اسحاق ڈار کا سعودی وزیر خارجہ سے رابطہ، امریکا ایران کشیدگی پر اظہار تشویش
نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان آل سعود سے ٹیلی فون پر گفتگو کے دوران اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے باوجود امریکا اور ایران کشیدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق ہفتے کو نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان آل سعود سے ٹیلی فونک رابطہ کیا، جس میں دونوں رہنماؤں نے خطے کی حالیہ صورت حال پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے جون 2026 میں امریکا اور ایران کے درمیان اسلام آباد مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کے باوجود کشیدگی میں اضافے پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔
ہفتے کو ہونے والی ٹیلی فونک گفتگو کے دوران دونوں وزرائے خارجہ نے اس بات پر اتفاق کیا کہ خطے میں دوبارہ پیدا ہونے والی کشیدگی کسی کے مفاد میں نہیں اور یہ علاقائی امن و استحکام کے لیے جاری کوششوں کو نقصان پہنچا رہی ہے۔
سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان آل سعود نے کشیدگی میں کمی اور بات چیت جاری رکھنے کی اہمیت پر زور دیا۔
نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے پاکستان کے اس مؤقف کا اعادہ کیا کہ تمام فریق زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور ثالثی کی جاری کوششوں کو کامیاب اور بامعنی نتائج تک پہنچانے کے لیے ضروری وقت اور موقع فراہم کریں۔
گفتگو کے اختتام پر دونوں رہنماؤں نے خطے کی صورت حال کے حوالے سے ایک دوسرے سے قریبی رابطے میں رہنے پر بھی اتفاق کیا۔
اسحاق ڈار کا مالدیپ کی وزیر خارجہ کو ٹیلی فون
دوسری جانب نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے مالدیپ کی وزیر خارجہ ڈاکٹر ایروتھیشم آدم کو بھی ٹیلی فون کیا، جس میں دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات، علاقائی اور عالمی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا اور باہمی تعاون کو مزید فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔
اس ٹیلی فونک گفتگو کے دوران وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ڈاکٹر ایروتھیشم آدم کو مالدیپ کی آزادی کی 61ویں سالگرہ کی آمد پر مبارکباد پیش کی۔
گفتگو میں دونوں وزرائے خارجہ نے علاقائی اور بین الاقوامی پیش رفت پر بھی تبادلۂ خیال کیا۔ اس موقع پر مالدیپ کی وزیر خارجہ نے ایران اور امریکا کے درمیان تنازع کے دوران ثالثی کی کوششوں میں پاکستان کے کردار کو سراہا۔
دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور مالدیپ کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات اور باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا جب کہ مستقبل میں بھی قریبی رابطے برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔















