ایران نے امریکا کا کروز میزائل مار گرایا، پاسداران انقلاب کا دعویٰ

میزائل اپنے ہدف تک پہنچنے سے پہلے ہی تباہ کر دیا گیا ہے: ایرانی حکام
شائع 12 جولائ 2026 05:50pm

ایران کی پاسداران انقلاب (آئی آر جی سی) نے دعویٰ کیا ہے کہ ایرن نے امریکا کا کروز میزائل مار گرایا ہے، ایرانی حکام کے مطابق میزائل اپنے ہدف تک پہنچنے سے پہلے ہی تباہ کر دیا گیا ہے۔

ایرانی خبر رساں ادارے وانا کے مطابق ایران کی پاسداران انقلاب کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ اتوار کی صبح صوبہ لورستان کے شہر خرم آباد کے نواحی علاقے درہ نصب میں ایرانی فضائی دفاعی نظام نے امریکا کے ایک کروز میزائل کو کامیابی سے نشانہ بنایا۔

یہ کارروائی ایران کے مربوط قومی فضائی دفاعی نیٹ ورک کے تحت کام کرنے والے پاسداران انقلاب کی ایرو اسپیس فورس کے جدید فضائی دفاعی نظام نے انجام دی۔

آئی آر جی سی نے دعویٰ کیا کہ یہ واقعہ مبینہ امریکی فوجی حملے کے دوران پیش آیا اور فضائی دفاعی نظام نے میزائل کو اپنے ہدف تک پہنچنے سے پہلے ہی تباہ کر دیا۔

ایرانی حکام نے واقعے میں کسی جانی یا مالی نقصان کی تفصیلات جاری نہیں کیں جب کہ مار گرائے گئے کروز میزائل کی نوعیت کے بارے میں بھی مزید معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔

پاسداران انقلاب نے جدید بیلسٹک میزائلوں کی ویڈیو جاری کردی

دوسری جانب ایران کی پاسداران انقلاب نے امریکی فوجی اہداف پر حالیہ جوابی کارروائی میں استعمال کیے گئے جدید بیلسٹک میزائلوں کی ویڈیو جاری کردی ہے۔

پاسداران انقلاب نے بتایا کہ امریکا کے حالیہ حملوں کے جواب میں کی جانے والی کارروائی میں طویل فاصلے تک مار کرنے والے جدید اور درست نشانہ بنانے والے بیلسٹک میزائل استعمال کیے گئے۔

آئی آر جی سی کے مطابق اس کارروائی میں قدر، عماد، خیبر شکن، فتح-110 اور ذوالفقار بیلسٹک میزائل استعمال کیے گئے، جن میں ٹھوس اور مائع ایندھن سے چلنے والے میزائل بھی شامل ہیں۔ ایرانی فوج کے مطابق یہ میزائل طویل فاصلے تک انتہائی درستگی کے ساتھ فوجی اور تزویراتی اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

پاسداران انقلاب نے کہا کہ ویڈیو ایسے وقت جاری کی گئی ہے جب اس کی ایرو اسپیس فورس اور بحریہ نے امریکی فضائی حملوں کے جواب میں مشترکہ جوابی کارروائی کی۔

ایرانی فوج کے مطابق امریکی افواج نے ایران کے جنوبی ساحلی علاقوں میں واقع متعدد فوجی اڈوں اور ٹیلی کمیونیکیشن ٹاورز پر فضائی حملے کیے تھے، جس کے بعد جوابی کارروائی کے پہلے مرحلے میں اردن کے پرنس حسن ایئر بیس میں موجود امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔

چند روز قبل امریکا نے جنوبی ایران کے بعض علاقوں پر حملے کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ یہ کارروائی آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر مبینہ ایرانی حملوں کے ردعمل میں کی گئی، تاہم ایران نے ان الزامات کی تردید کی تھی۔

ایران کا مؤقف ہے کہ امریکی حملے اسلام آباد جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی تھے، جس کے بعد اسلامی جمہوریہ ایران نے آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا اعلان کیا۔