امریکا کی ترکیہ کو ایف 35 طیاروں کی ممکنہ فروخت پر اسرائیل کو سخت تشویش

امریکی صدر نے ترکیہ پر اعتماد کا اظہار کیا، جب کہ اسرائیل نے ممکنہ معاہدے کو اپنی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے دیا۔
شائع 07 جولائ 2026 08:10pm

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ انہیں ترکیہ کو ایف 35 جنگی طیاروں کی فروخت پر کوئی اعتراض نہیں، جب کہ ترک صدر رجب طیب اردوان نے بھی معاہدے کے حوالے سے امید کا اظہار کیا ہے۔ دوسری جانب اسرائیل نے اس ممکنہ معاہدے کی مخالفت کرتے ہوئے اسے اپنی سلامتی اور خطے کے طاقت کے توازن کے لیے خطرہ قرار دیا ہے، جس پر ترکیہ نے سخت ردعمل دیا ہے۔

امریکی نشریاتی ادارے ’سی این این‘ کے مطابق انقرہ میں ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ملاقات کے بعد کہا کہ انہیں امید ہے امریکا جلد ترکیہ کو ایف 35 جنگی طیاروں اور ترکیہ کے مقامی ساختہ (کان) لڑاکا طیارے کے لیے امریکی ساختہ انجنوں کی فراہمی پر مثبت فیصلہ کرے گا۔

ترک صدر اردوان نے کہا کہ ترکیہ کو ایف 35 طیاروں کے حوالے سے پانچ طیاروں کا وعدہ کیا گیا ہے اور انہیں یقین ہے کہ صدر ٹرمپ اپنے وعدے کو پورا کریں گے۔ ان کے مطابق کان طیارے کے لیے امریکی انجنوں کی فراہمی سے متعلق بھی جلد مثبت پیش رفت متوقع ہے۔

اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ انہیں ترکیہ کو ایف 35 طیاروں کی فروخت پر کوئی پریشانی نہیں۔ ان کے بقول ترکیہ امریکا کا ایک اہم اتحادی اور انتہائی طاقت ور فوجی قوت کا حامل ملک ہے۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ ممکنہ طور پر ترکیہ کی اہمیت ہی ایک وجہ تھی کہ وہ حالیہ علاقائی جنگ میں شامل نہیں ہوا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ترکیہ کے روسی ایس 400 فضائی دفاعی نظام خریدنے پر انہیں کوئی ذاتی اعتراض نہیں، کیونکہ یہ ایک خودمختار ملک کے سربراہ کا اپنے قومی مفاد میں کیا گیا فیصلہ تھا۔

امریکی صدر نے مزید کہا کہ وہ جلد فیصلہ کریں گے کہ ترکیہ کو ایف 35 طیارے فروخت کیے جائیں یا نہیں، حالانکہ اس معاملے پر امریکی کانگریس کی پابندیاں موجود ہیں۔ انہوں نے یہ عندیہ بھی دیا کہ روس سے ایس 400 نظام خریدنے پر ترکیہ پر عائد پابندیوں کے خاتمے پر غور کیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب نیٹو سربراہ اجلاس سے قبل اسرائیل نے ترکیہ کو ایف 35 طیاروں کی ممکنہ فروخت کی سخت مخالفت کی ہے۔

اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو اور دیگر اسرائیلی رہنماؤں کا مؤقف ہے کہ اگر امریکا نے ترکیہ کو جدید ایف 35 جنگی طیارے فراہم کیے تو اس سے اسرائیل کی سلامتی کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں اور مشرق وسطیٰ میں طاقت کا توازن متاثر ہوگا۔ اسرائیلی قیادت نے واشنگٹن پر زور دیا ہے کہ وہ اس ممکنہ معاہدے پر نظرثانی کرے۔

اسرائیلی اخبار ’ٹائمز آف اسرائیل‘ کے مطابق اسرائیل کے اعتراضات کے بعد ترکیہ کی وزارت خارجہ نے سخت ردعمل دیتے ہوئے اسرائیلی مؤقف کو مسترد کر دیا ہے۔

ترک وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ اسرائیلی حکام کی جانب سے حالیہ دنوں میں منظم انداز میں لگائے جانے والے الزامات بے بنیاد ہیں اور یہ ایک سوچے سمجھے غلط معلومات پر مبنی پروپیگنڈا کا حصہ ہیں، جس کا مقصد حقائق کو مسخ کرنا ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ نیتن یاہو اور ان کے جرائم میں شریک ساتھی اپنے خلاف بڑھتی ہوئی تنقید سے توجہ ہٹانے کے لیے منظم پروپیگنڈا کر رہے ہیں۔ ترک وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ اسرائیلی حکومت کے دعوے حقیقت پر مبنی نہیں اور ان کا مقصد ترکیہ کے خلاف منفی تاثر پیدا کرنا ہے۔

واضح رہے کہ امریکا نے 2019 میں ترکیہ کو روسی ایس 400 فضائی دفاعی نظام خریدنے کے بعد ایف 35 پروگرام سے خارج کر دیا تھا اور اس پر پابندیاں عائد کر دی تھیں۔

اب صدر ٹرمپ کے حالیہ بیانات کو واشنگٹن اور انقرہ کے درمیان دفاعی تعلقات کی بحالی کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، تاہم اسرائیل اور یونان اس ممکنہ معاہدے پر اپنے تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں۔