ایران کا اردن میں امریکی اڈے پر بیلسٹک میزائل حملہ، ایف-35 طیارے تباہ کرنے کا دعویٰ

پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ کارروائی قشم میں امریکی حملے کے جواب میں کی گئی، امریکا نے دعوؤں پر تبصرہ نہیں کیا
اپ ڈیٹ 30 جولائ 2026 05:48pm

ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی ایرو اسپیس فورس نے اردن میں واقع امریکی الازرق فضائی اڈے پر بیلسٹک میزائل حملہ کر کے تین امریکی ایف-35 لڑاکا طیارے تباہ، مزید تین کو شدید نقصان پہنچایا اور متعدد امریکی فوجی اہلکاروں کو ہلاک کر دیا۔ ایرانی حکام کے مطابق یہ کارروائی قشم جزیرے میں رہائشی علاقے پر امریکی حملے کے جواب میں کی گئی۔

ایرانی خبر رساں ایجنسی ’تسنیم‘ کے مطابق پاسدارانِ انقلاب نے جمعرات کو جاری بیان میں کہا کہ اس کی ایرو اسپیس فورس نے اردن کے الازرق فضائی اڈے پر متعدد بیلسٹک میزائل داغے، جہاں امریکی فضائیہ کے ایف-35 لڑاکا طیارے موجود تھے۔

پاسدارانِ انقلاب کے مطابق یہ کارروائی جزیرہ قشم پر امریکی حملے کے جواب میں کی گئی، جس میں ایک ہی خاندان کے تین افراد، جن میں میاں، بیوی اور ان کا بچہ شامل تھا، جان سے گئے۔

بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ حملے کا ہدف طیاروں کی پارکنگ، مرمت اور دیکھ بھال کے لیے استعمال ہونے والا حصہ تھا، جہاں میزائل حملے کے نتیجے میں تین ایف-35 لڑاکا طیارے مکمل طور پر تباہ جب کہ مزید تین کو شدید نقصان پہنچا۔

پاسدارانِ انقلاب کے مطابق حملے میں متعدد امریکی فوجی افسران، تکنیکی ماہرین اور طیاروں کی دیکھ بھال پر مامور اہلکار بھی ہلاک ہوئے۔

پاسدارانِ انقلاب نے اردن کے عوام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ امریکی افواج خطے میں عدم استحکام کا باعث ہیں اور ان کی موجودگی کے خاتمے تک مزاحمت جاری رہے گی۔

بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ مشرقِ وسطیٰ معصوم شہریوں کو نشانہ بنانے والی فوج کے لیے جگہ نہیں ہے۔ خطہ امریکی فوج کی موجودگی کا متحمل نہیں ہوسکتا اور امریکی افواج کے انخلا تک کارروائیاں جاری رہیں گی۔

’رائٹرز‘ کے مطابق ان دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی، جب کہ امریکی حکام نے بھی اس حوالے سے فوری طور پر کوئی ردعمل جاری نہیں کیا۔

اردن کا الازرق فضائی اڈہ امریکی فضائیہ کے 332ویں ایئر ایکسپیڈیشنری ونگ کا اہم مرکز سمجھا جاتا ہے۔ اسی ماہ کے آغاز میں بھی ایران اس اڈے کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کر چکا ہے۔

اس سے قبل امریکا نے ایران کے جنوبی علاقوں میں قشم جزیرے، بوشہر، فارس اور خوزستان کے مختلف مقامات پر میزائل حملے کیے تھے۔

ایرانی میڈیا کے مطابق قشم کے چاہ تنگو علاقے میں ایک رہائشی مکان سب سے زیادہ متاثر ہوا، جہاں ایک ہی خاندان کے تین افراد جان کی بازی ہار گئے، جب کہ دیگر علاقوں میں بھی متعدد مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔

ہرمزگان یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز کے مطابق امریکی حملے میں ایک میاں بیوی اور ان کا دو سالہ بچہ جاں بحق ہوا، جب کہ 7 اور 9 سال عمر کے دو زخمی بچوں کو اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔

ایران نے قشم میں شہری ہلاکتوں کو امریکی کارروائی کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے اس حملے کو اپنے جوابی اقدامات کی ایک وجہ بتایا ہے، جب کہ خطے میں جاری فوجی کشیدگی کے باعث صورتِ حال بدستور انتہائی تناؤ کا شکار ہے۔

مشرقِ وسطیٰ میں امریکا اور ایران کے درمیان جاری فوجی کشیدگی کے دوران یہ حملہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست محاذ آرائی کا ایک اور اہم مرحلہ سمجھا جا رہا ہے، جس کے بعد خطے میں مزید کشیدگی کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔