سانحہ بلدیہ ٹاؤن کیس میں رہائی پانے والا رحمان بھولا ایک بار پھر گرفتار

رحمان بھولا کو نارتھ ناظم آباد سے حراست میں لیا گیا ہے: پولیس ذرائع
اپ ڈیٹ 03 اگست 2026 08:54pm

سانحہ بلدیہ ٹاؤن فیکٹری کیس میں رہائی پانے والے متحدہ لندن کے سابقہ ٹارگٹ کلر رحمان عرف بھولا کو ایک بار پھر گرفتار کرلیا گیا ہے۔

کراچی میں ایم کیو ایم پاکستان کے مرکز بہادرآباد میں مصطفیٰ کمال اور خالد مقبول صدیقی گروپوں کے حامیوں کے درمیان تصادم کے بعد صورت حال بدستور کشیدہ ہے، فائرنگ اور کارکنوں کو زخمی کرنے کے الزامات کے تحت رحمان بھولا سمیت مختلف کارکنوں کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔

پولیس نے رحمان عرف بھولا کو نارتھ ناظم آباد سے حراست میں لیا ہے، جس کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی منظرعام پر آگئی ہے جب کہ ویڈیو میں پولیس کو رحمان بھولا کو گرفتار کرکے لے جاتے دیکھا جاسکتا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ رحمان بھولا کو گزشتہ روز ایم کیو ایم کے بہادر آباد مرکز میں ہونے والی فائرنگ کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔ خیال رہے کہ چند ہفتوں قبل سانحہ بلدیہ کیس سے رحمان عرف بھولا کو رہائی ملی تھی۔

دوسری جانب پولیس بہادرآباد مرکز کو دوبارہ سیل کرنے پہنچی تو ایم کیو ایم رہنما آڑے آگئے جب کہ رکن قومی اسمبلی شبیرقائم خانی نے ایس ایچ او نیو ٹاؤن کو بغیر تحریری آرڈر آفس سیل کرنے سے روک دیا۔

اس دوران وفاقی وزیر مصطفیٰ کمال بھی بہادرآباد مرکز پہنچے اور میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ کچھ سیل نہیں ہو رہا، معاملات باہمی طور پرحل کرلیے جائیں گے۔

اب تک ایم کیو ایم کے کسی بھی گروپ نے واقعے کے حوالے سے مقدمہ درج کرانے کے لیے باقاعدہ درخواست جمع نہیں کرائی جب کہ پولیس مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ رات بہادرآباد مرکز پر خالد مقبول صدیقی گروپ کا اجلاس جاری تھا کہ انیس قائم خانی اپنے کارکنان کے ہمراہ اجلاس کے مقام پر پہنچے، انیس قائم خانی کی آمد پر تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا اور بعد ازاں خالد مقبول صدیقی کے اجلاس سے روانہ ہونے کے بعد دونوں گروپوں کے کارکن آمنے سامنے آگئے۔

تصادم کے دوران ہاتھا پائی ہوئی اور صورت حال کشیدہ ہوگئی، اس دوران نجی چینل کے ایک کیمرہ مین کو فائرنگ کی ویڈیو بنانے پر کارکنان نے مرکز میں نظر بند کرکے تشدد کا نشانہ بنایا اور کیمرہ چھین لیا تاہم خبر نشر ہونے پر کیمرہ مین کو یہ تنبیہ کر کے چھوڑ دیا گیا کے اگر ویڈیو منظر عام پر آئیں تو اچھا نہیں ہو گا، ہم تمہیں جانتے ہیں۔

کشیدہ صورت حال کے فوری بعد چیئرمین ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے رات گئے ایک ہنگامی پریس کانفرنس کا اعلان کیا اور دس پندرہ منٹ کے بعد وہ پریس کانفرنس بھی اچانک ملتوی کرنے کا اعلان کردیا۔

پارٹی ذرائع کےمطابق ایم پی اے حافظ اعجاز الحق اور رکن قومی اسمبلی صبین غوری کے ساتھ بھی بدتمیزی کے بعد فائرنگ کا واقعہ بھی پیش آیا تھا، گولیوں کی گھن گرج سے رات گئے تک علاقے میں خوف وہراس رہا۔