امریکا 'بڑا شیطان'، صدر ٹرمپ کے دستخط ناقابلِ اعتبار ہیں: ایرانی سپریم لیڈر

اسلام آباد معاہدے کی خلاف ورزی سے بڑے شیطان کا اصل چہرہ دنیا کے سامنے بے نقاب ہوگیا: مجتبیٰ خامنہ ای
اپ ڈیٹ 18 جولائ 2026 10:54pm

ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے امریکا پر مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان مسلسل خلاف ورزیوں سے ثابت ہو گیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دستخط کی کوئی ساکھ نہیں ہے۔ جتبیٰ خامنہ ای نے اپنے بیان میں امریکا کے لیے ’بڑا شیطان‘ کی اصطلاح استعمال کی ہے۔

ہفتے کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے بیان میں امریکا کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا گیا ہے کہ جبر، آمریت اور سفاکیت امریکی نظریے اور پالیسی کا لازمی حصہ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایران اور امریکا کے صدور کے درمیان دستخط ہونے والے معاہدے کی مسلسل خلاف ورزیوں نے ایک مرتبہ پھر یہ حقیقت واضح کر دی ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دستخط ناقابلِ اعتبار ہیں اور ان کی کوئی ساکھ نہیں ہے۔

مجتبیٰ خامنہ ای نے امریکا کو ’بڑا شیطان‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ حالیہ واقعات امریکا کی مجرمانہ کارروائیوں، بے ایمانی، ناقابلِ اعتبار ہونے اور بدنیتی کا ایک اور ناقابلِ تردید ثبوت ہیں، جس سے اس بڑے شیطان کا حقیقی چہرہ دنیا کے سامنے بے نقاب ہوگیا ہے۔

ایرانی سپریم لیڈر نے ایرانی عوام کو اتحاد برقرار رکھنے کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ دنوں میں جنوبی ایران کے عوام کا عزم اور بہادری اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ایران اپنے مخالفین کا مقابلہ کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔

ایرانی سپریم لیڈر کا کہنا تھا کہ اگر امریکا نے جنگ کو مزید بھڑکانے کی کوشش کی تو یہ اقدام اس کے لیے مزید نقصان اور بدنامی مول لینے کا سبب بنے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ دشمن کو یہ جان لینا چاہیے کہ ایرانی قوم اور مزاحمتی قوتیں اسے ناقابلِ فراموش سبق سکھانے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔

مجتبیٰ خامنہ ای نے ایرانی قوم کے لیے پیغام دیتے ہوئے کہا کہ ایسے حالات میں جب ملک کو ایک مکار دشمن کا سامنا ہے۔ سب سے زیادہ ضرورت عوام اور ریاستی اداروں کے درمیان یکجہتی اور سب سے اہم ذمہ داری ایران کے وقار، آزادی اور خودمختاری کا تحفظ ہے۔

مجتبیٰ خامنہ ای کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے خاتمے کے بعد مشرقِ وسطیٰ کے حالات ایک بار پھر شدید کشیدہ ہوگئے ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بعد ایران نے بھی پاکستان کی ثالثی میں طے پانے والے ’اسلام آباد میمورنڈم‘ پر عمل درآمد معطل کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ تہران کا کہنا ہے کہ امریکی حملوں کے تسلسل اور معاہدے کی خلاف ورزیوں کے بعد وہ اب اس مفاہمتی یادداشت کی کسی شق پر عمل کرنے کا پابند نہیں رہا۔

واضح رہے کہ امریکی افواج کی جانب سے گزشتہ سات روز سے ایران پر مسلسل حملے جاری ہیں۔ امریکی افواج کا کہنا ہے کہ ان کارروائیوں کا مقصد ایران کی فوجی صلاحیت کو محدود کرنا ہے تاہم گزشتہ رات امریکی حملوں میں شہری اہداف کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس میں پُل، بجلی کی تنصیبات، سرنگیں اور صاف پانی کے پلانٹس وغیرہ بھی شامل ہیں۔

دوسری جانب ایران کی جانب سے خلیجی ممالک میں واقع امریکی اہداف پر بھی حملے جاری ہیں، جن میں خاص طور کویت اور بحرین شامل ہیں۔ کویت نے ہفتے کی صبح اپنی فضائی حدود بند کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی حملوں میں بجلی اور سمندری پانی کو صاف کرکے پینے کے قابل بنانے والے دو پلانٹس کو نقصان پہنچا ہے۔

بحرین میں بھی ہفتے کو متعدد مرتبہ فضائی حملوں کے سائرن بجائے گئے جب کہ اردن نے بھی ایران کے داغے گئے 10 بیلسٹک میزائل فضا میں ہی تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے ایران اور خلیجی ممالک میں شہری بنیادی ڈھانچے پر حملوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا کہ شہری آبادی کی بقا کے لیے ضروری تنصیبات کو نشانہ بنانا بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے۔

ایران کے سپریم لیڈر کے مشیر اور سابق پاسدارانِ انقلاب کمانڈر محسن رضائی نے اپنے ایک بیان میں واضح کیا ہے امریکی حملے جاری رہے تو ایران باقاعدہ جنگ کے مرحلے میں داخل ہو جائے گا۔