اسلحہ کسی کے حوالے نہیں کریں گے بلکہ خود اسے محفوظ رکھیں گے: حماس

حماس نہ ماضی میں اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹی ہے اور نہ آئندہ ہٹے گی: حماس رہنما ڈاکٹر غازی حمد
شائع 01 اگست 2026 03:30pm

غزہ میں جاری جنگ کے خاتمے کے لیے زیرِ غور امن معاہدے پر مزاحمتی تنظیم حماس نے کہا ہے کہ یہ ایک ”مکمل پیکیج“ ہے جس کے کسی ایک حصے پر باقی نکات سے الگ عمل درآمد نہیں کیا جا سکتا، جبکہ اسرائیل کی جانب سے معاہدے کی تمام شقوں پر مکمل عمل درآمد کو ہی حماس کی ذمہ داریوں کی بنیاد قرار دیا گیا ہے۔

العربیہ ویب سائٹ کے مطابق حماس کے رہنما ڈاکٹر غازی حمد نے دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ حماس نے ثالث ممالک اور مختلف فلسطینی دھڑوں کے ساتھ طویل مشاورت کے بعد اس معاہدے پر رضامندی ظاہر کی، کیونکہ غزہ میں انسانی اور سیکیورٹی صورتحال انتہائی سنگین ہو چکی ہے اور موجودہ مرحلہ غیر معمولی فیصلوں کا تقاضا کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حماس اس معاہدے سے مطمئن نہیں، تاہم غزہ میں تباہی اور عوام کی مشکلات نے جنگ روکنے اور ایک نئے مرحلے کی طرف بڑھنے کے لیے راستہ تلاش کرنا ناگزیر بنا دیا ہے۔

غازی حمد کے مطابق یہ معاہدہ الگ الگ شقوں پر مبنی نہیں بلکہ ایک مربوط فریم ورک ہے، جس میں جنگ بندی، اسرائیلی فوج کا انخلا، انسانی امداد کی فراہمی، تعمیرِ نو، غزہ کی انتظامیہ اور سیکیورٹی انتظامات سمیت تمام معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ حماس کو ثالثوں کی جانب سے معاہدے پر عمل درآمد اور ضمانتوں کے حوالے سے مثبت یقین دہانیاں کرائی گئی ہیں، تاہم ماضی کے تجربات کے باعث تنظیم اب بھی محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہے۔ ان کے مطابق اسرائیل نے ماضی میں متعدد معاہدوں کی خلاف ورزی کی ہے اور حالیہ مہینوں میں امریکی ثالثی کی کوششوں کا بھی احترام نہیں کیا۔

حماس رہنما نے واضح کیا کہ اگر اسرائیل معاہدے کی کسی بھی شق کی خلاف ورزی کرتا ہے تو اس کا براہِ راست اثر حماس کی ذمہ داریوں پر بھی پڑے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر اسرائیل منصوبے کی شقوں پر عمل نہیں کرے گا تو ہم بھی اپنی ذمہ داریوں کی پابندی نہیں کریں گے۔

مذاکرات کے حساس ترین موضوع، یعنی فلسطینی مزاحمتی گروپوں کے اسلحے سے متعلق غازی حمد نے کہا کہ اس معاملے پر ثالثوں کے ساتھ طویل مذاکرات اور کئی ترامیم کے بعد اتفاق رائے پیدا کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق معاہدے میں اسلحہ اسرائیل کے حوالے کرنے کی کوئی شق شامل نہیں، بلکہ اسے طے شدہ طریقۂ کار کے تحت محفوظ رکھنے کی بات کی گئی ہے، جس کی نگرانی ایک قومی کمیٹی اور متفقہ فریق کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ حماس نے اس شق کا باریک بینی سے جائزہ لیا تاکہ اسے فلسطینی حقوق سے دستبرداری یا سیاسی ہتھیار ڈالنے کے طور پر نہ لیا جائے، جبکہ سیکیورٹی انتظامات پر عمل درآمد بھی ایک جامع ٹائم لائن کے تحت دیگر تمام ذمہ داریوں کے ساتھ منسلک ہوگا۔

غازی حمد نے اس بات پر بھی زور دیا کہ موجودہ معاہدہ حماس کے سیاسی مؤقف یا فلسطینی سرزمین کی واپسی کے قومی منصوبے سے دستبرداری کا اظہار نہیں کرتا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ حماس نہ ماضی میں اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹی ہے اور نہ آئندہ ہٹے گی، جبکہ غزہ کی آئندہ انتظامیہ نہ سنبھالنے کا مطلب بھی یہ نہیں کہ تنظیم کا سیاسی یا تنظیمی کردار ختم ہو جائے گا۔

واضح رہے کہ اس سے قبل سامنے آنے والے امن معاہدے کے مسودے میں غزہ کی انتظامیہ ایک آزاد قومی کمیٹی کے سپرد کرنے، اسلحے کو منظم کرنے، بھاری ہتھیاروں اور سرنگوں کے خاتمے کا عمل شروع کرنے، اسلحہ اسرائیل کے حوالے نہ کرنے، ایک بین الاقوامی استحکام فورس کی تعیناتی، تعمیرِ نو کے آغاز اور اسرائیلی فوج کے مرحلہ وار انخلا کی تجاویز شامل تھیں۔

غازی حمد کے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب حماس اور اسرائیل کے درمیان ابتدائی معاہدے تک پہنچنے کی اطلاعات سامنے آ چکی ہیں، تاہم معاہدے کی حتمی منظوری، عمل درآمد کے طریقۂ کار اور بین الاقوامی ضمانتوں سے متعلق مشاورت اب بھی جاری ہے۔

مجوزہ مسودے کے مطابق فریقین کی منظوری کے 14 روز کے اندر معاہدے پر عمل درآمد شروع کیا جائے گا، جس کے تحت غزہ کے لیے قومی کمیٹی قائم کی جائے گی، بین الاقوامی استحکام فورس تعینات ہوگی، تعمیرِ نو کا آغاز کیا جائے گا اور اسرائیلی فوج مرحلہ وار انخلا کرے گی۔ تاہم بین الاقوامی نگرانی کے نظام اور تمام فریقوں کی جانب سے معاہدے کی مکمل پابندی کی ضمانتوں سمیت چند اہم امور پر ثالثوں کے درمیان بات چیت ابھی جاری ہے، جبکہ اب حتمی منظوری اور باضابطہ شیڈول کے اعلان کا انتظار کیا جا رہا ہے۔