قطر اور پاکستان کی 'جنونی سفارت کاری' نے ایران امریکا امن معاہدہ کیسے بچایا؟

ایران اور امریکا کو مذاکرات کی میز تک لانے میں متعدد علاقائی ممالک نے کلیدی کردار ادا کیا
شائع 15 جون 2026 11:15am

ایران اور امریکا کے درمیان طے پانے والے امن معاہدے کے پسِ پردہ قطر اور پاکستان کی متحرک سفارت کاری کے حوالے سے اہم تفصیلات سامنے آئی ہیں، جن کے مطابق خطے میں کشیدگی کم کرنے اور دونوں ممالک کو مذاکرات کی میز تک لانے میں متعدد علاقائی ممالک نے کلیدی کردار ادا کیا۔

قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کے معروف صحافی اسامہ بن جاوید کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ چند دنوں کے دوران قطر اور پاکستان نے مسلسل سفارتی رابطوں اور پسِ پردہ کوششوں کے ذریعے ایسے حالات پیدا کرنے میں مدد دی جن کے نتیجے میں امریکا اور ایران کے درمیان معاہدے کی راہ ہموار ہوئی۔

رپورٹ کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ممکنہ تصادم کے خطرات کے دوران قطری قیادت نے تہران کے ساتھ براہِ راست رابطے برقرار رکھے۔

اسی سلسلے میں قطری وفد نے ایران کے دو اہم دورے کیے، جن کا مقصد کشیدگی میں کمی اور سفارتی حل کی تلاش تھا۔

پہلا دورہ ایسے وقت میں کیا گیا جب خطے میں صورتحال انتہائی نازک تھی اور جنگ کے خدشات اپنی انتہا کو پہنچ چکے تھے۔

اس دوران قطری حکام نے ایرانی قیادت کو مذاکرات اور سفارتی راستہ اختیار کرنے پر زور دیا اور امن معاہدے کے امکانات کو برقرار رکھنے کی کوششیں جاری رکھیں۔

رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس پورے سفارتی عمل میں پاکستان کا کردار بھی غیر معمولی اہمیت کا حامل رہا۔

پاکستانی حکام نے نہ صرف واشنگٹن اور تہران کے ساتھ مسلسل رابطے رکھے بلکہ علاقائی ممالک کے درمیان بھی رابطہ کاری کا فریضہ انجام دیا۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان اس دوران ایک چار ملکی علاقائی اتحاد کی قیادت کرتا رہا جس میں سعودی عرب، مصر اور ترکیہ شامل تھے۔ بتایا جاتا ہے کہ اس اتحاد نے خطے میں استحکام برقرار رکھنے اور ممکنہ بڑے تصادم کو روکنے کے لیے مشترکہ سفارتی کوششیں کیں۔

سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ قطر کی متحرک سفارت کاری اور پاکستان کی قیادت میں علاقائی ممالک کی مشترکہ کاوشوں نے مذاکراتی ماحول کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کیا، جس کے نتیجے میں امریکا اور ایران کے درمیان معاہدے کی راہ ہموار ہوئی۔

رپورٹس کے مطابق اب 19 جون کو سوئٹزرلینڈ میں معاہدے سے متعلق حتمی مرحلے کی پیش رفت متوقع ہے، جبکہ خطے میں امن کے قیام کے لیے جاری سفارتی کوششوں کو عالمی سطح پر اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔