خیبرپختونخوا بجٹ: تنخواہ و پنشن میں 7 فیصد اضافہ، کم از کم اجرت 45 ہزار مقرر
خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے آئندہ مالی سال 27-2026 کا 2122 ارب روپے حجم کا بجٹ پیش کردیا ہے، جس میں 48 ارب روپے خسارے کا تخمینہ لگایا گیا ہے جب کہ بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 7 فیصد اضافہ اور کم از کم اجرات 45 ہزار روپے مقرر کی گئی ہے۔
جمعے کو اسپیکر بابر سلیم سواتی کی زیر صدارت خیبرپختونخوا اسمبلی کا بجٹ اجلاس ہوا۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے بجٹ تقریر کا آغاز کیا تو اپوزیشن ارکان نے شدید نعرے بازی اور شور شرابا شروع کردیا۔ اس دوران مسلم لیگ ن کی ایم پی اے صوبیہ شاہد نے بجٹ کاپی پھاڑ دی۔
بعدازاں خیبر پختونخوا حکومت نے مالی سال 27-2026 کے لیے 48 ارب روپے خسارے کے ساتھ بجٹ پیش کردیا، وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل افریدی نے نئے مالی سال کے لیے 2 ہزار 122 ارب روپے کا بجٹ پیش کیا۔
بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 7 فیصد اضافے جب کہ کم از کم ماہانہ اجرت 5 ہزار روپے بڑھا کر 45 ہزار روپے کرنے کی تجویز شامل ہے۔
سہیل آفریدی نے بجٹ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بجٹ میں ترقیاتی پروگرام کے لیے 519 ارب 10 کروڑ 39 لاکھ 10 ہزار روپے مختص کیے گئے ہیں، بندوبستی اضلاع کے لیے 427 ارب 18 کروڑ 27 لاکھ جب کہ قبائلی اضلاع کے لیے 39 ارب 63 کروڑ 72 لاکھ مختص کرنے کی تجویز ہے، اسی طرح ضم اضلاع کے لیے 52 ارب 28 کروڑ 40 لاکھ مختص کیے گئے ہیں۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ سالانہ ترقیاتی پروگرام میں 2765 منصوبے شامل ہیں جب کہ 1201 نئے منصوبوں کا بھی آغاز کیا جائے گا، بندوبستی اضلاع میں 2070 منصوبے شامل ہیں، ضم اضلاع میں 318 ترقیاتی منصوبے شامل ہیں جب کہ 377 منصوبے تیز رفتار ترقیاتی پروگرام میں شامل ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ خیبر پختونخوا کے بجٹ میں صحت کے لیے مجموعی طور پر 334 ارب اور تعلیم کے لیے 468 ارب مختص جب کہ سرکاری اسپتالوں میں ادویات کے لیے 14 ارب رکھے گئے ہیں، مفت کتب اور ای ایس ای ایف گرانٹ کے لیے 8.5 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔
سہیل آفریدی کے مطابق بجٹ میں اسکولوں سے باہر بچوں کے لیے 5 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، کم کارکردگی والے اسکولوں کی آؤٹ سورسنگ کے لیے 3.3 ارب روپے جب کہ طلبہ کو بلا سود قرضوں کے لیے 2 ارب روپے مختص کیے گئے، اسی طرح اساتذہ کی بھرتی کے لیے 1.7 ارب روپے اور دینی مدارس کے طلبہ کے لیے 145 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے بتایا کہ صوبے کے امن و امان کے لیے 191 ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے، بی آر ٹی کے لیے 7.5 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جب کہ نئے مالی سال کے بجٹ میں ریسکیو 1122 کی توسیع کے لیے 2.2 ارب مختص کیے گئے ہیں جب کہ بیرون ملک جانے والوں کے لیے 2 ارب قرضے مختص کیے گئے ہیں۔
انہوں نے ایوان کو مزید بتایا کہ ترقیاتی منصوبوں کے لیے 2448 ارب روپے درکار ہیں جب کہ سڑکوں کی تعمیر کے لیے 39 ارب 49 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ سرکاری یونیورسٹیوں کے لیے 11.9 ارب روپے اور ہیومن کیپیٹل انویسٹمنٹ پروجیکٹ کے لیے 8.7 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ شہری ترقی کے لیے 38 ارب، صحت کے لیے 16 ارب اور تعلیم کے لیے 7 ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے۔
دوسری جانب فنانس بل 2026 کے تحت صوبائی محصولات کا ہدف 182 ارب 41 کروڑ روپے مقرر کیا گیا ہے جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 41 فیصد زیادہ ہے۔ اسی طرح پولیس کا بجٹ 164 ارب سے بڑھا کر 191 ارب کیا گیا ہے، نئے بجٹ میں حکومت نے پراپرٹی ٹیکس، موٹر وہیکل ٹیکسیشن، سیلز ٹیکس آن سروسز اور دیگر مالیاتی قوانین میں ترامیم کی تجویز بھی دی ہے۔















