پانچویں روز بھی پیٹرولیم مصنوعات مہنگی، حکومت نے نئی قیمتیں جاری کر دیں
وفاقی حکومت نے عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے پیش نظر مسلسل پانچویں روز بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کردیا ہے۔
آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے وفاقی حکومت کی منظوری کے بعد 25 جولائی کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے، جس کے مطابق پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 3 روپے 66 پیسے کا اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 335 روپے 18 پیسے فی لیٹر ہوگئی ہے۔
نوٹیفکیش کے مطابق ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں بھی 4 روپے 80 پیسے کا اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد ڈیزل کی نئی قیمت 383 روپے 46 پیسے فی لیٹر ہوگئی ہے جب کہ پیٹرولیم منصوعات کی نئی قیمتوں کا اطلاق آج رات 12 بجے سے ہوگیا۔

اس طرح 5 روز کے مسلسل اضافے کے بعد پیٹرول کی قیمت میں مجموعی طور پر تقریباً 19 روپے 38 پیسے جب کہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں مجموعی طور پر 29 روپے 11 پیسے فی لیٹر کا بڑا اضافہ ہو چکا ہے جب کہ روزانہ کی بنیاد پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین ہونے کے بعد ایک ہفتے کے دوران پیٹرول 24 روپے 47 پیسے اور ڈیزل 60 روپے 16 پیسے فی لیٹر مہنگا ہو چکا ہے۔
یاد رہے کہ 17 جولائی کو وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے اعلان کیا تھا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین اب روزانہ کی بنیاد پر کیا جائے گا، اوگرا روزانہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین کرکے ویب سائٹ پر لگایا کرے گی۔
بعد ازاں 17 جولائی کو حکومت نے پیٹرولیم منصوعات کی قیمتوں میں اگلے 3 روز کے لیے اضافہ کیا تھا۔ پیٹرول کی قیمت میں 5 روپے 44 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا تھا، جس کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 316 روپے 15 پیسے فی لیٹر مقرر ہوگئی تھی۔ اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 31 روپے 05 پیسے فی لیٹر کا بڑا اضافہ کیا گیا تھا، جس کے بعد ڈیزل کی نئی قیمت 354 روپے 35 پیسے فی لیٹر مقرر ہوگئی تھی۔
20 جولائی کو وفاقی حکومت نے عوام کو معمولی ریلیف دیتے ہوئے پیٹرول کی قیمت میں 35 پیسے فی لیٹر کمی کی تھی، اس کمی کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 315 روپے 80 پیسے فی لیٹر مقرر ہوگئی تھی جب کہ ڈیزل کی قیمت 5 روپے 71 پیسے فی لیٹر اضافے کے بعد 360 روپے 6 پیسے فی لیٹر مقرر ہوگئی تھی۔
پھر 21 جولائی کو حکومت نے پیٹرول 4 روپے 93 پیسے جب کہ ہائی اسپیڈ ڈیزل 7 روپے 15 پیسے فی لیٹر مہنگا کیا تھا، جس کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 320 روپے 73 پیسے جب کہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی نئی قیمت 367 روپے 21 پیسے فی لیٹر مقرر ہوئی تھی۔
اس کے اگلے روز 22 جولائی کو بھی پیٹرولیم منصوعات کی قیمتوں میں بڑا اضافہ دیکھنے میں آیا تھا، حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں 6 روپے 39 پیسے اضافہ کیا تھا، جس کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 327 روپے 12 پیسے فی لیٹر مقرر ہوگئی تھی جب کہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں بھی 7 روپے 83 پیسے کا اضافہ ہوا تھا، جس کے بعد ہائی اسپیڈ ڈیزل کی نئی قیمت 375 روپے 4 پیسے فی لیٹر ہوگئی تھی۔
گزشتہ روز 23 جولائی کو بھی حکومت کی جانب سے پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 4 روپے 40 پیسے جب کہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 3 روپے 62 پیسے بڑھائے گئے، جس کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 331 روپے 52 پیسے فی لیٹر جب کہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی نئی قیمت 378 روپے 66 پیسے مقرر ہوگئی تھی۔
واضح رہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی بنیادی وجہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری حالیہ جنگ اور کشیدہ صورت حال عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں ہونے والے شدید اتار چڑھاؤ اور امپورٹ کاسٹ کو فوری طور پر مقامی قیمتوں میں شامل کیا گیا ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان جاری حالیہ جنگ اور کشیدگی کی وجہ سے عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں ہونے والے شدید اتار چڑھاؤ اور امپورٹ کاسٹ کو فوری طور پر مقامی قیمتوں میں شامل کیا گیا ہے۔
















