ایران آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری راستوں پر فیس وصول کرے گا: باقر قالیباف
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز جنگ سے پہلے کی صورت حال پر واپس نہیں جائے گا، تاہم اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ایران بین الاقوامی قوانین یا عالمی بحری جہاز رانی کے ضوابط کی خلاف ورزی کرے گا۔
باقر قالیباف نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری راستوں پر فراہم کی جانے والی مختلف خدمات کے عوض فیس وصول کرے گا۔
انہوں نے واضح کیا کہ یہ اقدام بین الاقوامی قوانین کے دائرے میں رہتے ہوئے کیا جائے گا اور اس کا مقصد عالمی تجارت یا جہاز رانی میں رکاوٹ پیدا کرنا نہیں ہے۔
ایرانی اسپیکر نے مزید بتایا کہ ملک میں سرمایہ کاری اور ترقیاتی منصوبوں کے لیے 300 ارب ڈالر مختص کیے گئے ہیں۔
ان کے مطابق اس خطیر رقم کا ایک حصہ جنگ اور حالیہ کشیدگی سے متاثرہ علاقوں کی تعمیر نو اور بحالی پر خرچ کیا جائے گا تاکہ بنیادی ڈھانچے کی بحالی اور اقتصادی سرگرمیوں کو فروغ دیا جا سکے۔
باقر قالیباف کا کہنا تھا کہ ایران خطے میں استحکام اور اقتصادی ترقی کے لیے اپنی پالیسیوں پر عمل پیرا ہے اور آبنائے ہرمز سے متعلق اقدامات بھی اسی حکمت عملی کا حصہ ہیں۔
خیال رہے کہ امریکا اور ایران نے تاریخی امن معاہدے پر آن لائن دستخط کر دیے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے ’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘ پر الیکٹرانک دستخط کیے۔
اس کامیابی کا اعلان پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے کیا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے خصوصی بیان میں اعلان کرتے ہوئے کہا کہ میں نے اس معاہدے میں دونوں ملکوں کے بیچ ثالث کا کردار ادا کیا ہے اور بطور ثالث میں نے اس معاہدے کی منظوری دے دی ہے۔











