یحییٰ سنوار کے بعد خلیل الحیہ حماس کے نئے سربراہ منتخب

خلیل الحیہ یحییٰ سنوارکے جانشین کی حیثیت سے ذمہ داریاں سنبھالیں گے جب کہ ان کی باضابطہ تقرری آئندہ ہفتے متوقع ہے۔
شائع 20 جولائ 2026 06:08pm

فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے جنگ بندی مذاکرات میں تنظیم کے مرکزی مذاکرات کار اور سینئر رہنما خلیل الحیہ کو تنظیم کا نیا سربراہ منتخب کر دیا ہے۔ حماس کے مطابق خلیل الحیہ شہید رہنما یحییٰ السنوار کی جگہ ذمہ داریاں سنبھالیں گے جب کہ ان کی باضابطہ تقرری آئندہ ہفتے متوقع ہے۔

خلیج ٹائمز کے مطابق حماس نے پیر کے روز جاری اپنے بیان میں خلیل الحیہ کو تنظیم کا نیا سربراہ منتخب کیے جانے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ وہ یحییٰ سنوار کے جانشین ہوں گے، جو 2024 میں غزہ کی پٹی میں اسرائیلی افواج کے ساتھ لڑائی کے دوران مارے گئے تھے۔

اسرائیل نے یحییٰ سنوار پر 7 اکتوبر 2023 کے حملوں کی منصوبہ بندی میں مرکزی کردار ادا کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔ ان کی ہلاکت کے بعد حماس کی قیادت ایک عبوری قیادتی کونسل کے پاس تھی، جس کی سربراہی طویل عرصے سے تنظیم سے وابستہ سینئر رہنما محمد درویش کر رہے تھے۔

1960 میں پیدا ہونے والے خلیل الحیہ غزہ سے تعلق رکھنے والے حماس کے جلا وطن رہنما اور اسرائیل کے ساتھ بالواسطہ جنگ بندی مذاکرات میں تنظیم کے مرکزی مذاکرات کار رہے ہیں۔ یحییٰ سنوار اور اسماعیل ہنیہ کی ہلاکت کے بعد وہ حماس کی قیادت میں مسلسل زیادہ اہم اور مرکزی کردار ادا کرتے رہے۔

اسماعیل ہنیہ جولائی 2024 میں ایران میں ہلاک ہوئے تھے، جس کے بعد خلیل الحیہ تنظیم کی سیاسی قیادت میں نمایاں شخصیت بن کر سامنے آئے۔

رائٹرز کے مطابق اسرائیلی حکام نے بتایا تھا کہ 2025 میں قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ہونے والے ایک اسرائیلی حملے میں خلیل الحیہ بھی ان اعلیٰ رہنماؤں میں شامل تھے جنہیں نشانہ بنایا گیا تھا تاہم وہ اس حملے میں محفوظ رہے جب کہ ان کا ایک بیٹا مارا گیا تھا۔

حماس کے ایک سینئر عہدیدار نے اے ایف پی کو بتایا کہ خلیل الحیہ نے تنظیم کے سابق سربراہ اور سینئر رہنما خالد مشعل کو قیادت کے انتخاب میں شکست دی اور انہیں بھاری اکثریت سے منتخب کیا گیا۔

عہدیدار کے مطابق خلیل الحیہ آئندہ ہفتے باضابطہ طور پر اپنے عہدے کا چارج سنبھالیں گے جب کہ آئندہ چند روز میں استنبول میں سیاسی بیورو کا اجلاس منعقد ہوگا، جس میں مختلف کمیٹیاں تشکیل دی جائیں گی اور تنظیم کے قیادتی ڈھانچے کی ازسرنو تنظیم کا عمل شروع کیا جائے گا۔

حماس کے ایک ذریعے کے مطابق موجودہ پانچ رکنی قیادتی کونسل تحلیل کر دی جائے گی اور اس کے تمام ارکان اپنی ذمہ داریوں سے مستعفی ہو کر شوریٰ کونسل کے سامنے جواب دہ ہوں گے۔

ذرائع نے بتایا کہ موجودہ سکیورٹی صورت حال، مسلسل اسرائیلی کارروائیوں اور تنظیم کے متعدد سیاسی و عسکری رہنماؤں کی ہلاکت کے باعث قیادت کے انتخاب کا عمل انتہائی پیچیدہ اور مکمل رازداری کے ساتھ انجام دیا گیا۔

ادھر حماس کے عسکری ونگ عزالدین القسام بریگیڈز نے بھی خلیل الحیہ کی قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے ان کی بھرپور حمایت کا اعلان کیا ہے۔