صدر ٹرمپ کا ایران سے معاہدے کی تفصیلات جلد سامنے لانے کا اعلان
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے معاہدے کی تفصیلات جلد سامنے لانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ معاہدے کا ایک ایک لفظ سامنے لاؤں گا۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا کا صدر مضبوط اور طاقتور شخص کو بناؤ گے تو اچھی چیزیں ہوں گی، ایرانی یورینیم حاصل کر کے اسے تباہ کردیں گے، ایران کو بحالی میں 20 سال لگیں گے، وہ اب جوہری ہتھیار نہیں بنائے گا۔
منگل کو فرانس کے شہر ایویان میں جاری ’جی 7 سربراہی اجلاس‘ کے موقع پر متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان سے ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر امریکا کا صدر ایک مضبوط اور طاقتور شخص کو بنایا جائے تو اس کے بہتر نتائج سامنے آتے ہیں۔
ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا یورینیم حاصل کر کے اسے تباہ کر دے گا اور ایران جوہری ہتھیار حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوگا۔ ان کے مطابق ایران کو موجودہ صورت حال سے بحالی میں تقریباً 20 سال لگ سکتے ہیں جب کہ انہوں نے دعویٰ کیا کہ وہ اپنے مطلوبہ اہداف کا 99.9 فیصد حاصل کر چکے ہیں۔
امریکی صدر نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز جمعے سے مکمل طور پر کھل جائے گی اور کوئی ٹول ٹیکس نہیں ہوگا جب کہ انہوں نے اس حوالے سے امریکی بحریہ کو کامیابی پر مبارکباد بھی دی۔
سابق امریکی صدر باراک اوباما کے دور میں ہونے والے جوہری معاہدے پر تنقید کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ معاہدہ ایران کو جوہری ہتھیاروں کی طرف لے جانے کا راستہ تھا جب کہ ان کا موجودہ مؤقف اس کے برعکس ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ایک یا دو روز میں متعلقہ دستاویزات میڈیا کے ساتھ شیئر کی جائیں گی تاکہ تمام تفصیلات عوام کے سامنے لائی جا سکیں اور وہ اس حوالے سے ایک باقاعدہ پریس کانفرنس میں معاہدے کا متن بھی پڑھ کر سنانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
ابراہیمی معاہدوں کے حوالے سے امریکی صدر نے کہا کہ خطے کے تمام ممالک بالآخر اس عمل میں شامل ہو جائیں گے اور ان کے مطابق اس راہ میں اصل رکاوٹ صرف ایران کی صورت حال تھی۔
صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ انہیں امید ہے کہ عرب اور مشرقِ وسطیٰ کے مزید ممالک اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کے لیے ابراہام معاہدوں میں شامل ہوں گے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران کے ساتھ طے پانے والے مفاہمتی معاہدے کو کانگریس کے سامنے پیش کرنے پر انہیں کوئی اعتراض نہیں اور وہ اسے منظوری کے لیے بھیجنے کے حامی ہیں۔
امریکی صدر کے مطابق ایران کے ساتھ طے پانے والی مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کا متن بھی مناسب وقت پر باضابطہ طور پر جاری کیا جائے گا اور اس کی تفصیلات ایک پریس کانفرنس میں میڈیا کے سامنے پیش کی جائیں گی۔
اس سے قبل قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان اہم ملاقات ہوئی، جس میں دونوں رہنماؤں نے مشرقِ وسطیٰ کی سیکیورٹی، سرمایہ کاری اور ایران کے ساتھ طے پانے والے معاہدے پر تبادلہ خیال کیا۔
اس موقع پر صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ اعلان کردہ معاہدہ کامیاب ثابت ہونا چاہیے اور وہ توقع رکھتے ہیں کہ مجوزہ دوسرے مرحلے کے مذاکرات نسبتاً آسان ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں آگے بڑھنے کے لیے اب سازگار ماحول پیدا ہو چکا ہے۔
صدر ٹرمپ نے امریکا کی جانب سے ایران میں سرمایہ کاری کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ امریکا ایران میں کوئی سرمایہ نہیں لگا رہا، ایسی باتیں بے بنیاد ہیں۔ انہوں نے ایران کے ساتھ طے پانے والے معاہدے کو منصفانہ اور بہترین قرار دیا۔
صدر ٹرمپ نے مذاکرات کے معاملے پر قطر کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ قطر کے ساتھ کام کرنا خوشگوار تجربہ رہا ہے اور وہ قطر اور اس کے عوام سے بے حد متاثر ہیں۔
قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی نے امریکی صدر کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدہ پورے مشرقِ وسطیٰ کے لیے بہتر ثابت ہوسکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان طے پانے والا معاہدہ نہ صرف خطے بلکہ ایران کے لیے بھی اہمیت رکھتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب بھی دوست ممالک مدد طلب کرتے ہیں، قطر تعاون کے لیے تیار رہتا ہے۔
صدر ٹرمپ نے اسرائیل کی جانب سے ایران معاہدے پر دستخط سے کچھ دیر قبل بیروت پر کیے گئے حملے پر بھی ناپسندیدگی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ انہیں یہ کارروائی پسند نہیں آئی جس پر اسرائیل کو تحفظات سے آگاہ کردیا تھا۔
انہوں نے لبنان پر اسرائیلی جارحیت کو محدود نوعیت کا تنازع قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ انہیں لگتا ہے کہ اسرائیل لبنان پر حملے جاری بھی رکھے تو ایران کے ساتھ معاہدہ برقرار رہ سکتا ہے۔ امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اسرائیل کو لبنان کے معاملے پر ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے اسرائیل کو مشورہ دیا تھا کہ حزب اللہ کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے شام کو کردار ادا کرنے دیا جائے کیوں کہ ان کے خیال میں شام اس معاملے کو بہتر انداز میں سنبھال سکتا ہے۔
ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ان کے لیے سب سے اہم نکتہ یہی ہے جو
معاہدے میں بھی واضح طور پر درج ہے کہ ایران کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا۔ انہوں نے ایک مرتبہ پھر دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ اگر ایران نے جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش کی تو اسے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔














