فوج نے بعد ازاں مزید دو ایرانی حملہ آور ڈرونز کو بھی تباہ کرنے کا دعویٰ کیا جو آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے لیے خطرہ تصور کیے جا رہے تھے۔

بعد ازاں ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا تھا کہ اس نے کویت اور بحرین میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے۔

کویتی فوج کے مطابق ہفتے کے روز اس نے سات بیلسٹک میزائلوں کا مقابلہ کیا جو رہائشی علاقوں کے اوپر سے گزرے، جس کے نتیجے میں مالی نقصان ہوا تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

بحرین میں حملوں کے دوران خطرے کے سائرن بجائے اٹھے تھے اور شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت کی گئی تھی۔ کویت اور بحرین دونوں نے ان حملوں کی مذمت کی تھی۔

بعد ازاں ایران نے دعویٰ کیا کہ اس نے دونوں ممالک میں موجود امریکی اڈوں کو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا، تاہم امریکی فوج کا کہنا تھا کہ چھ میزائل راستے میں تباہ کر دیے گئے جبکہ ساتواں اپنے ہدف تک پہنچنے میں ناکام رہا۔