بھارت میں اچانک 10 اور 20 روپے کے کرنسی نوٹ بدلنے کا فیصلہ، معاملہ کیا ہے؟

اس منصوبے کے لیے سخت حفاظتی شرائط بھی رکھی گئی ہیں۔
شائع 18 جولائ 2026 12:25pm

بھارت میں کرنسی نوٹوں کے نظام میں ایک بڑی تبدیلی کی تیاری کی جا رہی ہے۔ بھارتی ریزرو بینک (آر بی آئی) نے پلاسٹک یا پولیمر سے بنے نوٹ متعارف کرانے کے لیے ابتدائی اقدامات شروع کر دیے ہیں۔ امکان ہے کہ اس منصوبے کے پہلے مرحلے میں 10 اور 20 روپے کے نوٹوں کی آزمائش کی جائے گی۔

انڈیا ٹوڈے کے مطابق ریزرو بینک نے پولیمر کرنسی نوٹوں کے لیے خام مال فراہم کرنے والی عالمی کمپنیوں سے درخواستیں طلب کی ہیں۔ یہ عمل ایک پائلٹ پروجیکٹ کا حصہ ہے، جس کے نتائج کی بنیاد پر فیصلہ کیا جائے گا کہ مستقبل میں مزید مالیت کے نوٹ بھی پولیمر سے بنائے جائیں گے یا نہیں۔

بھارتی ریزرو بینک نوٹ مدرن پرائیویٹ لمیٹڈ، جو ریزرو بینک کی کرنسی چھاپنے والی ذیلی کمپنی ہے، نے دنیا بھر کے سپلائرز سے پولیمر شیٹس فراہم کرنے کے لیے دلچسپی کا اظہار طلب کیا ہے۔ ان شیٹس میں جدید حفاظتی خصوصیات شامل ہوں گی تاکہ نوٹوں کو زیادہ محفوظ بنایا جا سکے۔

ان پولیمر نوٹوں میں کئی جدید سیکیورٹی فیچرز شامل کیے جانے کی توقع ہے، جن میں شفاف حصہ، دھاتی نمبر، مقناطیسی حفاظتی دھاگہ، چھپی ہوئی تصویر اور خاص روشنی میں نظر آنے والے ڈیزائن شامل ہوں گے۔ ان نوٹوں کی تیاری بھارت کے مخصوص کرنسی پرنٹنگ مراکز میں کی جائے گی۔

ریزرو بینک کی جانب سے جاری کیے گئے عمل کے مطابق، اگر آزمائشی مرحلہ کامیاب رہتا ہے تو مستقبل میں زیادہ مالیت کے نوٹ بھی پولیمر سے تیار کیے جا سکتے ہیں۔ تاہم، ابھی تک ریزرو بینک نے باضابطہ طور پر یہ اعلان نہیں کیا ہے کہ پائلٹ پروجیکٹ میں کون سے نوٹ شامل ہوں گے۔

پولیمر نوٹ کاغذی نوٹوں کے مقابلے میں زیادہ مضبوط سمجھے جاتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ پانی، نمی اور عام استعمال سے کم خراب ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے ان کی عمر زیادہ ہو سکتی ہے۔ اس کے علاوہ ان میں جعل سازی روکنے کے لیے بھی زیادہ جدید حفاظتی خصوصیات شامل کی جا سکتی ہیں۔

پولیمر نوٹ سب سے پہلے 1988 میں آسٹریلیا میں متعارف کرائے گئے تھے۔ اب دنیا کے 50 سے زیادہ ممالک میں مختلف شکلوں میں ان کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ ان کے حامیوں کا کہنا ہے کہ یہ طویل مدت میں نوٹوں کی چھپائی کے اخراجات کم کر سکتے ہیں اور ماحول پر بھی کم اثر ڈال سکتے ہیں۔

بھارت میں اس منصوبے کے لیے حفاظتی شرائط بھی سخت رکھی گئی ہیں۔ بولی دینے والی کمپنیوں کو بعض ممالک سے متعلق سیکیورٹی اصولوں پر عمل کرنا ہوگا اور انہیں پولیمر سبسٹریٹ فراہم کرنے کا تجربہ بھی ثابت کرنا ہوگا۔

ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ عام لوگوں کے ہاتھوں میں یہ نئے نوٹ کب تک پہنچیں گے، لیکن اگر آزمائشی مرحلہ کامیاب رہا تو بھارت کے کرنسی نظام میں یہ ایک اہم تبدیلی ثابت ہو سکتی ہے۔