افغانستان میں طالبان پر مزاحمتی گروپس کے حملے، کئی شہروں میں رِٹ چیلنج
افغانستان کے شمالی صوبے بدخشان میں طالبان مخالف مزاحمت میں نمایاں تیزی دیکھنے میں آئی ہے، جہاں مختلف مزاحمتی گروپوں نے حالیہ دنوں میں طالبان کی چیک پوسٹوں، ضلعی مراکز اور سیکیورٹی تنصیبات پر حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔
یورپی نشریاتی ادارے ریڈیو فری کے مطابق بدخشان اب طالبان حکومت کے لیے ایک نئے اور اہم سیکیورٹی چیلنج کے طور پر سامنے آ رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق حالیہ ہفتوں میں بدخشان کے مختلف اضلاع، جن میں یفتل، زیبک، ارگو اور کشم شامل ہیں، طالبان کے خلاف گوریلا کارروائیوں میں اضافہ ہوا ہے۔
ان حملوں میں طالبان کی عسکری چیک پوسٹوں، ضلعی دفاتر اور اہم چوراہوں کو نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد شمالی افغانستان میں طالبان کی عملداری اور سیکیورٹی صورتحال پر بھی سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
ریڈیو فری یورپ کے مطابق 29 جولائی کو مزاحمتی فورسز نے ضلع یفتل میں کارروائی کرتے ہوئے طالبان کے ضلعی مرکز، پولیس ہیڈکوارٹر اور انٹیلی جنس دفتر پر قبضہ کر لیا۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ مزاحمت کار اس کارروائی کے دوران اسلحہ اور متعدد گاڑیاں بھی اپنے قبضے میں لینے میں کامیاب رہے۔
اسی طرح 28 جولائی کو ارگو۔کشم چوراہے پر قائم طالبان کی ایک چیک پوسٹ راکٹ حملے کی زد میں آئی، جبکہ 24 جولائی کو ضلع زیبک میں ہونے والے حملوں کے دوران طالبان کی متعدد چیک پوسٹوں کو نشانہ بنایا گیا۔
ریڈیو فری یورپ کے مطابق ان حملوں میں طالبان کے کئی اہلکار ہلاک اور زخمی ہوئے، تاہم طالبان حکام نے ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق نہیں کی۔
ریڈیو فری یورپ کی نے بتایا کہ بدخشان میں طالبان کے سخت طرزِ حکمرانی، مقامی آبادی میں بڑھتی بے چینی اور اعتماد کے فقدان نے مزاحمت کو نئی قوت فراہم کی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان حکومت کو اب صرف پنجشیر ہی نہیں بلکہ بدخشان میں بھی مسلسل مزاحمتی دباؤ کا سامنا ہے، جس سے شمالی افغانستان میں طویل المدتی سیکیورٹی بحران کے خدشات بڑھ رہے ہیں۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بدخشان تاریخی طور پر طالبان مخالف مزاحمت کا اہم مرکز رہا ہے اور موجودہ مزاحمتی سرگرمیوں کو اسی تسلسل کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔
تجزیے کے مطابق مقامی آبادی، خصوصاً تاجک اکثریتی علاقوں میں طالبان کی پالیسیوں کے خلاف ناراضی میں اضافہ ہوا ہے، جس کے باعث بعض مزاحمتی گروپوں کو مقامی سطح پر حمایت بھی مل رہی ہے۔
ریڈیو فری یورپ کے مطابق بدخشان کے معدنی وسائل، خصوصاً سونے اور لاجورد کی کانوں پر کنٹرول کے تنازعات نے بھی کشیدگی میں اضافہ کیا ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ان وسائل پر کنٹرول کے معاملے نے طالبان کے لیے ایک نیا سیکیورٹی چیلنج پیدا کر دیا ہے اور یہی عوامل صوبے میں مزاحمتی سرگرمیوں کو مزید تقویت دے رہے ہیں۔
دوسری جانب طالبان حکومت نے بدخشان میں حالیہ حملوں اور مزاحمتی گروپوں کے بعض دعوؤں پر تاحال کوئی باضابطہ ردعمل جاری نہیں کیا، جبکہ ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق بھی نہیں ہو سکی ہے۔














