ایک لاکھ سال سے بنا کسی 'نر' کے زندہ مچھلی کی انوکھی نسل

پیدا ہونے والے تمام بچے صرف بیٹیاں ہوتی ہیں جو بالکل اپنی ماں کی ہوبہو کاپی ہوتی ہیں۔
شائع 14 جون 2026 01:37pm

میکسیکو اور ٹیکساس کے دریاؤں میں تیرنے والی ایک چھوٹی اور چمکدار مچھلی نے دنیا بھر کے سائنسدانوں کو حیران کر دیا ہے کیونکہ اس مچھلی کی پوری دنیا میں کوئی نر مچھلی نہیں ہے اور یہ پچھلے ایک لاکھ سال سے صرف ماؤں کے ذریعے ہی اپنی نسل چلا رہی ہے۔ سائنسدانوں کا خیال تھا کہ ایسی مخلوق بہت جلد دنیا سے ختم ہو جاتی ہے لیکن یہ مچھلی نہ صرف زندہ ہے بلکہ بہت مزے سے اپنی زندگی گزار رہی ہے۔

بی بی سی میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق اس مچھلی کا نام ایمیزون مولی ہے اور اس مچھلی کی مائیں بچے پیدا کرنے کے لیے دوسری قسم کی نر مچھلیوں کے پاس جاتی تو ہیں لیکن ان کے حصے کے جینیاتی مادے یعنی ڈی این اے کو اپنے اندر شامل نہیں کرتیں بلکہ اسے صرف انڈے کو بیدار کرنے کے لیے استعمال کرتی ہیں۔ اس طرح پیدا ہونے والے تمام بچے صرف بیٹیاں ہوتی ہیں جو بالکل اپنی ماں کی ہوبہو کاپی یعنی کلون ہوتی ہیں۔

سائنسدانوں کا پرانا نظریہ یہ تھا کہ جو جاندار نر کے بغیر نسل بڑھاتے ہیں وہ جلد ہی بیماریوں اور جینیاتی خرابیوں کا شکار ہو کر ختم ہو جاتے ہیں کیونکہ ان کے ہاں نئے اور صحت مند ڈی این اے کا ملاپ نہیں ہوتا۔ لیکن جرمنی کی یونیورسٹی کے ایک سائنسدان ایڈورڈ رائس مائیر نے اس مچھلی پر نئی تحقیق کی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ہم سمجھتے تھے کہ نسل کو صحت مند رکھنے کا واحد طریقہ نر اور مادہ کا ملاپ ہی ہے لیکن اب ہمیں معلوم ہوا ہے کہ قدرت کے پاس اس کام کا ایک اور طریقہ بھی موجود ہے۔

تحقیق کے مطابق اس مچھلی کے اندر ایک ایسا نظام ہے جو کمپیوٹر کی طرح خرابیوں کو دور کرتا ہے۔ جب بھی مچھلی کے ڈی این اے میں کوئی نقص یا بیماری پیدا ہونے لگتی ہے تو اس کا جسم اپنے اندر موجود دوسری اچھی جینیاتی کاپی کو دیکھ کر اس خراب حصے کو ٹھیک کر دیتا ہے، بالکل ایسے ہی جیسے ہم کسی کمپیوٹر میں خراب فائل کو ہٹا کر نئی فائل کاپی پیسٹ کر دیتے ہیں۔ سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ مچھلی اپنے جسم کے ان حصوں کو سب سے زیادہ اور جلدی ٹھیک کرتی ہے جہاں سب سے خطرناک بیماری یا نقصان کا خطرہ ہوتا ہے۔

ایڈورڈ رائسمائیر کا کہنا ہے کہ جو تبدیلیاں سب سے زیادہ خطرناک ہو سکتی ہیں، مچھلی کے جسم میں بالکل اسی جگہ پر یہ کاپی پیسٹ کا نظام سب سے زیادہ تیزی سے کام کرتا ہے۔

صرف یہی مچھلی نہیں بلکہ دنیا میں کچھ اور بھی ایسے چھوٹے جاندار ہیں جو لاکھوں سال سے بغیر نر کے زندہ ہیں۔ برطانیہ کی یونیورسٹی آف پلائی ماؤتھ کی ماہر زولوجی کیارا بوشیٹی ایک ایسے ہی ریت کے ذرے برابر جاندار روٹیفر کا ذکر کرتی ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ سچی بات تو یہ ہے کہ ہم ابھی تک پوری طرح نہیں جانتے کہ یہ اتنے طویل عرصے سے کیسے زندہ ہیں۔ کیارا بوشیٹی بتاتی ہیں کہ یہ ننھا جاندار اپنے آس پاس کے ماحول اور دیگر جانداروں سے اچھے جینیاتی مادے چوری کر لیتا ہے جس کی وجہ سے یہ شدید گرمی، خشکی اور یہاں تک کہ برف میں ہزاروں سال جمنے کے بعد بھی دوبارہ زندہ ہو جاتا ہے۔

دوسری طرف نیدر لینڈز کے ایک اور سائنسدان ڈیو اسپائیر کا کہنا ہے کہ قدرت میں ہر نظام کے پاس غلطیوں کو سدھارنے کا کوئی نہ کوئی طریقہ ہوتا ہے اور بغیر نر کے رہنے والے جانداروں نے بھی ان غلطیوں سے بچنے کا اپنا الگ راستہ ڈھونڈ لیا ہے۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اس مچھلی کے اس جادوئی نظام کو سمجھنے سے انسانوں کو بھی فائدہ ہو سکتا ہے کیونکہ انسانوں میں کینسر جیسی بیماریاں بھی ڈی این اے کی خرابی کی وجہ سے ہوتی ہیں۔

اگر ہم یہ سمجھ جائیں کہ قدرت ان خرابیوں کو خود کیسے ٹھیک کرتی ہے تو مستقبل میں انسانی بیماریوں کا علاج ڈھونڈنے میں بڑی مدد مل سکتی ہے۔ یہ مچھلی اس بات کا ثبوت ہے کہ قدرت کے راستے ہماری سوچ سے کہیں زیادہ وسیع ہیں۔