بھارت کی جین زی نے مودی کا سوشل میڈیا پر راج کیسے ختم کیا؟
بھارت میں امتحانی پرچوں کے مبینہ مسلسل لیک ہونے کے معاملے پر طلبا کے احتجاج نے ایک نیا موڑ اختیار کر لیا ہے، جہاں بھارتی نوجوان نسل یعنی ’جین زی‘ نے وزیراعظم نریندر مودی اور ان کی جماعت کی برسوں پرانی ڈیجیٹل برتری کو اب انہی کے خلاف استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ 12 سال سے مودی اور ان کی ہندوستانی سوشل میڈیا پر حاوی پارٹی کو اب انہی کے اپنائے ہوئے ڈیجیٹل طریقوں سے کڑے چیلنج کا سامنا ہے۔
نئی دہلی کے علاقے جنتر منتر اور پارلیمنٹ اسٹریٹ پر ہزاروں طلبا کئی دنوں سے سڑکوں پر موجود ہیں اور تعلیمی نظام کی خرابیوں اور امتحانی پرچوں کے لیک ہونے پروزیر تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق احتجاج میں شریک 18 سالہ طالبہ اوانشیکا سنگھ نے بتایا کہ وہ مظاہرے کے دوران پولیس کارروائی کی ویڈیوز اپنے موبائل فون سے ریکارڈ کرتی رہیں۔ ان کے مطابق آنسو گیس اور بھگدڑ کے باوجود انہوں نے یہ مناظر سوشل میڈیا پر شیئر کیے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ حالات سے آگاہ ہو سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ نوجوان سمجھتے ہیں کہ وہ اپنے احتجاج کو انٹرنیٹ کے ذریعے پورے ملک تک پہنچا رہے ہیں۔
20 جولائی کو بھارتی پارلیمنٹ کی طرف جانے والے مارچ کے دوران پولیس اور مظاہرین کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں، جس میں آنسو گیس اور لاٹھی چارج کے نتیجے میں 100 سے زائد طلبا زخمی ہوئے۔ پولیس نے بربریت کے تمام الزامات کی تردید کی ہے، لیکن احتجاج میں موجود نوجوانوں نے ہر منظر اپنے موبائل کیمروں میں محفوظ کر لیا۔
بھارت میں اس واقعے کے بعد سے انٹرنیٹ پر پولیس کے مبینہ تشدد کی ویڈیوز، موبائل سے بنائی گئی شارٹ کلپس اور میمز کا طوفان آ گیا ہے۔ نوجوان ان ویڈیوز کو موسیقی کے ساتھ ایڈٹ کر کے انسٹاگرام اور دیگر پلیٹ فارمز پر شیئر کر رہے ہیں، جس سے یہ احتجاج نا صرف بھارت بلکہ پوری دنیا میں پھیل چکا ہے اور بارت کے بڑے شہروں بمبئی، بنگلورو، پٹنہ اور لکھنؤ میں بھی نوجوان اس تحریک کے حق میں سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔
19 سالہ نہاریکا سونی نے الجزیرہ کو بتایا کہ وہ ابتدائی احتجاج میں شریک نہیں تھیں، لیکن سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیوز دیکھنے کے بعد انہوں نے احتجاج میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا۔ ان کے مطابق وہ اور ان کی والدہ، جو پہلے وزیر اعظم مودی کی حامی تھیں، ویڈیوز دیکھ کر جذباتی ہو گئیں اور اب روزانہ احتجاج میں شریک ہوتی ہیں۔
حکومتی پالیسیوں اور پولیس کے رویے سے نالاں یہ نوجوان روایتی طریقوں کے بجائے مزاح، طنز اور جدید ڈیجیٹل انداز کو اپنا رہے ہیں۔ مظاہرے میں شامل طلبا سڑکوں پر مشہور کارٹون کرداروں اور سپر ہیروز کا روپ دھارے نظر آتے ہیں، جب کہ پولیس اہلکاروں کو پھول پیش کر کے ان کے رویے پر طنز کیا جاتا ہے۔
20 سالہ احتجاجی طالبہ اپشیتا گلیاری کا کہنا ہے کہ موجودہ نوجوان نسل انٹرنیٹ کے ساتھ پلی بڑھی ہے اور اپنی بات اسی زبان میں کرتی ہے جو سوشل میڈیا پر زیادہ مؤثر سمجھی جاتی ہے۔
طلبا کا کہنا ہے کہ روایتی ٹی وی چینلز ان کے احتجاج کو پوری طرح سے نمایاں نہیں کر رہے، اس لیے وہ خود سوشل میڈیا کو اپنے مطالبات اور شفافیت کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔
حکومت پر تنقید کرنے والی تحریک کا نام بھی ایک طنز سے شروع ہوا۔ بھارتی چیف جسٹس کی جانب سے ایک موقع پر نوجوانوں پر کی گئی تنقید کے بعد ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے نام سے طلبا کے ایک گروپ نے جنم لیا۔ اس گروپ کا مطالبہ ہے کہ پرچوں کے افشا سے دلبرداشتہ ہو کر خودکشی کرنے والے طلبا کے خاندانوں کو معاوضہ دیا جائے، مظاہرین کے خلاف مقدمات نہ چلانے کی یقین دہانی، اور وزیر تعلیم اپنے عہدے سے مستعفی ہوں۔
وزیر اعظم نریندر مودی نے طلبہ احتجاج شروع ہونے کے بعد پہلی بار سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے ردعمل میں کہا کہ نوجوانوں کی فلاح اور مستقبل سے زیادہ اہم کوئی چیز نہیں۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے میں ملوث افراد کو سزا دلانے کے لیے فاسٹ ٹریک عدالتوں کے قیام سمیت اقدامات کیے ہیں۔
اس بیان کے بعد احتجاجی تحریک ”کاکروچ جنتا پارٹی“ کے رہنما ابھیجیت دیپکے نے ایکس پر وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کی تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا، ”ہیلو، میرا نام ’کچھ بھی نہیں‘ ہے۔“ دیپکے نے اس طنزیہ تبصرے کے ذریعے یہ مؤقف اختیار کیا کہ اگر واقعی نوجوانوں کی فلاح سب سے اہم ہے تو حکومت کو وزیر تعلیم کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے تھی۔ ان کی اس پوسٹ کے بعد سوشل میڈیا پر اس معاملے پر بحث میں مزید تیزی آگئی ہے۔













