کرکٹ کے شوق نے معصوم بچی کی جان بچا لی
برطانیہ کے دارالحکومت لندن میں ایک ایسا سنسنی خیز واقعہ پیش آیا ہے جہاں ایک تین سالہ معصوم بچی کی زندگی بچانے کے لیے کرکٹ کی مہارت کام آ گئی۔
مشرقی لندن کی ایک مصروف سڑک پر واقع دکان کے اوپر بنے فلیٹ کی کھڑکی کے بیرونی حصے پر یہ چھوٹی بچی اچانک لٹک گئی۔ وہاں موجود لوگ یہ ہولناک منظر دیکھ کر خوفزدہ ہو گئے کیونکہ بچی تقریباً نو منٹ تک اس اونچی کھڑکی کی پٹی سے خطرناک انداز میں لٹکی رہی۔
برطانوی اخبار دی میٹرو کے مطابق یہ واقعہ منگل کی دوپہر مشرقی لندن کے علاقے ایلفورڈ ہائی روڈ پر ایک دکان کے اوپر واقع فلیٹ میں پیش آیا۔ عینی شاہدین کے مطابق ننھی بچی کھڑکی کے کنارے کو پکڑے ہوئے تھی جبکہ نیچے موجود لوگ بے بسی کے ساتھ اسے دیکھ رہے تھے۔
اس نازک صورتحال کو دیکھ کر وہاں سے گزرنے والے ایک پولیس افسر اور مقامی ریسٹورنٹ مینیجر محمد جسیل فوراً بچی کی مدد کے لیے آ گئے۔
محمد جسیل، جو خود پانچ ماہ کے جڑواں بچوں کے والد ہیں، نے میڈیا کو بتایا کہ جب انہوں نے اس بچی کو اتنے بڑے خطرے میں دیکھا تو ایک باپ ہونے کے ناطے ان کا دل تڑپ اٹھا اور انہوں نے بغیر کچھ سوچے سمجھے بس اپنے ضمیر کی آواز پر قدم آگے بڑھا دیا۔
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ بچی آہستہ آہستہ اپنی گرفت کھو رہی تھی۔ اسی دوران وہاں موجود ایک اور راہگیر نے نیچے ایک سیڑھی لا کر کھڑی کرنے کی کوشش کی تاکہ گرنے کی شدت کو کم کیا جا سکے۔
چند لمحوں بعد بچی کا ہاتھ چھوٹ گیا اور وہ نیچے گرنے لگی، لیکن محمد جسیل نے کمال چستی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسے زمین پر گرنے سے پہلے ہی ہوا میں بحفاظت دبوچ لیا۔
محمد جسیل نے کہا کہ ہندوستان میں ماضی کے دوران کرکٹ کھیلنے کا میرا تجربہ اس مشکل وقت میں میرے کام آیا، جس کی وجہ سے میرا پورا دھیان بچی پر رہا اور میں یہ اہم کیچ پکڑنے میں کامیاب ہو گیا۔
واقعے کے دوران موجود پولیس افسر نے بھی اہم کردار ادا کیا اور بچی کو پکڑنے کے بعد ان دونوں کو سنبھالا تاکہ وہ توازن نہ کھو بیٹھیں اور نیچے کھڑے ہجوم نے سکون کا سانس لیتے ہوئے تالیاں بجائیں۔
خوش قسمتی سے اس پورے واقعے میں بچی کو ایک بھی خراش نہیں آئی۔ بچی کے والد نے محمد جسیل اور پولیس افسر کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ دونوں حیرت انگیز ہیرو ہیں جنہوں نے میری بچی کی زندگی بچائی ہے، میری بیٹی اب بالکل ٹھیک ہے اور اسکول بھی جانے لگی ہے۔
لندن کی میٹروپولیٹن پولیس نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ انہیں سہ پہر تین بج کر تئیس منٹ پر بچی کی حفاظت کے حوالے سے کال موصول ہوئی تھی۔ پولیس افسر اور محمد جسیل کی فوری سمجھداری اور بروقت کارروائی کی بدولت محض نو منٹ کے اندر یعنی تین بج کر بتیس منٹ پر بچی کو بغیر کسی نقصان کے بحفاظت نیچے اتار لیا گیا۔
















