میسی کا خواب چکنا چور؛ اسپین فیفا ورلڈ کپ 2026 کا فاتح بن گیا
اسپین نے ارجنٹائن کو انتہائی سنسینی خیز مقابلے میں ایک صفر سے شکست دے کر فیفا ورلڈ کپ 2026 کے فاتح کا ٹائٹل اپنے نام کرلیا ہے۔ مقررہ وقت پورا ہونے پر ایکسٹرا ٹائم میں اسپین نے ارجنٹائن کے خلاف 106ویں منٹ میں اپنا پہلا گول کرکے برتری حاصل کی۔
ارجنٹائن کی ٹیم چوتھی جب کہ اسپین دوسری بار ورلڈ چیمپئن بننے کے لیے میدان میں اتری تھی۔ اس میچ میں لیونل میسی ممکنہ طور پر آخری ورلڈ کپ جیت کر تاریخ رقم کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ لیکن نہ تو میسی اور نہ ہی ان کی ٹیم کا خواب پورا ہوسکا۔
تاہم، لامین یامال نے اسپین کو 16 برس بعد دوبارہ عالمی چیمپئن بنا دیا۔
اسپین کے لیے پہلے 45 منٹ کافی اچھے رہے کیونکہ چیزیں کافی حد تک ان کے منصوبے کے مطابق رہیں۔ اس دوران لا روخا (اسپین) نے بال پر کنٹرول برقرار رکھا اور آہستہ آہستہ ارجنٹائن کے دفاع کو توڑنے کی کوشش کی۔ لیکن گول کرنے کا کوئی موقع نہ ملا۔
ہاف ٹائم کے قریب اسپین نے کھیل کی رفتار تیز کر دی اور البیسیلیسٹی (ارجنٹائن) کے بہتر دفاع کے باوجود اسپین کی پاسنگ اور کھیل میں مزید تیزی اور نکھار نظر آنے لگا۔
تاہم، چار منٹ اضافی ملنے کے باوجود بھی کوئی گول نہ ہوسکا اور پھر ہاف ٹائم کی سیٹی بج گئی۔
کھیل کے دوسرے ہاف میں بھی ارجنٹائن نے اپنا دفاع انتہائی مضبوط رکھا اور اسپین کے حملوں کو کامیاب نہ ہونے دیا۔
مقررہ وقت ختم
مقررہ وقت ختم ہونے تک ارجنٹائن اور اسپین کا میچ بغیر کسی گول کے برابر رہا۔ اس دوران اسپین کی ٹیم کھیل پر حاوی رہی لیکن ارجنٹائن کے گول کیپر ایمیلیانو مارٹنیز کو چکمہ دینے میں ناکام رہی۔
اسٹاپج ٹائم کے آخری لمحات میں لامین یامال کو ایک فری کک ملی جس کے ذریعے اسپین کے پاس ایک سنسنی خیز جیت حاصل کرنے کا موقع تھا۔ لیکن اس کے برعکس، مارٹنیز نے شاندار ڈائیو لگا کر فائنل میچ میں اپنا دسواں گول بچایا۔
میچ کے آخری لمحات میں اینزو فرنانڈیز کو ریڈ کارڈ ملنے کے بعد ارجنٹائن کی ٹیم 10 کھلاڑیوں تک محدود ہو گئی۔
پھر 15، 15 منٹ کے ہاف پر مشتمل ایکسٹرا ٹائم کے دو ہاف کھیلے گئے۔
واضح رہے کہ ارجنٹائن نے 2022 کا ورلڈ کپ فرانس کے خلاف پینلٹی ککس پر جیتا تھا، جبکہ اسپین نے 2010 کا اپنا ٹائٹل 116 ویں منٹ میں گول کر کے جیتا تھا۔
اس سے قبل ورلڈ کپ کے تین فائنل میچز مقررہ 90 منٹ کے بعد بغیر کسی گول کے برابر رہے تھے۔
1994 میں برازیل اور اٹلی، 2010 میں اسپین اور نیدرلینڈز، اور 2014 میں جرمنی اور ارجنٹائن کا میچ۔ ان میں سے صرف 1994 کا فائنل ایسا تھا جو ایکسٹرا ٹائم کے بعد بھی بغیر کسی گول کے برابر رہا، اور پھر برازیل نے پینلٹی شوٹ آؤٹ پر وہ میچ جیتا تھا۔
ایکسٹرا ٹائم اور پینلٹی شوٹ آؤٹ کے قوانین
اکثر میچز مقررہ وقت میں برابر ہو جاتے ہیں جس کے بعد فیصلہ کرنے کے لیے ایکسٹرا ٹائم یا پینلٹی شوٹ آؤٹ کا سہارا لیا جاتا ہے۔
ورلڈ کپ کے ناک آؤٹ مرحلے میں جب 90 منٹ کے باقاعدہ کھیل کے بعد بھی کوئی ٹیم میچ نہ جیت سکے، تو میچ کا فیصلہ کرنے کے لیے ایکسٹرا ٹائم دیا جاتا ہے۔
یہ پینلٹی شوٹ آؤٹ پر جانے سے پہلے دونوں ٹیموں کو جیت کا ایک اور موقع دینے کا طریقہ ہے۔‘
ورلڈ کپ میں ایکسٹرا ٹائم کا کل وقت 30 منٹ ہوتا ہے، جسے 15، 15 منٹ کے دو ہاف میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ بالکل عام میچ کی طرح، اس 30 منٹ کے کھیل کے آدھے وقت پر دونوں ٹیمیں اپنے اپنے گول کی سائیڈز تبدیل کرتی ہیں۔
اگر 30 منٹ کے اس اضافی کھیل کے بعد بھی دونوں ٹیموں کے گول برابر رہیں اور میچ کا فیصلہ نہ ہو سکے، تو پھر پینلٹی شوٹ آؤٹ کا مرحلہ آتا ہے۔
اس مرحلے میں دونوں ٹیموں کے کھلاڑی باری باری گول پر کک لگاتے ہیں۔
پینلٹی شوٹ آؤٹ شروع کرنے کے لیے ریفری پہلے ٹاس کرتا ہے جس سے یہ طے ہوتا ہے کہ کس گول پر ککس ماری جائیں گی، اور دوسرے ٹاس سے یہ فیصلہ ہوتا ہے کہ کون سی ٹیم پہلی کک مارے گی۔
ابتدائی راؤنڈ میں دونوں ٹیمیں اپنے پانچ پانچ کھلاڑیوں کا انتخاب کرتی ہیں جو باری باری کک مارتے ہیں۔
ایک اہم قانون یہ ہے کہ پینلٹی صرف وہی کھلاڑی مار سکتے ہیں جو ایکسٹرا ٹائم کا فائنل وہسل بجنے کے وقت میدان میں موجود تھے۔ ان میں گول کیپر سمیت کسی بھی کھلاڑی کو کک مارنے کے لیے چنا جا سکتا ہے۔
اگر پانچ پانچ پینلٹی ککس کے بعد بھی دونوں ٹیموں کا اسکور برابر رہے، تو شوٹ آؤٹ ’سڈن ڈیتھ‘ کے مرحلے میں داخل ہو جاتا ہے۔
اس راؤنڈ میں دونوں ٹیموں کو ایک ایک کک ملتی ہے، اور جیسے ہی ایک جوڑی میں ایک ٹیم گول کر لے اور دوسری ٹیم سے مس ہو جائے، تو میچ اسی وقت ختم ہو جاتا ہے اور گول کرنے والی ٹیم جیت جاتی ہے۔
کک مارتے وقت گول کیپر کے لیے ضروری ہے کہ وہ گیند پر ہٹ لگنے تک دونوں پولز کے درمیان گول لائن پر ہی رہے اور اس کا رخ کھلاڑی کی طرف ہو۔
وہ لائن پر دائیں بائیں تو حرکت کر سکتا ہے لیکن لائن سے آگے نہیں بڑھ سکتا۔
فٹ بال کی تاریخ میں پینلٹی شوٹ آؤٹ نے کئی یادگار اور سنسنی خیز مقابلے دیے ہیں۔ 1994 کا ورلڈ کپ فائنل برازیل اور اٹلی کے درمیان کھیلا گیا جو تاریخ کا پہلا فائنل تھا جس کا فیصلہ پینلٹی شوٹ آؤٹ پر ہوا۔ مقررہ وقت تک میچ بغیر کسی گول کے برابر رہا تھا اور برازیل نے پینلٹی پر 3-2 سے کامیابی حاصل کی، جہاں اطالوی کھلاڑی روبرٹو باجیو کا کک مس کرنا فٹ بال تاریخ کا ایک انتہائی افسردہ اور مشہور لمحہ بن گیا۔
اس سے قبل 1990 کے ورلڈ کپ سیمی فائنلز میں مغربی جرمنی نے انگلینڈ کو پینلٹی پر 4-3 سے ہرایا، جبکہ ارجنٹائن نے میزبان اٹلی کو بھی 4-3 سے باہر کر دیا۔
اسی طرح 2006 کے فائنل میں اٹلی نے فرانس کو پینلٹی پر 5-3 سے شکست دی، اور 2014 میں برازیل نے چلی کو 3-2 سے ہرایا۔
سال 2018 کے ورلڈ کپ میں کروشیا نے پہلے ڈنمارک کو پینلٹی پر 3-2 سے شکست دی اور پھر کوارٹر فائنل میں روس کو 4-3 سے ہرا کر آگے بڑھنے کا اعزاز پایا۔
پہلا گول
اسپین کے فیران ٹوریس نے میچ کے 106 ویں منٹ میں ارجنٹائن کے گول کیپر ایمیلیانو مارٹنیز کو چکمہ دیتے ہوئے گیند کو گول پوسٹ میں پہنچا دیا، جس سے یہ اس ورلڈ کپ میں ان کا پہلا گول بن گیا اور اسپین کو 0-1 سے برتری حاصل ہو گئی۔
نیکو ولیمز نے گول کے سامنے موجود ٹوریس کی طرف گیند کا ہیڈر پاس دے کر ایک طویل کراس کو ضائع ہونے سے بچایا۔
یہ میچ میں اسپین کی طرف سے گول کرنے کی 20 ویں کوشش (شاٹ) تھی۔
ٹوریس کو کوچ لوئس ڈی لا فونٹے نے میچ کے 62 ویں منٹ میں ایک متبادل (سبسٹیٹیوٹ) کھلاڑی کے طور پر میدان میں اتارا تھا۔
ارجنٹائن اور اسپین کا ورلڈکپ میں سفر کیسا رہا؟
فیفا ورلڈکپ 2026 میں دونوں ٹیموں کا سفر انتہائی عمدہ رہا۔
اسپین نے گروپ مرحلے میں سات پوائنٹس کے ساتھ اپنی مہم کا کامیاب آغاز کیا تھا۔ گروپ مرحلے میں اسپین نے سعودی عرب اور یوراگوئے کو شکست دی جب کہ کیپ وردے کے خلاف مقابلہ برابر رہا تھا۔ ناک آؤٹ مرحلے میں اسپین نے آسٹریا کو 0-3 سے ہرایا پھر پرتگال کو بھی شکست دی۔
کوارٹر فائنل میں بیلجیم کے خلاف 1-2 سے کامیابی حاصل کرنے کے بعد اسپین نے سیمی فائنل میں ٹورنامنٹ کی فیورٹ ٹیم سمجھے جانے والی فرانس کی ٹیم کو بھی 0-2 سے شکست دے کر فائنل میں جگہ بنائی۔ اس پورے عرصے میں بہترین ڈیفنس، نظم و ضبط کے ساتھ مقابلہ اور گیند پر مسلسل کنٹرول اسپین کی کامیابی کی بنیاد رہے۔
دوسری جانب ارجنٹائن نے گروپ مرحلے میں الجزائر، آسٹریا اور اردن کو شکست دے کر اپنی برتری ثابت کی تاہم ناک آؤٹ مرحلہ اس کے لیے نسبتاً زیادہ مشکل ثابت ہوا۔
راؤنڈ آف 32 میں کیپ وردے کے خلاف میچ اضافی وقت تک گیا جب کہ مصر کے خلاف راؤنڈ 16 کے میچ میں بھی وہ آخری لمحات میں میچ میں واپس آیا اور فتح سمیٹی۔ ارجنٹائن نے کوارٹر فائنل میں سوئٹزرلینڈ کو بھی اضافی وقت میں شکست دی جب کہ سیمی فائنل میں انگلینڈ کے خلاف آخری لمحات میں میچ میں واپسی نے ارجنٹائن کو مسلسل دوسری مرتبہ ورلڈ کپ فائنل تک پہنچایا۔
ورلڈ کپ کی تاریخ میں یہ دوسرا موقع تھا جب اسپین اور ارجنٹائن آمنے سامنے تھے۔ دونوں ٹیمیں پہلی بار 1966 کے ورلڈ کپ میں آمنے سامنے آئی تھیں جہاں ارجنٹائن نے اسپین کو 1-2 سے شکست دی تھی۔
اس سے قبل دونوں ٹیمیں مجموعی طور پر 16 مرتبہ ایک دوسرے کے خلاف کھیل چکی ہیں، جن میں دونوں نے چھ، چھ میچ جیتے ہیں جب کہ دو مقابلے بے نتیجہ ختم ہوئے۔
کون کب چیمپیئن رہا؟
ارجنٹائن اس سے قبل 1978، 1986 اور 2022 میں عالمی چیمپئن بن چکا ہے، جبکہ اسپین نے 2010 میں پہلی بار ورلڈ کپ ٹرافی اپنے نام کی تھی۔
اگر فٹبال ورلڈ کپ کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو اس کا آغاز 1930 میں ہوا تھا اور اب تک کھیلے گئے 22 ٹورنامنٹس میں دنیا کی صرف 8 ٹیمیں ہی ایسی ہیں جو چیمپئن بننے کا خواب پورا کر سکی ہیں۔
فٹ بال کی دنیا میں سب سے کامیاب ٹیم برازیل کی مانی جاتی ہے، جس نے سب سے زیادہ پانچ بار یعنی سال 1958، 1962، 1970، 1994 اور 2002 میں ورلڈ کپ جیت کر پوری دنیا پر راج کیا۔
برازیل کے بعد جرمنی اور اٹلی چار، چار مرتبہ ورلڈ چیمپئن بن چکے ہیں۔ جرمنی نے 1954، 1974، 1990 اور 2014 میں کامیابی کے جھنڈے گاڑے، جبکہ اٹلی نے 1934، 1938، 1982 اور 2006 میں فائنل میں کامیابی حاصل کی۔
ارجنٹائن تین مرتبہ ورلڈ کپ کی فاتح رہی ہے۔ جنوبی امریکی ٹیم نے پہلی بار 1978 میں اپنے ملک میں ہونے والے ٹورنامنٹ میں ٹرافی جیتی، اس کے بعد 1986 میں میراڈونا کی قیادت میں عالمی چیمپئن بنی، جبکہ 2022 میں لیونل میسی کی قیادت میں تیسری بار یہ اعزاز حاصل کیا۔
یوراگوئے نے ورلڈ کپ کے ابتدائی دور میں دو مرتبہ کامیابی حاصل کی۔ اس نے 1930 میں پہلے ورلڈ کپ کا ٹائٹل جیتا اور پھر 1950 میں دوسری بار عالمی چیمپئن بنا۔
فرانس بھی فٹبال کی بڑی طاقتوں میں شامل ہے۔ فرانس نے 1998 اور 2018 میں ورلڈ کپ ٹرافی اپنے نام کی، جبکہ انگلینڈ اور اسپین ایک، ایک مرتبہ عالمی چیمپئن بننے میں کامیاب ہوئے۔ انگلینڈ نے 1966 میں پہلی اور واحد بار ورلڈ کپ جیتا، جبکہ اسپین نے 2010 میں تاریخ رقم کی۔
























