بھارت کے لیے نئی شرمندگی: 'تیجس' طیاروں کے پرزوں کی جعلی ٹیسٹنگ رپورٹس کا انکشاف
بھارت کی سرکاری طیارہ ساز کمپنی ہندوستان ایروناٹکس لمیٹڈ نے لڑاکا طیارے ’تیجس‘ کے پروجیکٹ ؛ ایم کے ون اے‘ میں سنگین دھوکہ دہی اور جعلی دستاویزات جمع کرانے پر حیدرآباد کے ایک سپلائر کے خلاف باقاعدہ قانونی کارروائی شروع کردی ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق ہندستان ایروناٹکس لمیٹڈ کے بنگلور میں قائم ایئرکرافٹ ڈویژن نے مارچ 2022 سے ’ٹی ای سی ایرو ڈیوائسز‘ نامی کمپنی کو لڑاکا طیارے ’تیجس‘ کے ایک پروگرام کے لیے مختلف پرزہ جات کی فراہمی کے 18 آرڈرز جاری دیے تھے۔
کمپنی نے پرزوں کی مضبوطی اور پائیداری سے متعلق 199 ٹیسٹ رپورٹس اور دیگر متعلقہ دستاویزات جمع کرائیں جس کے بعد اسے 35 مختلف اقسام کے پرزہ جات تیار کرنے کی منظوری دی گئی تھی۔
تاہم جب ادارے کی جانب سے پرزوں کے معیار کی جانچ کے دوران اصل ٹیسٹ رپورٹس طلب کی گئیں تو کمپنی اصل رپورٹس فراہم کرنے میں ناکام رہی۔
کچھ عرصہ بعد کمپنی نے ایک معذرت نامہ جمع کرایا جس میں اعتراف کیا گیا تھا کہ حیدرآباد کی ٹیسٹنگ کمپنی کے نام پر بنائی گئی رپورٹس جعلی تھیں۔
ہندوستان ایئروناٹکس نے اس معاملے کی مزید جانچ کے لیے 29 نومبر 2023 کو آڈٹ کیا تھا۔ اس دوران مبینہ طور پر یہ انکشاف ہوا کہ ’ٹی ای سی ایرو ڈیوائسز‘ کی جانب سے جمع کرائی گئی 199 میں سے کوئی بھی ٹیسٹ رپورٹ متعلقہ ٹیسٹنگ ایجنسی نے جاری نہیں کی تھی۔
بھارت کی سرکاری طیارہ ساز کمپنی کے مطابق فروری 2023 سے ستمبر 2023 کے درمیان جمع کرائی گئی تمام 199 رپورٹس جعلی تھیں اور جعلی رپورٹس تیار کرنے کے لیے بغیر اجازت کمپنی کا نام اور دستخط استعمال کیے گئے۔
جس کے بعد اب ہندوستان ایئروناٹکس نے متعلقہ کمپنی کے خلاف قانونی کارروائی شروع کردی ہے۔
حالیہ عرصے میں بھارت کے دیگر طیاروں کی طرح تیجس طیارہ بھی حادثات کا شکار ہونے کی وجہ سے خبروں میں رہا ہے۔ بھارتی ریاست راجستھان کے علاقے جیسلمیر میں ایک تربیتی پرواز کے دوران تیجس طیارہ تکنیکی خرابی کے باعث کریش ہو گیا تھا۔
نومبر 2025 میں متحدہ عرب امارات میں دبئی ایئر شو کی نمائش کے دوران بھی بھارت کا ’تیجس‘ طیارہ کنٹرول کھو کر تباہ ہوگیا تھا جب کہ فروری 2026 کے اوائل میں بھارتی فضائیہ کا ایک اور تیجس طیارہ تربیتی پرواز کے بعد لینڈنگ کے دوران کریش کا شکار ہوگیا تھا۔
دفاعی ماہرین کے مطابق، لڑاکا طیاروں کے مینوفیکچرنگ سپلائی چین میں ایک بھی پرزے کا غیر معیاری ہونا پائلٹ کی جان اور مہنگے ترین طیاروں کے لیے انتہائی خطرناک ہو سکتا ہے۔














