ایران کے خلاف جنگ کا حصہ نہیں بنیں گے: برطانوی وزیرِ خارجہ کی عباس عراقچی کو یقین دہانی
ایران نے برطانیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ امریکا کو فوجی اڈے استعمال کرنے کی اجازت سمیت دیگر پالیسیوں پر نظرثانی کرے۔ ایران اور برطانیہ کے وزرائے خارجہ کی گفتگو میں مشرقِ وسطیٰ کی صورت حال، آبنائے ہرمز اور ایران کے ساتھ سفارتی رابطوں کے مستقبل پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ایرانی وزارت خارجہ کی جانب سے ہفتے کے روز جاری بیان کے مطابق عباس عراقچی نے برطانوی وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ سے ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے خلاف امریکا سمیت جارح ممالک کے ساتھ تعاون ناقابلِ قبول ہے۔
عباس عراقچی نے کہا کہ بین الاقوامی قانون اور جارحیت کی تعریف سے متعلق قرارداد کے مطابق اگر کوئی ملک اپنی سرزمین یا سہولیات کسی جارح ریاست کو کسی دوسرے ملک پر غیر قانونی حملے کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دیتا ہے تو اسے بھی جارحیت تصور کیا جاتا ہے اور حملے کا نشانہ بننے والے ملک کو اپنے دفاع کا جائز حق حاصل ہوتا ہے۔
عباس عراقچی نے برطانوی ہم منصب سے گفتگو کے دوران برطانیہ کی جانب سے ایران کی پاسدارانِ انقلاب کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دینے کے اقدام اور امریکا و اسرائیل کی جانب سے ایران پر مسلط کی گئی جنگوں میں مبینہ معاونت کی مذمت کی۔
ایرانی وزیر خارجہ نے ایڈ ملی بینڈ سے گفتگو میں واضح کیا کہ برطانیہ کا ایران سے متعلق حالیہ مؤقف غیر منصفانہ ہے اور اس پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جارحیت ہی موجودہ علاقائی صورت حال کی بنیادی وجہ ہے۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ ایران نے نیتی دکھاتے کے ساتھ مذاکرات میں حصہ لیا تھا، 18 جون کو جنگ بندی سے متعلق ایک یادداشت پر اتفاق بھی ہوا تاہم امریکا نے ہمیشہ کی طرح اپنے وعدوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اس پر عمل درآمد روک دیا ہے۔
ایرانی وزیرِ خارجہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ایران آبنائے ہرمز سے بحری آمدورفت کے انتظام کے لیے عمان کے ساتھ عملی طریقۂ کار قائم کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ کسی تیسرے فریق کی جانب سے اس معاملے میں رکاوٹیں پیدا کرنے سے صورت حال مزید پیچیدہ ہوسکتی ہے۔
دوسری جانب برطانوی وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ نے کہا کہ برطانیہ ایران کے خلاف جنگ کا حصہ نہیں ہے اور وہ مسائل کے حل کے لیے سفارت کاری پر یقین رکھتا ہے۔
انہوں نے ایران کے ساتھ سفارتی روابط جاری رکھنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس سے دوطرفہ تعلقات میں بہتری اور خطے میں کشیدگی کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
واضح رہے کہ برطانیہ کے نئے وزیرِ اعظم اینڈی برنہم نے ایران پر حملوں کے لیے امریکی افواج کو برطانوی فوجی اڈے استعمال کرنے کی منظوری دی ہے۔ اس کے علاوہ برطانوی حکومت نے پاسدارانِ انقلاب کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا اور کسی بھی قسم کی معاونت یا مدد کرنے والے شخص کے لیے سخت سزاؤں کا اعلان کیا ہے۔














