آبنائے ہرمز کا مستقبل: ایران اور عمان نے فیصلے کے لیے مشترکہ کمیٹی قائم کردی
عمان اور ایران نے آبنائے ہرمز کے انتظام سے متعلق مذاکرات کے لیے مشترکہ ورکنگ گروپ قائم کرنے پر اتفاق کیا ہے جو آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی آمد و رفت کے حوالے سے انتظامات کا جائزہ لے گا۔ یہ فیصلہ ایرانی وفد کی مسقط میں عمان کے اعلیٰ حکام کے ساتھ ملاقاتوں کے بعد سامنے آیا ہے۔
ایران اور عمان کی جانب سے منگل کو جاری مشترکہ بیان کے مطابق آبنائے ہرمز سے متعلق تمام انتظامات ان کی خودمختاری اور سمندری حدود کے احترام کے تناظر میں ہی کیے جائیں گے۔
عمان اور ایران نے اس بات پر بھی زور دیا کہ آبنائے ہرمز جیسے اہم سمندری راستے میں استحکام برقرار رکھنے کے لیے علاقائی اور بین الاقوامی تعاون ناگزیر ہے۔
یہ پیش رفت اس وسیع تر سفارتی عمل کا حصہ ہے جس کے تحت امریکا-ایران مذاکرات کے بعد قطر اور پاکستان نے مشترکہ اعلامیہ جاری کیا تھا، جس میں فریقین کے درمیان کشیدگی میں کمی اور حملوں کے خاتمے کے لیے ’ڈی کنفلکٹ سیل‘ کے قیام پر اتفاق کیا گیا تھا۔
پاکستان کی ثالثی میں امریکا اور ایران کے درمیان طے ہونے والے تاریخی امن معاہدے میں طے پایا تھا کہ اگلے 60 روز تک آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کو بغیر کسی ٹیکس یا رکاوٹ کے گزرنے دے گا۔ ساتھ ہی ایران کو پابند کیا گیا تھا کہ وہ اس گزرگاہ کے مستقل انتظام کے لیے اپنے پڑوسی ملک عمان اور دیگر خلیجی ممالک سے بات چیت کرے۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور چیف مذاکرات کار باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی سوئٹزرلینڈ میں امریکا کے ساتھ مذاکرات کے فوراً بعد مسقط پہنچے تھے۔ ایرانی وفد نے عمان کے بادشاہ سلطان ہیثم بن طارق سے خصوصی ملاقات کی جب کہ عمان کے وزیر خارجہ سید بدر البوسعیدی اور دیگر حکام کے ساتھ وفود کی سطح پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔
اعلامیے کے مطابق دونوں ملکوں نے ’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘ کے تحت آبنائے ہرمز سے متعلق امور پر بات چیت کی، جو امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والے فریم ورک سے جڑی ہوئی ہے۔
اعلامیے میں آبنائے ہرمز کو محفوظ بحری گزرگاہ بنانے کے عزم کا اعادہ اور اس بات پر زور دیا ہے کہ یہ عمل بین الاقوامی قانون کے مطابق ہوگا۔ بیان کے مطابق مشترکہ ورکنگ گروپ خطے کے دیگر ساحلی ممالک اور متعلقہ فریقین کے ساتھ بھی مشاورت کرے گا تاکہ مستقبل کے انتظامات پر اتفاقِ رائے پیدا کیا جا سکے۔
واضح رہے کہ ایران اس گزرگاہ پر بحری جہازوں کو سیکیورٹی اور خدمات کے عوض ’ٹول‘ یا فیس نافذ کرنا چاہتا ہے جب کہ عمان کا اس معاملے پر نکتہ نظر بالکل برعکس ہے۔ جس کے بعد اب دونوں ملکوں کے اتفاق سے قائم کردہ مشترکہ کمیٹی اس معاملے پر سوچ بچار کرے گی۔













