آبنائے ہرمز کی بحالی اور امریکا سے جاری تناؤ پر اہم مذاکرات: عباس عراقچی عمان پہنچ گئے
ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی ہفتے کے روز عمان کے دارالحکومت مسقط پہنچ گئے ہیں، جہاں وہ اپنے ہم منصب سے آبنائے ہرمز کے حوالے سے اہم بات چیت کریں گے۔
یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ حملوں کے بعد حالات کافی خراب ہیں اور دنیا بھر کے ثالث ممالک دونوں کے درمیان بات چیت کے ٹوٹتے ہوئے سلسلے کو دوبارہ جوڑنے کی کوشش کر رہے ہیں.
ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اس دورے کے بارے میں بتایا کہ وزیرِ خارجہ کا یہ دورہ خطے کی صورتحال، خاص طور پر آبنائے ہرمز کے معاملے پر ایران اور اومان کے درمیان جاری باہمی مشوروں کا حصہ ہے.
انہوں نے مزید کہا کہ دونوں وزرائے خارجہ آبنائے ہرمز سے جہازوں کے محفوظ گزرنے کو یقینی بنانے کے لیے مناسب طریقے بنانے پر تبادلہ خیال کریں گے.
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں یہ اعلان کیا تھا کہ امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والا پرانا معاہدہ اب ختم ہو چکا ہے، تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران کے ساتھ بات چیت کا سلسلہ جاری رہے گا.
دوسری طرف امریکی حکام کا کہنا ہے کہ واشنگٹن کو امید ہے کہ تہران آنے والے چند دنوں میں سب کے سامنے ایک عوامی بیان جاری کرے گا کہ آبنائے ہرمز کا راستہ کھلا ہے اور وہاں سے گزرنے والے تجارتی جہازوں پر کوئی حملہ نہیں کیا جائے گا.
امریکی حکام نے یہ تو نہیں بتایا کہ اگر ایران نے ایسا اعلان نہ کیا تو امریکا کیا کرے گا، لیکن انہوں نے خبردار کیا ہے کہ امریکا مزید سخت فوجی کارروائی کر سکتا ہے.
اسپیکر اور ایران کے بڑے مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے امریکی نیت پر شک ظاہر کرتے ہوئے جمعہ کے روز ایک سخت بیان دیا.
انہوں نے کہا کہ ہم امریکیوں پر بالکل بھروسہ نہیں کرتے، اور مذاکرات کے دوران میں نے امریکی نائب صدر پر واضح کر دیا تھا کہ ہمیں آپ پر کوئی اعتماد نہیں ہے.
اس کے ساتھ ہی ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے بھی امریکا پر پرانے معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام لگایا ہے.
انہوں نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ ایران نے اب تک اپنے تمام وعدے پورے کیے ہیں، لیکن امریکا کے وزیرِ خزانہ نے معاہدے کی نویں شق کی خلاف ورزی کی ہے.
واضح رہے کہ اس نویں شق کے مطابق جب تک فائنل معاہدہ نہیں ہو جاتا، ایران اپنے ایٹمی پروگرام کو موجودہ حالت پر رکھے گا اور امریکا اس پر کوئی نئی پابندی نہیں لگائے گا اور نہ ہی خطے میں نئی فوج بھیجے گا.
ایران کا کہنا ہے کہ اگر امریکا نے معاہدہ توڑا تو وہ ہر طرح سے اپنا دفاع کرنے کے لیے تیار ہے.
یاد رہے کہ آبنائے ہرمز کا یہ سمندری راستہ ایران اور عمان کے درمیان واقع ہے، جہاں سے دنیا کا بہت سا تیل اور گیس گزرتی ہے.
یہ راستہ اس وقت دونوں ملکوں کے درمیان لڑائی کی سب سے بڑی وجہ بن چکا ہے کیونکہ ایران اس پر اپنا کنٹرول جتا رہا ہے اور اس نے پچھلے دنوں مبینہ طور پر وہاں جہازوں پر حملے بھی کیے تھے، جس کے جواب میں امریکا نے ایران کے ٹھکانوں پر بمباری کی تھی.
اگرچہ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ایران اس راستے کو بند نہیں کر سکتا، لیکن پرانے معاہدے میں یہ بات صاف صاف نہیں لکھی گئی تھی بلکہ اس میں صرف یہ کہا گیا تھا کہ ایران تجارتی جہازوں کے محفوظ گزرنے کا انتظام کرے گا اور عمان کے ساتھ مل کر اس راستے کو چلانے کا نیا طریقہ طے کرے گا.















