بااثر افراد نے 14 سالہ بچے کو زیادتی کے بعد زندہ دفنا دیا
سرگودھا میں 14 سالہ بچے کو مبینہ طور پر زیادتی کی شکایت کرنے پر زندہ دفن کرنے کی کوشش کا انکشاف ہوا ہے۔ متاثرہ بچے کو کھیت سے زندہ برآمد کر کے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر اسپتال منتقل کر دیا گیا، جبکہ پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اور ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق غلام رسول ولد مظہر گزشتہ روز سے لاپتا تھا۔ بعد ازاں ایک کھیت سے اس کے رونے کی آوازیں سنائی دیں، جس پر قریب موجود کسانوں نے موقع پر پہنچ کر صورتحال دیکھی اور فوری طور پر پولیس کو اطلاع دی۔
اطلاع ملنے پر پولیس اور ریسکیو اہلکار موقع پر پہنچے اور بچے کو نکال کر طبی امداد کے لیے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اسپتال سرگودھا منتقل کیا، جہاں اس کا علاج جاری ہے۔
متاثرہ بچے کے لواحقین کا الزام ہے کہ چند روز قبل بچے نے اپنے ساتھ مبینہ زیادتی کی شکایت کی تھی، جس کے بعد ملزمان نے اسے زندہ مٹی میں دفن کر دیا۔
پولیس کے مطابق واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اور نامزد ملزمان کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں، تاہم تاحال کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آ سکی۔
پولیس کا مزید کہنا ہے کہ لواحقین کی درخواست کی روشنی میں مقدمے کی تمام پہلوؤں سے تحقیقات کی جا رہی ہیں اور شواہد کی بنیاد پر ذمہ دار افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
نوٹ: اس خبر میں زیادتی سے متعلق دعویٰ متاثرہ بچے کے اہل خانہ کی جانب سے کیا گیا ہے، جبکہ پولیس نے واقعے کی تحقیقات جاری ہونے کی تصدیق کی ہے۔
















